دہشت گردوں اور پاکستان کے رشتوں پر اوبامہ کی حق گوئی
امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ نے اپنی کتاب’’اے پرومسڈ لینڈ‘‘ میں پاکستان اور دہشت گرد تنظیموں کے رشتوں کے تعلق سے جو کچھ کہا ہے اس میں کوئی چونکانے والی بات بھلے ہی نہ ہو لیکن بھارت،افغانستان اور عالمی برادری کے ان الزامات کی، ان انکشافات سے تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ وتربیت گاہ ہے اور پاکستانی فوج و حکومت کی سرپرستی و حمایت بیشتر دہشت گرد تنظیموں کو حاصل ہے۔
اپنی مذکورہ کتاب میں سابق صدر نے ان تمام واقعات کا سلسلہ وار ذکر کیا ہے جو اوسامہ بن لادن کے خلاف پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کیے گئے امریکہ کے آپریشن کےدوران پیش آئے تھے۔ واضح رہے کہ امریکی کمانڈوز کے ذریعہ 2 مئی 2011 کو کیے گئے اس آپریشن میں اوسامہ بن لادن ہلاک ہو گیا تھا اور اس کے کئی دیگر ساتھی بھی مارے گئے تھے۔ اوبامہ نے ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ کے ذرائع سے اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ اوسامہ بن لادن پاکستان میں محفوظ کمین گاہوں میں پناہ لیے ہوئے ہے،اسے ختم کرنے کے کئی متبادل تھے۔ امریکہ پر یہ واضح ہو چکا تھا کہ لادن پاکستان کے دور دراز کے علاقے میں پاکستانی فوج کی چھاؤنی ایبٹ آبادمیں چھپا ہوا ہے۔ اس معاملے میں سب سے اہم بات آپریشن کو پوری طرح خفیہ رکھنا تھا۔اس لیے اس میں پاکستان کو شامل نہیں کیا گیا،حالانکہ حکومت پاکستان ہمیں دہشت گردی کے خلاف کیے گئے آپریشنز میں مدد کرتی رہی تھی لیکن یہ بھی ایک کھلا ہوا راز تھا کہ پاکستانی فوج کے کچھ عناصر دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں۔ خصوصاً خفیہ ایجنسی اور القاعدہ و طالبان کے خفیہ رابطے جگ ظاہر تھے۔اس کے سبب افغانستان کمزور ہو رہا تھا اور بھارت سے اس کے رشتے متاثر ہو رہے تھے جبکہ پاکستان ان دہشت گردوں کا استعمال اپنے روایتی دشمن یعنی بھارت کے خلاف کر رہا تھا۔ حالانکہ اوبامہ نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اس آپریشن کے بعد پاکستان کی سیاسی قیادت نے اظہار اطمینان کیا اور آپریشن کی کامیابی کی امریکہ کو مبارکباد بھی دی۔
اوبامہ کے مذکورہ اعترافات نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت پاکستان اور دہشت گردوں کے آپسی رشتوں کے تعلق سے جو کچھ کہتا رہا ہے وہ محض الزام نہیں بلکہ ٹھوس حقیقت ہے۔ القاعدہ اور طالبان دنیا اور خصوصاً جنوبی ایشیا کے امن و امان کو کس طرح تباہ کرتے رہے ہیں اسے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ بھارت کا واضح طور پر یہ موقف رہا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردی پھیلانے میں پاکستان خصوصاً پاکستانی فوج کا کلیدی رول رہا ہے اور وہ دہشت گرد عناصر کی ہر طرح پشت پناہی کرتی رہی ہے، انھیں تربیت دیتی رہی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ پاکستانی فوج اپنے ملک میں بھی جمہوریت کو ختم کرنے اور فوجی حکومت تھوپنے کی سازشیں کرتی رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس کا واضح ثبوت ہے۔اب اوبامہ نے اپنی کتاب میں اس بات کے واضح اشارے دیکر بھارت کے الزامات کو درست ثابت کر دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کی آماجگاہ بنانے کے لیے بڑی حد تک فوج ہی ذمہ دار ہے۔ حالانکہ یہ درست ہے کہ پاکستانی سیاست میں بھی ایسے عناصر کی کمی نہیں کہ جو اپنی بھارت دشمنی کے سبب پاکستانی فوج کی اندھی حمایت کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی فوج کے گہرے رشتوں کی بات کسی سے چھپی نہیں ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں عمران حکومت کو اس بات کے لیے نشانہ بھی بناتی رہی ہیں۔ بہرحال اوبامہ نے اپنی مذکورہ کتاب میں پاکستانی فوج کو جس طرح کٹہرے میں کھڑا کیا ہے وہ کسی بھی جمہوریت کے مدعی ملک کے لیے شرمناک ہے۔ لیکن یہ مان لینا کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستانی فوج کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا دہشت گردوں کی حمایت سے اس نے توبہ کر لی ہے، درست نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی پاکستانی فوج اور دہشت گرد تنظیموں کے قریبی رشتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت پاکستان پر تمام بین الاقوامی تنظیموں کا اس بات کے لیے دباؤ ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف واضح طور پر سخت موقف اپنائے اور ان کی مالی و دیگر طرح سے اعانت بند کرے،اس دباؤ میں چند قدم اٹھائے بھی گئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے دباؤ میں عمران حکومت دہشت گردوں کے تئیں اب بھی نرم گوشہ رکھتی ہے۔ درحقیقت پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ فوج کو پوری طرح سیاسی قیادت کے کنٹرول میں دیا جائے اور اس سے اس طرح نہ پیش آیا جائے کہ وہ ملک کے داخلی معاملات میں بھی اسٹیک ہولڈر ہے۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کو بھی اس معاملے میں اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ دوسری طرف عالمی برادری کو بھی پاکستان اور دہشت گردوں کے رشتوں پر زیادہ سخت موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ صرف اوسامہ بن لادن کے خلاف ایک ا ٓپریشن کر دینے سے پاکستان میں دہشت گردی کی تربیت گاہیں بند نہیں ہو گئی ہیں۔ ابھی اس معاملے میں بہت کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے۔
اپنی مذکورہ کتاب میں سابق صدر نے ان تمام واقعات کا سلسلہ وار ذکر کیا ہے جو اوسامہ بن لادن کے خلاف پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کیے گئے امریکہ کے آپریشن کےدوران پیش آئے تھے۔ واضح رہے کہ امریکی کمانڈوز کے ذریعہ 2 مئی 2011 کو کیے گئے اس آپریشن میں اوسامہ بن لادن ہلاک ہو گیا تھا اور اس کے کئی دیگر ساتھی بھی مارے گئے تھے۔ اوبامہ نے ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ کے ذرائع سے اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ اوسامہ بن لادن پاکستان میں محفوظ کمین گاہوں میں پناہ لیے ہوئے ہے،اسے ختم کرنے کے کئی متبادل تھے۔ امریکہ پر یہ واضح ہو چکا تھا کہ لادن پاکستان کے دور دراز کے علاقے میں پاکستانی فوج کی چھاؤنی ایبٹ آبادمیں چھپا ہوا ہے۔ اس معاملے میں سب سے اہم بات آپریشن کو پوری طرح خفیہ رکھنا تھا۔اس لیے اس میں پاکستان کو شامل نہیں کیا گیا،حالانکہ حکومت پاکستان ہمیں دہشت گردی کے خلاف کیے گئے آپریشنز میں مدد کرتی رہی تھی لیکن یہ بھی ایک کھلا ہوا راز تھا کہ پاکستانی فوج کے کچھ عناصر دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں۔ خصوصاً خفیہ ایجنسی اور القاعدہ و طالبان کے خفیہ رابطے جگ ظاہر تھے۔اس کے سبب افغانستان کمزور ہو رہا تھا اور بھارت سے اس کے رشتے متاثر ہو رہے تھے جبکہ پاکستان ان دہشت گردوں کا استعمال اپنے روایتی دشمن یعنی بھارت کے خلاف کر رہا تھا۔ حالانکہ اوبامہ نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اس آپریشن کے بعد پاکستان کی سیاسی قیادت نے اظہار اطمینان کیا اور آپریشن کی کامیابی کی امریکہ کو مبارکباد بھی دی۔
اوبامہ کے مذکورہ اعترافات نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت پاکستان اور دہشت گردوں کے آپسی رشتوں کے تعلق سے جو کچھ کہتا رہا ہے وہ محض الزام نہیں بلکہ ٹھوس حقیقت ہے۔ القاعدہ اور طالبان دنیا اور خصوصاً جنوبی ایشیا کے امن و امان کو کس طرح تباہ کرتے رہے ہیں اسے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ بھارت کا واضح طور پر یہ موقف رہا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردی پھیلانے میں پاکستان خصوصاً پاکستانی فوج کا کلیدی رول رہا ہے اور وہ دہشت گرد عناصر کی ہر طرح پشت پناہی کرتی رہی ہے، انھیں تربیت دیتی رہی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ پاکستانی فوج اپنے ملک میں بھی جمہوریت کو ختم کرنے اور فوجی حکومت تھوپنے کی سازشیں کرتی رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس کا واضح ثبوت ہے۔اب اوبامہ نے اپنی کتاب میں اس بات کے واضح اشارے دیکر بھارت کے الزامات کو درست ثابت کر دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کی آماجگاہ بنانے کے لیے بڑی حد تک فوج ہی ذمہ دار ہے۔ حالانکہ یہ درست ہے کہ پاکستانی سیاست میں بھی ایسے عناصر کی کمی نہیں کہ جو اپنی بھارت دشمنی کے سبب پاکستانی فوج کی اندھی حمایت کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی فوج کے گہرے رشتوں کی بات کسی سے چھپی نہیں ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں عمران حکومت کو اس بات کے لیے نشانہ بھی بناتی رہی ہیں۔ بہرحال اوبامہ نے اپنی مذکورہ کتاب میں پاکستانی فوج کو جس طرح کٹہرے میں کھڑا کیا ہے وہ کسی بھی جمہوریت کے مدعی ملک کے لیے شرمناک ہے۔ لیکن یہ مان لینا کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستانی فوج کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا دہشت گردوں کی حمایت سے اس نے توبہ کر لی ہے، درست نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی پاکستانی فوج اور دہشت گرد تنظیموں کے قریبی رشتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت پاکستان پر تمام بین الاقوامی تنظیموں کا اس بات کے لیے دباؤ ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف واضح طور پر سخت موقف اپنائے اور ان کی مالی و دیگر طرح سے اعانت بند کرے،اس دباؤ میں چند قدم اٹھائے بھی گئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے دباؤ میں عمران حکومت دہشت گردوں کے تئیں اب بھی نرم گوشہ رکھتی ہے۔ درحقیقت پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ فوج کو پوری طرح سیاسی قیادت کے کنٹرول میں دیا جائے اور اس سے اس طرح نہ پیش آیا جائے کہ وہ ملک کے داخلی معاملات میں بھی اسٹیک ہولڈر ہے۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کو بھی اس معاملے میں اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ دوسری طرف عالمی برادری کو بھی پاکستان اور دہشت گردوں کے رشتوں پر زیادہ سخت موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ صرف اوسامہ بن لادن کے خلاف ایک ا ٓپریشن کر دینے سے پاکستان میں دہشت گردی کی تربیت گاہیں بند نہیں ہو گئی ہیں۔ ابھی اس معاملے میں بہت کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے۔
Comments
Post a Comment