شنگھائی تعاون تنظیم کو علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا وزیراعظم مودی کا مشورہ
گذشتہ 10 نومبر کو شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے ممبر ممالک کی 20 ویں چوٹی کانفرنس ہوئی جس کا اہتمام ویڈیو کانفرنس کے توسط سے ہوا۔ اس ورچوئل کانفرنس کی صدارت روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کی۔ ایس سی او (SCO) ایک کثیر قومی تنظیم ہے جس کے ممبر ممالک ہندوستان اور پاکستان بھی ہیں ۔ ہندوستان روزِ اوّل سے اپنی اس خارجہ پالیسی پر اٹل رہا ہے کہ قوموں کو ایک دوسرے کی آزادی اور خود مختاری کا احترام کرنا چاہئے اور پر امن بقائے باہم کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے ایک دوسرے کی یکجہتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہئے اور کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ پڑوسی ملکوں سے بھی ہندوستان ہمیشہ بہتر تعلقات کے قیام پر زور دیتا رہا ہے۔ ان اصولوں کو وہ نہ صرف مانتا ہے بلکہ یہ بھی توقع کرتا ہے کہ دوسرے بھی انہی اصولوں کا پاس کریں۔
ایس سی او کی یہ ورچوئل کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب چین اور ہندوستان کے درمیان حقیقی کنٹرول لائن پر لداخ میں نسبتاً کشیدگی کا ماحول ہے۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی سطح پر بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ کشیدگی دور کرنے کی کوششیں بارآور ثابت ہونگی۔ ہندوستان اور چین دونوں شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم رکن ہیں۔ اس لئے وزیراعظم نریندر مودی نے اس موقع کو مناسب سمجھا کہ ہند کے موقف سے ممبر ممالک کو آگاہ کیا جائے ۔ ظاہر ہے اپنے خطاب میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ چین کے صدرشی جن پنگ نے بھی غور سے سنا ۔ وزیراعظم نے تمام سفارتی اور بین الاقوامی ضابطوں کا پاس کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ ممبر ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی ملک کے احساسات و جذبات کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ مختلف ممالک کے درمیان رابطوں اور کنکٹیوٹی کو فروغ دینے کی ہر کوشش کی ستائش اور حمایت کرتے ہیں لیکن ان کوششوں میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کے علاقائی استحکام اور خود مختاری پر کسی طرح کی آنچ نہ آئے۔
یہاں اس بات کا ذکر بےجا نہ ہوگا کہ نہ صرف یہ کہ اس وقت ہند اور چین کے درمیان ایل اے سی پر کشیدگی کاماحول ہے بلکہ عالمی پیمانے پر بھی چین کے بعض اقدامات کی تنقید ہوتی رہی ہے اور متعدد ممالک نے چین پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ توسیع پسندی کی پالیسی اختیار کر رہا ہے اور ایشیا-پیسفک علاقے اور ساؤتھ چائنا سی میں کچھ ایسی مہم جوئیاں بھی کر رہا ہے جو ان علاقوں کے مختلف ممالک کے لئے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ بعض ممالک یہ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ چین بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے باعث بہت سے ملکوں کو شکایت ہے کیونکہ اس سے ان کی علاقائی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
چونکہ شنگھائی تعاون تنظیم کا ایک رکن پاکستان بھی ہے اس لئے وزیراعظم نریندر مودی نے نام لئے بغیر یہ بات بھی اٹھائی کہ بعض ممالک ایس سی او کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرتے ہیں اور یہاں باہمی نوعیت کے معاملات کا ذکر کر کے اس کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ اشارہ واضح طور پر پاکستان ہی کی طرف تھا جو ایس سی او کے چارٹر کی خلاف ورزی کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔ پاکستان کی یہ عادت ہے کہ وہ ہند-پاک معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی کرتا ہے اور کسی بھی بین الاقوامی اور کثیر قومی ادارے میں باہمی نوعیت کے معاملات کا ذکر کر کے فضا کو نا خوشگوار بنا دیتا ہے ۔ باہمی نوعیت کے معاملات کے بارے میں شملہ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ آپسی معاملات کو باہمی بات چیت کے ذریعہ ہی سلجھانے کی کوشش کی جانی چاہئے اور کسی بھی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ان کا ذکر کرنے سے دونوں فریقوں کو گریز کرنا چاہئے۔ لیکن پاکستان نے کبھی ان معاہدوں کا بھی پاس نہیں کیا جن پر خود اس نے بھی دستخط کئے ہیں۔
ایس سی او کی یہ ورچوئل کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب چین اور ہندوستان کے درمیان حقیقی کنٹرول لائن پر لداخ میں نسبتاً کشیدگی کا ماحول ہے۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی سطح پر بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ کشیدگی دور کرنے کی کوششیں بارآور ثابت ہونگی۔ ہندوستان اور چین دونوں شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم رکن ہیں۔ اس لئے وزیراعظم نریندر مودی نے اس موقع کو مناسب سمجھا کہ ہند کے موقف سے ممبر ممالک کو آگاہ کیا جائے ۔ ظاہر ہے اپنے خطاب میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ چین کے صدرشی جن پنگ نے بھی غور سے سنا ۔ وزیراعظم نے تمام سفارتی اور بین الاقوامی ضابطوں کا پاس کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ ممبر ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی ملک کے احساسات و جذبات کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ مختلف ممالک کے درمیان رابطوں اور کنکٹیوٹی کو فروغ دینے کی ہر کوشش کی ستائش اور حمایت کرتے ہیں لیکن ان کوششوں میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کے علاقائی استحکام اور خود مختاری پر کسی طرح کی آنچ نہ آئے۔
یہاں اس بات کا ذکر بےجا نہ ہوگا کہ نہ صرف یہ کہ اس وقت ہند اور چین کے درمیان ایل اے سی پر کشیدگی کاماحول ہے بلکہ عالمی پیمانے پر بھی چین کے بعض اقدامات کی تنقید ہوتی رہی ہے اور متعدد ممالک نے چین پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ توسیع پسندی کی پالیسی اختیار کر رہا ہے اور ایشیا-پیسفک علاقے اور ساؤتھ چائنا سی میں کچھ ایسی مہم جوئیاں بھی کر رہا ہے جو ان علاقوں کے مختلف ممالک کے لئے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ بعض ممالک یہ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ چین بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے باعث بہت سے ملکوں کو شکایت ہے کیونکہ اس سے ان کی علاقائی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
چونکہ شنگھائی تعاون تنظیم کا ایک رکن پاکستان بھی ہے اس لئے وزیراعظم نریندر مودی نے نام لئے بغیر یہ بات بھی اٹھائی کہ بعض ممالک ایس سی او کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرتے ہیں اور یہاں باہمی نوعیت کے معاملات کا ذکر کر کے اس کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ اشارہ واضح طور پر پاکستان ہی کی طرف تھا جو ایس سی او کے چارٹر کی خلاف ورزی کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔ پاکستان کی یہ عادت ہے کہ وہ ہند-پاک معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی کرتا ہے اور کسی بھی بین الاقوامی اور کثیر قومی ادارے میں باہمی نوعیت کے معاملات کا ذکر کر کے فضا کو نا خوشگوار بنا دیتا ہے ۔ باہمی نوعیت کے معاملات کے بارے میں شملہ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ آپسی معاملات کو باہمی بات چیت کے ذریعہ ہی سلجھانے کی کوشش کی جانی چاہئے اور کسی بھی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ان کا ذکر کرنے سے دونوں فریقوں کو گریز کرنا چاہئے۔ لیکن پاکستان نے کبھی ان معاہدوں کا بھی پاس نہیں کیا جن پر خود اس نے بھی دستخط کئے ہیں۔
Comments
Post a Comment