پشتون نسل کے لوگوں کی حالتِ زار
قیام پاکستان کے بعد ہی سے پشتون نسل کے لوگ اپنے آپ کو بے بس اور بے سہارا محسوس کرتے آئے ہیں۔ ان کی مخصوص کلچرل امنگوں کو قدم قدم پر دبانے اور کچلنے کی کوشش کی گئی۔ ان کی وفاداری کو بھی ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا گیا۔ اگرچہ پاکستانی فوج میں اس نسل کے لوگوں نے گرانقدر خدمت انجام دی ہیں۔ ان کے نسلی رابطے سرحد کے اس پار افغانستان سے بھی ملتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو ڈورینڈ لائن ہے، اسے افغانستان کی کسی بھی حکومت نے، یہاں تک کہ طالبان نے بھی کبھی دونوں ملکوں کے درمیان، سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ پاکستانی فوج نے 70 کی دہائی کے آغاز میں مشرقی پاکستان میں جو قتل و غارت گری مچائی اور وہاں کے باشندوں کو ان کے سیاسی حقوق سے پورے طور پر محروم کردیا تو اس کے نتیجے میں پاکستان ہی دولخت ہوگیا اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آیا۔ پاکستان میں صوبائی اختیارات اور علاقائی حقوق کی بحالی کے لئے ہر طرف سے آواز اٹھنے لگی۔ پشتون باشندے بھی فوج کی زیادتیوں اور ظالمانہ کارروائیوں سے نالاں تھے۔ ان کی آواز کو مدھم کرنے کے لئے انہیں سیاسی آزادی دینے کےجھوٹے وعدے کئے گئے لیکن غیور پشتون باشندے فوج کی چالوں کو سمجھتے تھے جس پر پنجابیوں کا غلبہ تھا۔ پاکستان کی مرکزی حکومت دراصل فوجی اسٹبلشمنٹ کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھا ہی نہیں سکتی تھی۔ 80 کی دہائی میں سوویت فوجوں کے خلاف جب ’’افغان جہاد‘‘ شروع ہوا تو پشتون قبائلی علاقوں کو انتہاپسندوں کی ٹریننگ کے لئےایک بہت بڑی تجربہ گاہ میں تبدیل کردیا گیا۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں کے درمیان پرتشدد واقعات بڑھنے لگے اور اس کے سب سے بڑے شکار خود پشتون باشندے ہوئے۔ پاکستان نے جو اسٹریٹجی ترتیب دی، اس کے نتیجے میں غیر ملکی جنگجوؤں کی اس خطے میں بھر مار ہوگئی۔ پاکستانی فوج کے گمراہ کن فوجی آپریشن کے باعث مقامی معیشت پر انتہائی ناخوشگوار اثرات مرتب ہوئے اور مقامی قبائلی باشندے ادھر ادھر بکھرنے لگے۔ جرائم پیشہ افراد کا ہر طرف بول بالا ہوا اور نشیلی اشیا کا ناجائز کاروبار بڑھنے لگا۔ ظاہر ہے پشتون باشندے بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے۔
پشتون باشندوں پر ہونے والی چوطرفہ مار نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے حق کے لئے اجتماعی طور پر پرامن جد و جہد شروع کریں۔ چنانچہ پشتونوں کے سیاسی اور سول حقوق کے تحفظ کے لئے جنوری 2018 میں ’پشتون تحفظ موومنٹ‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی۔ دراصل ایک ذہین اور ابھرتے ہوئے پشتون نوجوان نقیب اللہ محسود کی کراچی پولیس کے ہاتھوں بے رحمانہ ہلاکت نے اس نسل کے، بالخصوص نوجوان گروپ کو مجبور کیا کہ وہ ایک پرامن تحریک چلائیں اور پاکستان کے عوام و خواص کی توجہ اپنی حالت زار کی جانب مبذول کرائیں۔ اس آواز پر پشتون آبادی کو اپنے حقوق کے تعلق سے ایک لمبی جد و جہد شروع کرنے کا حوصلہ ملا۔ پشتون آبادی کو پاکستانی فوج سے بہت زیادہ شکایت ہے جو اس نسلی گروپ کو دوسرے درجہ کا شہری تصور کرتی ہے۔ فروری 2018 میں پختون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم نے وزیرستان سے اسلام آباد تک کے لانگ مارچ کا پروگرام ترتیب دیا۔ اس مارچ میں 5000 سے زیادہ لوگ شریک تھے اور انہوں نے حکومت پاکستان کو 5 نکاتی میمورنڈم پیش کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پشتونوں کو چن چن کر نشانہ بنانے کی ذہنیت ترک کی جائے، مرکز کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو بارودی سرنگوں سے پاک کیا جائے، مقررہ وقت کے اندر اندر گرفتار شدہ پشتونوں کی رہائی کے لئے عدالتی کارروائی کی جائے، ماورائے عدالت ہونے والی ہلاکتوں کی چھان بین کے لئے انکوائری کمیشن قائم کیا جائے اور راؤ انور نام کے پولیس افسر پر مقدمہ چلاکر اسے قرار واقعی سزا دی جائے جس نے نقیب اللہ محسود کو ایک جعلی انکاؤنٹر میں بے دردی سے ہلاک کیا تھا۔ پی ٹی ایم چیلنج کے ساتھ یہ کہتی ہےکہ وہ ایک امن پسند تحریک ہے اور پرامن طور پر اپنے حقوق کے لئے لڑ رہی ہے۔ وہ پاکستانی فوج کو ’’بارودی دہشت گرد گروپ‘‘ گردانتی ہے۔
ایک ستم ظریفی یہ ہے کہ اس پرامن تحریک کو حکومت کی طرف سے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور میڈیا میں باقاعدہ ایک مہم شروع کی گئی ہے تاکہ لوگ اس سے بیزار ہوجائیں۔ یہ مہم بھی ٹھیک اسی طرز پر چلائی جارہی ہے جیسی سابق مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے خلاف مغربی پاکستان میں فوج کی طرف سے چلائی جارہی تھی۔ حال ہی میں پی ٹی ایم کے ایک سرگرم لیڈر عارف وزیر کو ہلاک کردیا گیا جو رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے چچازاد بھائی تھے۔ اس سے پشتونوں میں مزید غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ پی ٹی ایم پاکستان پر یہ کھلم کھلا الزام لگاتی ہے کہ اس نے افغان طالبان کے ساتھ ایک خفیہ سمجھوتہ کررکھا ہے جس کے تحت ’’اچھے‘‘ اور ’’بُرے‘‘ طالبان کا ہوا کھڑا کرکے اپنے اپنے مخالفین سے حساب چکایا جارہا ہے۔ عارف وزیر چونکہ پی ٹی ایم کے ایک مضبوط ستون تھے، اس لئے انہیں ’’اچھے طالبان‘‘ (فوج کے حامی طالبان) کے ذریعہ راستے سے ہٹانے کا انتظام کر دیا گیا۔ انہیں یکم مئی کو جنوبی وزیرستان میں ہلاک کیا گیا۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ممبر محسن داوڑ نے 2 مئی کو اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ’’عارف وزیر کو ’اچھے‘ طالبان نے ہلاک کیا تھا لیکن ہماری تحریک نام نہاد اچھے طالبان (یعنی فوج کےحامیوں) کے آقاؤں کے خلاف جاری رہے گی‘‘۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عارف وزیر اپنے خاندان کے اٹھارہویں فرد تھے جو سرکار کے حامی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک کئے گئے۔
دراصل پشتون تحفظ موومنٹ ایک ایسی تحریک ہے جو پاکستان فوج کی دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والی حکمت عملی کے ردعمل کے طور پر وجود میں آئی ہے۔ فوج دہشت گردوں کی حمایت اور سرپرستی اس لئے کررہی ہے تاکہ مقامی باشندوں کی شناخت اور ان کے ولولوں کو کچلا جاسکے۔ یہی کھیل اس نے مشرقی پاکستان میں بھی کھیلا تھا۔
پشتون باشندوں پر ہونے والی چوطرفہ مار نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے حق کے لئے اجتماعی طور پر پرامن جد و جہد شروع کریں۔ چنانچہ پشتونوں کے سیاسی اور سول حقوق کے تحفظ کے لئے جنوری 2018 میں ’پشتون تحفظ موومنٹ‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی۔ دراصل ایک ذہین اور ابھرتے ہوئے پشتون نوجوان نقیب اللہ محسود کی کراچی پولیس کے ہاتھوں بے رحمانہ ہلاکت نے اس نسل کے، بالخصوص نوجوان گروپ کو مجبور کیا کہ وہ ایک پرامن تحریک چلائیں اور پاکستان کے عوام و خواص کی توجہ اپنی حالت زار کی جانب مبذول کرائیں۔ اس آواز پر پشتون آبادی کو اپنے حقوق کے تعلق سے ایک لمبی جد و جہد شروع کرنے کا حوصلہ ملا۔ پشتون آبادی کو پاکستانی فوج سے بہت زیادہ شکایت ہے جو اس نسلی گروپ کو دوسرے درجہ کا شہری تصور کرتی ہے۔ فروری 2018 میں پختون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم نے وزیرستان سے اسلام آباد تک کے لانگ مارچ کا پروگرام ترتیب دیا۔ اس مارچ میں 5000 سے زیادہ لوگ شریک تھے اور انہوں نے حکومت پاکستان کو 5 نکاتی میمورنڈم پیش کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پشتونوں کو چن چن کر نشانہ بنانے کی ذہنیت ترک کی جائے، مرکز کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو بارودی سرنگوں سے پاک کیا جائے، مقررہ وقت کے اندر اندر گرفتار شدہ پشتونوں کی رہائی کے لئے عدالتی کارروائی کی جائے، ماورائے عدالت ہونے والی ہلاکتوں کی چھان بین کے لئے انکوائری کمیشن قائم کیا جائے اور راؤ انور نام کے پولیس افسر پر مقدمہ چلاکر اسے قرار واقعی سزا دی جائے جس نے نقیب اللہ محسود کو ایک جعلی انکاؤنٹر میں بے دردی سے ہلاک کیا تھا۔ پی ٹی ایم چیلنج کے ساتھ یہ کہتی ہےکہ وہ ایک امن پسند تحریک ہے اور پرامن طور پر اپنے حقوق کے لئے لڑ رہی ہے۔ وہ پاکستانی فوج کو ’’بارودی دہشت گرد گروپ‘‘ گردانتی ہے۔
ایک ستم ظریفی یہ ہے کہ اس پرامن تحریک کو حکومت کی طرف سے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور میڈیا میں باقاعدہ ایک مہم شروع کی گئی ہے تاکہ لوگ اس سے بیزار ہوجائیں۔ یہ مہم بھی ٹھیک اسی طرز پر چلائی جارہی ہے جیسی سابق مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے خلاف مغربی پاکستان میں فوج کی طرف سے چلائی جارہی تھی۔ حال ہی میں پی ٹی ایم کے ایک سرگرم لیڈر عارف وزیر کو ہلاک کردیا گیا جو رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے چچازاد بھائی تھے۔ اس سے پشتونوں میں مزید غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ پی ٹی ایم پاکستان پر یہ کھلم کھلا الزام لگاتی ہے کہ اس نے افغان طالبان کے ساتھ ایک خفیہ سمجھوتہ کررکھا ہے جس کے تحت ’’اچھے‘‘ اور ’’بُرے‘‘ طالبان کا ہوا کھڑا کرکے اپنے اپنے مخالفین سے حساب چکایا جارہا ہے۔ عارف وزیر چونکہ پی ٹی ایم کے ایک مضبوط ستون تھے، اس لئے انہیں ’’اچھے طالبان‘‘ (فوج کے حامی طالبان) کے ذریعہ راستے سے ہٹانے کا انتظام کر دیا گیا۔ انہیں یکم مئی کو جنوبی وزیرستان میں ہلاک کیا گیا۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ممبر محسن داوڑ نے 2 مئی کو اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ’’عارف وزیر کو ’اچھے‘ طالبان نے ہلاک کیا تھا لیکن ہماری تحریک نام نہاد اچھے طالبان (یعنی فوج کےحامیوں) کے آقاؤں کے خلاف جاری رہے گی‘‘۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عارف وزیر اپنے خاندان کے اٹھارہویں فرد تھے جو سرکار کے حامی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک کئے گئے۔
دراصل پشتون تحفظ موومنٹ ایک ایسی تحریک ہے جو پاکستان فوج کی دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والی حکمت عملی کے ردعمل کے طور پر وجود میں آئی ہے۔ فوج دہشت گردوں کی حمایت اور سرپرستی اس لئے کررہی ہے تاکہ مقامی باشندوں کی شناخت اور ان کے ولولوں کو کچلا جاسکے۔ یہی کھیل اس نے مشرقی پاکستان میں بھی کھیلا تھا۔
Comments
Post a Comment