موضوع:سترہویں ہند۔ آسیان سر براہ کانفرنس
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز 17 ویں ہند۔آسیان سر براہ کانفرنس سے ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے خطاب کیا۔یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب تمام علاقے میں کورونا وائرس وبا پھیلی ہوئی ہے۔ اس وبا کا نہ صرف ہندوستان بلکہ جنوب۔مشرقی ایشیا کے تمام ملکوں کی معیشت پر کافی برا اثر پڑا ہے جس کے باعث معاشی اور تجارتی رشتے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں جناب مودی نے اپنے خطاب میں ہندوستان اور آسیان ملکوں کے درمیان سماجی ،اقتصادی، ڈیجیٹل اور بحری سمیت تمام طرح کے رابطوں اور کنکٹیوٹی پرزور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کنکٹیوٹی تیزی کے ساتھ ابھر رہی ہے جس سے علاقہ میں سرمایہ کاری، سیاحت اور روزگار کے فروغ میں اضافہ ہوگا۔ ہندوستان نے آسیان کنکٹیوٹی پروجیکٹ کے لئے ایک ارب امریکی ڈالر کے قرض کی پیش کش کی ہے ۔ اس پیش کش سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان آسیان ملکوں کے ساتھ رابطے بڑھانے کے لئے کتنازیادہ خواہش مند ہے۔
کووڈ۔19 کی وبا نے اس حقیقت کو سب کے سامنے لا کر رکھ دیا ہے کہ بہت سے شعبے ایسے ہیں جو بہت ہی کمزور ہیں اور آسانی کے ساتھ متاثر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً اگر ہم سپلائی چین کی بات کریں تو کسی بھی واحد سپلائی چین پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے ایشیائی ملکوں کے لئے سپلائی چین کو متنوع بنانا نہایت ضروری ہو گیا ہے اور کووڈ۔19 کے بعد معیشت کی بحالی میں بھی یہ اقدام اہم کردار ادا کرے گا۔ سپلائی چین کو متنوع بنانے سے ہندوستان اور آسیان ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا۔ نئی دہلی نے امن ،ترقی اور خوشحالی کی غرض سے آسیان کے ساتھ پارٹنر شپ کے لئے ایک پہل کی ہے اور 2021اور2025 کے درمیان اس پہل کے مقاصد کے نفاذ کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے جسے اس کانفرنس میں منظوری بھی مل گئی۔ اس پہل سے معاشی سیاسی،سلامتی،بحری،انسداد دہشت گردی،انرجی،ٹرانسپورٹ،زراعت، جنگلات، اطلاعاتی ٹکنالوجی، سائنس و ٹکنا لوجی،سیاحت اور کنکٹیوٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے میں کافی مدد ملے گی۔
کانفرنس میں ہندوستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ وہ اپنی اور آسیان ملکوں کی قومی اور علاقائی پالیسیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کی ’’انڈو پیسیفک اور اوسینس انیشیٹیو اور آسیان کے ’’آؤٹ لوک آن انڈو پیسیفک‘‘کے درمیان گہری قربت ہے جن کا مقصد کنکٹیوٹی اور معیشت سمیت دیگر شعبوں میں دونوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ہندوستان کی انڈو ۔پیسیفک اوسینس انیشیٹیو کا مقصد ہند۔بحرالکاہل میں ایک محفوظ اور پر امن ماحول قائم کرنا ہے جہاں بڑھتے ہوئے اسٹریٹیجک چیلنجوں کے باعث نہ صرف ہندوستان کے لئے بلکہ آسیان ملکوں کے لئے نئے چیلنج پیدا ہو گئے ہیں۔ اس لئے اس وقت ہند۔بحر الکاہل کے علاقے میں استحکام پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ہندوستان اور آسیان ملکوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اور ایک ایسا نظام قائم کیا جا سکے جو اصول و ضوابط پر مبنی ہو تاکہ سب کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔چونکہ کورونا وائرس کی وبا نے علاقے کی بہت سی خامیوں کو اجاگر کر دیاہے ،متذکرہ لائحہ عمل میں وہ تمام باتیں ہیں جن کے ذریعہ ہندوستان اور آسیان زیادہ قربت سے کام کر سکیں گے جس سے معاشی،سیاسی اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ حاصل ہوگا۔
ہند۔آسیان سر براہ کانفرنس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ہندوستان آسیان ملکوں کے ساتھ قریبی تعاون چاہتاہے۔نئی دہلی نے یہ بھی ظاہر کردیا ہے کہ ہندوستان کی پالیسی میں اس علاقہ کو مرکزیت حاصل ہے۔ آسیان کے علاقے خاص طور پر جنوبی بحیرۂ چین کو مستحکم اور محفوظ بنائے رکھنا ہندوستان کا مقصد ہے۔
سب کی یکساں خوشحالی محض لفاظی ہو گی اگر اس کے لئے کوئی خاص پالیسی نہ تیار کی جائے ۔ اس کے لئے سیاسی قوت ارادی بھی نہایت ضروری ہے۔ ہند۔آسیان سر براہ کانفرنس نے دنیا کوبتا دیا کہ نئی دہلی کے پاس پالیسیاں بھی ہیں اور سیاسی قوت ارادی بھی ۔
****
کووڈ۔19 کی وبا نے اس حقیقت کو سب کے سامنے لا کر رکھ دیا ہے کہ بہت سے شعبے ایسے ہیں جو بہت ہی کمزور ہیں اور آسانی کے ساتھ متاثر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً اگر ہم سپلائی چین کی بات کریں تو کسی بھی واحد سپلائی چین پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے ایشیائی ملکوں کے لئے سپلائی چین کو متنوع بنانا نہایت ضروری ہو گیا ہے اور کووڈ۔19 کے بعد معیشت کی بحالی میں بھی یہ اقدام اہم کردار ادا کرے گا۔ سپلائی چین کو متنوع بنانے سے ہندوستان اور آسیان ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا۔ نئی دہلی نے امن ،ترقی اور خوشحالی کی غرض سے آسیان کے ساتھ پارٹنر شپ کے لئے ایک پہل کی ہے اور 2021اور2025 کے درمیان اس پہل کے مقاصد کے نفاذ کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے جسے اس کانفرنس میں منظوری بھی مل گئی۔ اس پہل سے معاشی سیاسی،سلامتی،بحری،انسداد دہشت گردی،انرجی،ٹرانسپورٹ،زراعت، جنگلات، اطلاعاتی ٹکنالوجی، سائنس و ٹکنا لوجی،سیاحت اور کنکٹیوٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے میں کافی مدد ملے گی۔
کانفرنس میں ہندوستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ وہ اپنی اور آسیان ملکوں کی قومی اور علاقائی پالیسیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کی ’’انڈو پیسیفک اور اوسینس انیشیٹیو اور آسیان کے ’’آؤٹ لوک آن انڈو پیسیفک‘‘کے درمیان گہری قربت ہے جن کا مقصد کنکٹیوٹی اور معیشت سمیت دیگر شعبوں میں دونوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ہندوستان کی انڈو ۔پیسیفک اوسینس انیشیٹیو کا مقصد ہند۔بحرالکاہل میں ایک محفوظ اور پر امن ماحول قائم کرنا ہے جہاں بڑھتے ہوئے اسٹریٹیجک چیلنجوں کے باعث نہ صرف ہندوستان کے لئے بلکہ آسیان ملکوں کے لئے نئے چیلنج پیدا ہو گئے ہیں۔ اس لئے اس وقت ہند۔بحر الکاہل کے علاقے میں استحکام پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ہندوستان اور آسیان ملکوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اور ایک ایسا نظام قائم کیا جا سکے جو اصول و ضوابط پر مبنی ہو تاکہ سب کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔چونکہ کورونا وائرس کی وبا نے علاقے کی بہت سی خامیوں کو اجاگر کر دیاہے ،متذکرہ لائحہ عمل میں وہ تمام باتیں ہیں جن کے ذریعہ ہندوستان اور آسیان زیادہ قربت سے کام کر سکیں گے جس سے معاشی،سیاسی اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ حاصل ہوگا۔
ہند۔آسیان سر براہ کانفرنس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ہندوستان آسیان ملکوں کے ساتھ قریبی تعاون چاہتاہے۔نئی دہلی نے یہ بھی ظاہر کردیا ہے کہ ہندوستان کی پالیسی میں اس علاقہ کو مرکزیت حاصل ہے۔ آسیان کے علاقے خاص طور پر جنوبی بحیرۂ چین کو مستحکم اور محفوظ بنائے رکھنا ہندوستان کا مقصد ہے۔
سب کی یکساں خوشحالی محض لفاظی ہو گی اگر اس کے لئے کوئی خاص پالیسی نہ تیار کی جائے ۔ اس کے لئے سیاسی قوت ارادی بھی نہایت ضروری ہے۔ ہند۔آسیان سر براہ کانفرنس نے دنیا کوبتا دیا کہ نئی دہلی کے پاس پالیسیاں بھی ہیں اور سیاسی قوت ارادی بھی ۔
****
Comments
Post a Comment