مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا اشارہ


ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بدلتے وقت کی مناسبت سے اس کی پالیسیاں تبدیل ہوتی رہیں، حکومت حالات کے مطابق اپنی ترجیحات متعین کرے۔ 2014 میں دنیا کے اور علاقائی حالات کچھ اور تھے اور 2019 میں کچھ اور ہیں، چنانچہ حکومت ہند کی ترجیحات 2019 میں بھی وہی نہیں ہو سکتیں جو 2014 میں تھیں، اس بار وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں اسی لیے صرف پڑوسی ملکوں کے سربراہوں کو ہی مدعو نہیں کیا گیا، دیگر اہم ملکوں کے سربراہوں کو بھی مدعو کیا گیا مگر حلف برداری کی تقریب میں بنگلہ دیش، بھوٹان، میانمار، نیپال اور تھائی لینڈ کے سربراہوں کو شرکت کی دعوت مودی حکومت کی ’پڑوسی پہلے‘پالیسی کا ہی تسلسل ہے۔

تیزی سے بدلتے عالمی حالات کے مدنظر ہندوستان کی ترقی کے لیے نئے امکانات کی تلاش ضروری ہے، امکانات کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، ہندوستان کی ترقی کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع ہو جائے گا، چنانچہ نئی حکومت نے وقت ضائع کیے بغیر حلف برداری کی تقریب سے ہی یہ اشارہ دے دیا ہے کہ پڑوسیوں کی اہمیت اس کے لیے مسلم ہے مگر وہ ممالک بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہیں جو ہندوستان سے مستحکم تعلقات رکھنا چاہتے ہیں اور باہمی تعاون کو بڑی اہمیت دیتے ہیں، چنانچہ حلف برداری کی تقریب میں 6 بمسٹیک ملکوں کے سربراہوں کو بھی مدعو کیا گیا۔ اسی لیے بمسٹیک کو سارک کے متوقع متبادل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اس طرح دیکھنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں سارک بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔

ہندوستان نے بڑی کوشش کی کہ اس کے سبھی پڑوسی متحد رہیں، وہ ایک دوسرے کا تعاون کریں، وزیراعظم مودی خیرسگالی کے اظہار کے لیے ہی پاکستان گئے تھے، پاکستان کی طرف سے اس کا مثبت جواب دونوں ملکوں کے تعلقات کو مستحکم بنا دیتا لیکن پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کی دہشت گردانہ وارداتیں ہندوستان میں جاری رہیں اور ان کی وجہ سے نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوئے بلکہ سارک میں بھی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ ایسی صورت میں فطری طور پر بمسٹیک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور غالباً اسی لیے حلف برداری کی تقریب کے مدعوئین میں بمسٹیک ملکوں کو اہمیت دی گئی۔ ہندوستان، بنگلہ دیش، میانمار، سری لنکا، نیپال اور بھوٹان کے ساتھ تھائی لینڈ بھی بمسٹیک کا حصہ ہے۔ اس وقت آسیان کی صدارت تھائی لینڈ کے پاس ہی ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں اسے مدعو کر کے ہندوستان نے ’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسی کی طرف ایک قدم اور بڑھایا ہے۔ یہ اس کی مشرقی ایشیا تک پہنچنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

حلف برداری کی تقریب سے ہی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ وہ اپنی امید کا دائرہ پڑوسیوں تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہتے، چنانچہ ان کی حلف برداری کی تقریب میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے چیئرپرسن کرغزستان کے صدر سورنبائی جینبیکوف کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ہند نے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا ہے۔

ماریشس کے وزیراعظم پروِند کمار جگن ناتھ شام ہیں۔ انہوں نے اسی سال جنوری میں منعقد ہوئے ’پَرَواسی بھارتیہ کانفرنس‘ میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی تھی۔ ان کو مدعو کیا جانا ہندوستان اور ماریشس کے مستحکم تعلقات کا ثبوت ہے اور اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ حکومت ہند کی توجہ سے یہ خطہ محروم نہیں۔ وہ ہندوستان اور ماریشس کے تاریخی اور ثقافتی تعلقات سے اچھی طرح واقف ہے اور باہمی تعاون کے ایک نئے دور کی شروعات کرنا چاہتی ہے۔ ایسا ہونے پر فائدہ دونوں ملکوں کو ہوگا، یہ بات پروِند کمار جگن ناتھ بھی جانتے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی کی دوسری مدت کار کے لیے منعقد ہونے والی حلف برداری کے شرکا پر ایک سرسری نظر ڈالنے پر بھی یہ بات فہم سے بالاتر نہیں رہ جاتی کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں آج بھی پڑوسی ممالک ہی سرفہرست ہیں مگر وزیراعظم نریندر مودی ان ملکوں سے بھی مستحکم تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں جن کے لیے ہندوستان سے رشتہ اور باہمی تعاون کی بڑی اہمیت ہے، اس لیے ہندوستان کی پالیسی کو سارک اور بسمٹیک تک محدود کرکے دیکھنا مناسب نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ