پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو جان کا خطرہ
پاکستان میں مذہب، زبان، نسل اور علاقوں کی بنیاد پر اپنے ہی شہریوں کو انسانی حقوق سے محروم رکھنے کی ایک پوری تاریخ موجود ہے۔ کبھی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو کبھی لسانی اقلیتوں کے ساتھ۔ کبھی کسی تہذیبی اکائی کو اس کا شکار بننا پڑتا ہے تو کبھی کسی خطے کے عوام کو۔ غرضیکہ پاکستان میں حکومت خود وہ کام کرتی ہے جو دوسرے ملکوں میں عام طور پر دشمن طاقتیں کرتی ہیں۔ آجکل پشتون نسل کے لوگ ظلم و زیادتی کے نشانے پر ہے۔ اس گروپ کے حقوق کی جنگ لڑنے والی پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں کو جس طرح ہدف بنایا جا رہا ہے وہ اسی تاریخی روایت کا ایک حصہ ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان کی مجموعی آبادی دوسو سات ملین ہے اور پشتون آبادی 30 ملین ہے جو کہ ملک کی دوسری بڑی آبادی ہے۔ اس آبادی کا مطالبہ ہے کہ اس کے حقوق اسے فراہم کیے جائیں اور اب تک اس کے ساتھ جو ناانصافی ہوتی آئی ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔ اس کے لیے ایک عرصے سے تحریک چلائی جا رہی ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں پشتونوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ اور تیز ہو گیا ہے۔ ہزاروں پشتون افراد جبریہ لاپتہ کر دیے گئے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ یا پی ٹی ایم کا مطالبہ ہے کہ ایسے تمام افراد کو عدالتی کارروائیوں کے ساتھ انصاف فراہم کیا جائے اور جو عناصر ان کی گمشدگی کے ذمہ دار ہوں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ شمال مغربی علاقے اور پورے ملک میں ان کے ساتھ جس طرح دوسرے درجے کے شہریوں کی مانند سلوک کیا جا رہا ہے اس کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ایسے پشتون باشندوں کی بھی بڑی تعداد ہے جن کو ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا ہے۔ ان پر غیر ملکی طاقتوں کی مدد سے شورش پسندی برپا کرنے کا الزام لگا کر ان کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ پی ٹی ایم کی خبروں کا بلیک آوٹ کیا جاتا ہے اور اگر کوئی میڈیا گروپ ان کی خبروں کو نشر کرتا ہے تو اسے ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ فوج کی جانب سے پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اس تحریک کو افغانستان سے جوڑ دیا جائے جہاں پشتون اکثریت میں ہیں۔ افغانستان نے پشتون تحفظ موومنٹ کی تحریک اور پشتونوں کی بیداری کا خیرمقدم کیا ہے۔ لیکن پاکستانی فوج تحریک کے ذمے داروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس نے گزشتہ دنوں تحریک کے خلاف جنگ چھیڑنے تک کا اعلان کر دیا۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے تحریک پر ہندوستان اور افغانستان سے فنڈ حاصل کرنے تک کا الزام لگایا۔ ادھر ایک دس سالہ بچی فرشتہ مہمند کے اغوا، زیادتی اور قتل کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج جاری ہے۔ حکومت اس احتجاج کو کسی بھی قیمت پر ختم کرانا چاہتی ہے۔ جبکہ انصاف کے لیے آواز بلند کرنے کی وجہ سے پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرم خاتون رکن گلالئی اسماعیل کے خلاف اسلام آباد میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان پر پاکستان مخالف تقاریر اور پشتون عوام کے دلوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی بنیاد سوشل میڈیا پر جاری ہونے والا وہ ویڈیو ہے جس میں گلالئی اسماعیل کا کہنا تھا کہ پشتونوں کے خلاف لگاتار مظالم کیے جا رہے ہیں اور جنگ کے نام پر فاٹا میں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بچوں کے ساتھ زیادتی کا الزام پاکستانی فوج کے اہلکاروں پر لگایا تھا۔ حکومت نے اگر چہ دس سالہ بچی فرشتہ کے قتل کے خلاف کارروائی تو کی ہے لیکن وہ پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو اس سلسلے میں چلنے والی تحریک سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ پولیس نے ایک تحریری بیان میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کو متنبہ کیا ہے کہ ایسی انٹیلی جینس رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ افغانستان کے دہشت گرد ان کو ہدف بنا سکتے ہیں۔اس سلسلے میں چار رہنماؤں کے نام خصوصی طور پر لیے گئے ہیں۔ پولیس کے تحریری بیان میں انھیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر نہ کریں، اپنے سفر کا پروگرام کسی کو نہ بتائیں، عوامی اجتماعات سے اجتناب کریں اور اپنے گھر بار کے تحفظ کا خاص خیال رکھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو سرکاری گارڈ فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما علی وزیر اسے کوحکومت کی کوئی سازش سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں تو محافظ دینے کی بات کی جا رہی ہے لیکن ہم اس کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دراصل حکومت محافظ فراہم کرنے کی آڑ میں ہمارا خاتمہ چاہتی ہے۔ کیونکہ بقول ان کے اگر محافظ کی موجودگی میں ہمارا قتل ہو جاتا ہے تو حکومت اس کی ذمہ داری سے بچ جائے گی۔ انھوں نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر ہمیں کوئی نقصان پہنچتا ہے تو حکومت اور انٹیلی جینس ادارے اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ انتباہ ایسے وقت دیا جا رہا ہے جب 10 سالہ معصوم بچی، فرشتہ مہمند کو انصاف فراہم کرنے کے مطالبے پر اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایسے خدشات اس لیے ظاہر کیے جا رہے ہیں تاکہ انھیں گھروں میں محصور کر دیا جائے۔ گویا حکومت کسی بھی قیمت پر پشتون تحریک موومنٹ کے ذمہ داروں کو خاموش کرانا چاہتی ہے۔ یہ بھی ایک قسم کا جبر ہے جو پی ٹی ایم کے ذمہ دار جھیلنے پر مجبور ہیں۔
Comments
Post a Comment