موضوع: ہند-بحرین تعلقات
ہندوستان اور بحرین کے درمیان کافی مضبوط تجارتی، ثقافتی اور اسٹریٹیجک تعلقات ہیں جن کی بنیاد تاریخی ، دو طرفہ تجارتی اور عوامی رشتے ہیں۔ اگرچہ رقبہ کے لحاظ سے بحرین بہت چھوٹا ملک ہے تاہم اسٹریٹیجک اعتبار سے اسکی کافی اہمیت ہے ۔ یہ خلیج کے جنوب مغرب میں واقع ہے جو علاقہ کی سلامتی اور استحکام کیلئے کافی اہم ہے۔ بحرین ترقی کے عرب گلف ماڈل کا بھی سرخیل ہے۔ پیٹرول اور دوسری اشیاء کی دو طرفہ تجارت کے علاوہ اس ملک میں تقریباً تین لاکھ ہندوستانی رہتے ہیں جنہوں نے اپنے میزبان ملک کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اور جن کے مقامی لوگوں سے کافی خوشگوار تعلقات ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جنہوں نے پچھلے سال اگست میں بحرین کا دورہ کیا تھا، دونوں ملکوں کے تعلقات نے نئی بلندیاں طے کی ہیں۔ جناب مودی پہلے ہندوستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے اس ملک کا دورہ کیا تھا۔ ہندوستان اور بحرین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں ان کی کوششوں کے اعتراف میں شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے انہیں بحرین آرڈر فرسٹ کلاس کے اعزاز سے نوازا تھا۔ جناب مودی کے بحرین دورے کے دوران دونوں ملکوں نے چار مفاہمت ناموں پر دستخط کئے جن میں اسرو اور بحرین کی نیشنل اسپیس اینڈ سائنس ایجنسی کے درمیان تعاون کے بارے میں بھی مفاہمت نامہ شامل ہے۔ ان مفاہمت ناموں پر دستخط کئے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بہتر ہوئے ہیں۔
ہندوستان اور بحرین نے کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم مودی اور شاہ حماد نے اس سال اپریل میں ٹیلی فون پر بات چیت کی ۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کیلئے دونوں ملکوں کے حکام ایک دوسرے کے رابطے میں رہیں گے۔ بحرین ان ملکوں میں سے بھی تھا جنہیں بھارت نے سب سے پہلے ہائیڈروکسی کلوروکوین ارسال کی تھی تاکہ وباء کا مقابلہ کرنے میں ان ملکوں کی مدد کی جا سکے۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس ہفتے بحرین کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ان چند دوروں میں سے تھا جنہیں وزیر خارجہ نے حالیہ مہینوں میں کیا تھا کیونکہ کووڈ-19 کی وباء کے باعث بین الاقوامی پروازیں بند تھیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جناب جے شنکر کا وزیر خارجہ کی حیثیت سے بحرین کا یہ پہلا دورہ تھا۔ حالانکہ ایک سفارتکار کی حیثیت سے اپنی مدت کار کے دوران انہوں نے خلیج کے ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو فروغ دینے میں کافی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ جناب جے شنکر کا دو روزہ دورہ کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے سے ایسے دور میں دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی جب تمام دنیا کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ بحرین کے اپنے ہم منصب ڈاکٹر عبدالطیف بن راشد الزیانی سے بات چیت کے دوران دونوں ملکوں نے دفاع، خلائی ٹکنالوجی، تجارت وسرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچہ، اطلاعاتی ٹکنالوجی، صحت ، ہائیڈروکاربن، قابل تجدید توانائی اور بحری سلامتی کے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے سے اتفاق کیا ۔ جناب جے شنکر نے اپنے بحرینی ہم منصب کو ہند-بحرین اعلیٰ مشترکہ کمیشن کی تیسری میٹنگ میں شرکت کرنے کے لئے نئی دہلی بھی مدعو کیا جو آئندہ مہینوں میں ہونے والی ہے۔امید ہے کہ اس بدلتی ہوئی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں یہ دورہ خلیج کے ملکوں کے ساتھ ہندوستان کی شراکت داری کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
جناب جے شنکر نے ڈپٹی سپریم کمانڈر اور وزیراعظم ولی عہد سلمان بن حماد الخلیفہ سے بھی ملاقات کی اور سابق وزیراعظم شہزادہ خلیفہ بن سلمان الخلیفہ کی رحلت پر تعزیت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے ہند-بحرین تعلقات کو فروغ دینے اور ہندوستانی برادری کی فلاح و بہبود کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ دورے کے دوران جناب جے شنکر نے ہندوستانی برادری کے رہنماؤں سے بھی ورچوئل ملاقات کی اور منامہ میں دو سو سال پرانے شری ناتھ جی مندر کا دورہ کیا جو دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور دوستانہ رشتوں کا ایک اہم ثبوت ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جنہوں نے پچھلے سال اگست میں بحرین کا دورہ کیا تھا، دونوں ملکوں کے تعلقات نے نئی بلندیاں طے کی ہیں۔ جناب مودی پہلے ہندوستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے اس ملک کا دورہ کیا تھا۔ ہندوستان اور بحرین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں ان کی کوششوں کے اعتراف میں شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے انہیں بحرین آرڈر فرسٹ کلاس کے اعزاز سے نوازا تھا۔ جناب مودی کے بحرین دورے کے دوران دونوں ملکوں نے چار مفاہمت ناموں پر دستخط کئے جن میں اسرو اور بحرین کی نیشنل اسپیس اینڈ سائنس ایجنسی کے درمیان تعاون کے بارے میں بھی مفاہمت نامہ شامل ہے۔ ان مفاہمت ناموں پر دستخط کئے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بہتر ہوئے ہیں۔
ہندوستان اور بحرین نے کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم مودی اور شاہ حماد نے اس سال اپریل میں ٹیلی فون پر بات چیت کی ۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کیلئے دونوں ملکوں کے حکام ایک دوسرے کے رابطے میں رہیں گے۔ بحرین ان ملکوں میں سے بھی تھا جنہیں بھارت نے سب سے پہلے ہائیڈروکسی کلوروکوین ارسال کی تھی تاکہ وباء کا مقابلہ کرنے میں ان ملکوں کی مدد کی جا سکے۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس ہفتے بحرین کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ان چند دوروں میں سے تھا جنہیں وزیر خارجہ نے حالیہ مہینوں میں کیا تھا کیونکہ کووڈ-19 کی وباء کے باعث بین الاقوامی پروازیں بند تھیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جناب جے شنکر کا وزیر خارجہ کی حیثیت سے بحرین کا یہ پہلا دورہ تھا۔ حالانکہ ایک سفارتکار کی حیثیت سے اپنی مدت کار کے دوران انہوں نے خلیج کے ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو فروغ دینے میں کافی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ جناب جے شنکر کا دو روزہ دورہ کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے سے ایسے دور میں دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی جب تمام دنیا کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ بحرین کے اپنے ہم منصب ڈاکٹر عبدالطیف بن راشد الزیانی سے بات چیت کے دوران دونوں ملکوں نے دفاع، خلائی ٹکنالوجی، تجارت وسرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچہ، اطلاعاتی ٹکنالوجی، صحت ، ہائیڈروکاربن، قابل تجدید توانائی اور بحری سلامتی کے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے سے اتفاق کیا ۔ جناب جے شنکر نے اپنے بحرینی ہم منصب کو ہند-بحرین اعلیٰ مشترکہ کمیشن کی تیسری میٹنگ میں شرکت کرنے کے لئے نئی دہلی بھی مدعو کیا جو آئندہ مہینوں میں ہونے والی ہے۔امید ہے کہ اس بدلتی ہوئی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں یہ دورہ خلیج کے ملکوں کے ساتھ ہندوستان کی شراکت داری کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
جناب جے شنکر نے ڈپٹی سپریم کمانڈر اور وزیراعظم ولی عہد سلمان بن حماد الخلیفہ سے بھی ملاقات کی اور سابق وزیراعظم شہزادہ خلیفہ بن سلمان الخلیفہ کی رحلت پر تعزیت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے ہند-بحرین تعلقات کو فروغ دینے اور ہندوستانی برادری کی فلاح و بہبود کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ دورے کے دوران جناب جے شنکر نے ہندوستانی برادری کے رہنماؤں سے بھی ورچوئل ملاقات کی اور منامہ میں دو سو سال پرانے شری ناتھ جی مندر کا دورہ کیا جو دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور دوستانہ رشتوں کا ایک اہم ثبوت ہے۔
Comments
Post a Comment