موضوع: امریکہ۔ ایران نیوکلیائی معاہدے سے یکطرفہ انحراف ایک غیردانشمندانہ فیصلہ

 ایران پر امریکہ کی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کے سامنے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔یوروپی یونین،چین،روس،ہندوستان سمیت تمام اہم ممالک کی اس سلسلے میں امریکہ کے اس اقدام سے روکنے کی کوششیں لاحاصل ثابت ہوئی ہیں۔سب سے اہم بات یہ کہ عالمی برادری کے سامنے یہ مسئلہ درپیش ہے کہ وہ اپنے اور امریکی مفادات میں سے کس کا انتخاب کرے اور امریکی پابندیوں کی روشنی میں ایران سے اپنے سفارتی رشتوں کو کس طرح خوش اسلوبی سے برقرار رکھے۔
امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کا روز اول سے ہی یہ اصرار رہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کرکے اس سلسلے میں کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔اس الزام کا کوئی ثبوت نہ ہونے اور عالمی برادری کے سمجھانے کے باوجود امریکہ خود کو ایران کے ساتھ کیے گئے ۶ ممالک کے نیو کلیائی معاہدے سے الگ کر چکاہے۔مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امریکہ ایران سے اپنے رشتے کیسے رکھنا چاہتا ہے۔ظاہر ہے یہ امریکہ کا اپنا معاملہ ہے،لیکن دشواری یہ ہے کہ امریکہ نے جس طرح ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں اس کا منفی اثر اس کے دوست ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔ان پابندیوں نے عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔اس لیے کہ ایران کی پابندیوں کے دباؤ میں جو ممالک ایران کی بجائے دیگر ممالک سے تیل خرید رہے ہیں اس کی انھیں زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ان پابندیوں سے خود امریکی معیشت کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،لیکن بہرحال اس کے لیے ٹرمپ عالمی برادری سے زیادہ خود اپنے ملک کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔البتہ جہاں تک باقی دنیا پر ان پابندیوں کے سبب پڑنے والے بوجھ کا تعلق ہے تو اس کے لیے امریکہ کو عالمی برادری کے سامنے جواب دینا چاہیے کہ آخر پوری دنیا کیوں امریکی پابندیوں کو مان کر اپنے اپنے قومی مفاد کو قربان کرے۔
 ہندوستان امریکہ کا ایک قریبی دوست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں امریکی دوستی کے سامنے قومی مفادات کو نظر انداز کر دینا چاہیے؟جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایران ہندوستان کا قابل اعتماد پڑوسی ہے اور دونوں مالک کے دوطرفہ رشتوں کی شاندار تاریخ ہے۔دونوں ممالک کئی ایسے مشترکہ پرجیکٹوں پر کام کر رہے ہیں کہ جن کے سبب ہندوستانی معیشت کو بھی استحکام اور مضبوطی ملنے کا قوی امکان ہے۔ان حالات میں امریکی دباؤ کے سامنے ایران سے تیل کی خریداری کم کرنے سے نہ صرف ہمیں معاشی و اقتصادی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ اس کے نتیجے میں ہم اپنے ایک اچھے علاقائی دوست سے بھی بے سبب رشتے خراب کر لینگے۔ٹرمپ انتظامیہ کے تازہ قدم سے ان ممالک مین بھی ناراضگی ہے کہ جو ۵۱۰۲ کے جوہری معاہدے میں شامل تھے۔چین اور روس نے تو خصوصاً اس معاملے میں امریکہ پر انگلی اٹھائی ہے۔دراصل امریکہ کی اقتصادی پابندیاں عائد ہونے کے بعد ایران نے بھی اپنے موقف کو سخت کرتے ہوئے جوہری معاہدے کے باقی پانچ فریقوں کو خط لکھ کر دھمکی دی ہے کہ اگر نھوں نے معاہدے پر عمل نہیں کیا تو ایران بھی خود کو جوہری معاہدے سے جزوی طور پر الگ کر لیگا۔۔اگر واقعی ایران ایسا کرتا ہے تو وہ اپنی جوہری توانائی کا استعمال جوہری اسلحہ کے لیے کرنے کے معاملے میں بھی آزاد ہو جائیگا۔کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔یہی سبب ہے کہ روس نے ایران کے اس موقف پر رد عمل میں اس کے لیے امریکہ کو بھی ذمہ دار مانا ہے۔ایران نے ایک خط کے ذریعہ جوہری معاہدے میں شامل باقی پانچ ممالک سے کہا ہے کہ اگر انھوں نے دو ماہ میں معاہدے پر عمل نہیں کیا تو ایران بھی اس سے جزوی طور پر پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ فرانس اور جرمنی جیسے ممالک نے ایران سے معاہدے پر قائم رہنے کے لیے کہا ہے۔ ان ممالک کی یہ بھی کوشش ہے کہ مذکورہ معاہدہ کسی بھی صورت میں برقرار رہے،لیکن اصل مسئلہ ٹرمپ کا موقف ہے جو کسی بھی صور ت میں ایران کو اس بہانے سے جھکانا چاہتے ہیں اور اس کے دنیا خصوصاً ایشائی ممالک پر پڑنے والے اقتصادی ودیگر اثرات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔خود امریکہ کے بھی اس کے نتیجے میں اپنے یوروپی حلیفوں سے تعلقات میں بگاڑ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
 جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت امریکہ سے ہندوستان کے تعلقات کافی اچھے ہیں اور کئی اہم ایشوز پر امریکہ کہ حمایت بھی ہندوستان کو حاصل ہوئی ہے،لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ایران پر امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کا لازمی اثر ہماری معیشت پر بھی پڑیگا۔ہندوستان کو ان پابندیوں کے نتیجے میں تیل کی خریداری کے دیگر متبادل پر غور کرنا پڑ رہا جس کا منفی اثر ملک معیشت پر پڑیگا۔دوسری طرف ایران سے سفارتی رشتوں پر بھی اس کا اثر کسی نہ کسی حد تک پڑنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ان حالات میں بہتر راستہ یہی ہے کہ ہم امریکہ یا ایران کے ساتھ دوستانہ رشتوں کو نبھانے کے ساتھ اپنے قومی مفادات کو سب سے اوپر رکھتے ہوئے ہی کوئی فیصلہ کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ