نگروٹا میں پاکستان کی سازش بے نقاب

یہ سال ختم ہونے میں اب زیادہ دن نہیں رہ گئے۔ ایک موذی مرض نے انسانی زندگی کوپوری دنیا میں گویا اپاہج بنا کر رکھ دیا ہے۔ مختلف ممالک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے، لوگوں کے پاس روزگار نہیں۔ زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بھی سماج کے ایک بڑے طبقے کو کافی مشقت اور تگ و دو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی ممالک تو کووڈ کی دوسری اور تیسری لہر کی زد میں ہیں جو ماہرین کے مطابق پہلی صورتحال سے زیادہ مہلک اور تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ہر چند کہ ویکسین کی تیاری کی خوش کن خبریں بھی ابلاغ کے مختلف وسائل سے آ رہی ہیں لیکن ابھی وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان دواؤں کے بازار میں آنے میں کتنا وقفہ اور لگے گا۔

اس وقت تمام دنیا کی اولین ترجیح اپنے شہریوں کی جان کی حفاظت کرنا اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے لیکن کچھ ممالک کی ترجیحات اس کے بالکل بر عکس ہیں۔ دنیا میں فتنہ و فساد پھیلانا، پڑوسی ممالک کے امن و سکون کو درہم برہم کرنا، دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنا وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان نے تو خیر اسے اپنا نصب العین ہی بنا رکھا ہے۔ وہ جس طرح دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بار بار ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچتا رہا ہے، اس سے اس کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان ابتک ممبئی حملےکےمجرموں کو بھی قرار واقعی سزا دینے میں ناکام رہاہےاورہرطرح سےانکا دفاع کرنے میں پیش پیش رہاہے۔ اسی حوالے سے پنٹاگن کے ایک سابق افسر کا یہ خیال بالکل درست ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدام میں سنجیدگی کا زبردست فقدان ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب ایک وزیر نے بر سر عام پلوامہ حملے کو عمران حکومت اور پاکستانی عوام کی فتح کے طور پر پیش کیا تھا اور وہ بات کہی جو بھارت پلوامہ حملے کے روزسے ہی کہتا رہا ہے۔ یہ شرمناک حرکت سب کی نظروں میں آئی لیکن اس کے بعد بھی جس ڈھٹائی سے جیش محمد کے دہشت گردوں کو بھارت کی سرحد میں داخل کرانے کی کوشش نرگوٹا میں ہوئی اس پر ساری دنیا دم بخود ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت بیرون ملک اور درون ملک سخت مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی مسلسل پشت پناہی کی قیمت وہاں کے عوام کو چکانا پڑ رہی ہے۔ پڑوسی ممالک میں سوائے چین کے کسی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں اور نہ ہی دنیا میں اس کی کوئی مثبت شبیہ بن پا رہی ہے لیکن پاکستان کو شاید اس کی پرواہ نہیں۔ دوسری طرف پی ڈی ایم کی روز افزوں مقبولیت اور ان کے جلسوں میں امڈتے ہجوم کے منظر نے فوج اور حکمراں طبقے کی نیند اڑا رکھی ہے۔ حزب مخالف کی صفوں میں پھوٹ ڈالنے کے بھی تمام حربے ناکام ہو چکے ہیں ایسے میں نگروٹا میں پلوامہ جیسے حملے کے لئے جیش محمد جیسی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم کا استعمال عمران حکومت کی بوکھلاہٹ کا بین ثبوت ہے۔ جن چار دہشت گردوں کو آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا ان کے پاس سے اسلحہ بارود کا جو ذخیرہ برآمد ہوا ہے وہ پاکستان کے ناپاک ارادوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ بھارت نے بجا طور پر اپنا سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ وزارت خارجہ نے بھارت میں مقیم پاکستانی نمائندے کو نہایت سخت الفاظ میں متنبہ کیا اور بتایا کہ بھارتی سیکیورٹی افواج کی چستی اور چوکسی نے کس طرح ایک بڑے حادثے کو ٹال دیا اور دہشت گردوں کو ان کے مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیا۔ پاکستان سے واضح لفظوں میں کہا گیا کہ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کی اپنی پالیسی سے باز آئے اور اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کا صفایا کرے۔ وہاں دہشت گردوں کے جو مختلف گروپ الگ الگ ناموں سے موجود ہیں اور بھارت کے خلاف آئے دن شر انگیزی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں ان پر نکیل کسنا اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا پاکستان کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔

فی الوقت پاکستان سخت سیاسی بحران میں مبتلا ہے۔ معیشت تباہی کے قریب ہے، کووڈ کی تباہ کاریاں اپنے عروج پر ہیں۔ پی ڈی ایم کی ریلیوں میں امڈتا سیلاب تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ سیلیکٹڈ عمران خان اور فوج ایک صفحے پر ہونے کے باوجود مسائل سے آنکھیں ملاتے ہوئے گھبرا رہے ہیں۔ داخلی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے اور ان کا مناسب حل ڈھونڈنے کی بجائے ایسے وقت میں کوئی ناعاقبت اندیش حکمراں ہی ہوگا جس کے ذہن میں اپنے پڑوسی ملک کو دہشت گردوں کی مدد سے پریشان کرنے کی حکمت عملی کُلبُلا رہی ہو۔ پاکستان کو اپنے رویے میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اپنی شبیہ سدھارنے میں خود کتنا سنجیدہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ