موضوع :دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت اور امریکہ ایک ساتھ

امریکہ میں صدارتی انتخابات کی تصویر اب تقریباً صاف ہوگئی ہے۔ یہ بھی طے ہو گیا ہے کہ ڈیموکریٹک امیدوار جوبائڈن امریکہ کے نئے صدر ہوں گے۔ اس درمیان سوال اٹھ رہے ہیں کہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کس سمت میں آگے بڑھیں گے؟ بائڈن کےنیا صدر منتخب ہونے کے بعد ہندوستان کے رشتوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اور صدر ٹرمپ کے دور اقتدار کے دوران ہندوستان کے ساتھ رشتوں میں جو مضبوطی آئی تھی، اس کو آگے کیسی رفتار ملے گی؟

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہمیشہ ہی مضبوط اور خوشگوار تعلقات رہے ہیں۔ اس سے کبھی کوئی فرق نہیں پڑا کہ وہاں ڈیموکریٹک پارٹی اقتدار میں ہے یا ریپبلکن پارٹی۔ امریکہ کے صدر چاہے بش رہے ہوں یا اوباما، کلنٹن رہے ہوں یا ٹرمپ، دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی، عسکری اور تجارتی شعبے میں ہمیشہ باہمی تعاون کو فروغ ملا ہے۔ خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف عالمی پیمانے پر ہونے والی جنگ میں دونوں ملکوں نے بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ رخصت پذیر صدر ٹرمپ کی اگر بات کریں تو ان کے چار سالہ اقتدار کے دوران یقینی طور پر ہند۔امریکہ تعلقات نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ اسی لئے بار بار یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اب ڈیموکریٹک جو بائڈن کے ساتھ ہندوستان کے کیسے رشتے رہتے ہیں؟ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ امریکہ کے اگلے صدر بائڈن بھی ہمیشہ سے دونوں جمہوری ملکوں کے درمیان مضبوط اور خوشگوار رشتوں کے حامی رہے ہیں۔ انھوں نے صرف اپنی تقریروں میں ہی نہیں، بلکہ چار دہائیوں پر مشتمل سیاسی زندگی میں بھی کئی بار آگے آکر ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات میں امریکی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ سابق صدر جارج بش کے دور اقتدار میں ہند۔ امریکہ نیوکلیئر ڈیل کو انجام تک پہنچانے کی بات ہو یا پھر سابق صدر براک اوباما کے دور میں ہندوستان کو ’ اہم دفاعی ساجھیدار‘ بنانے کی کوشش ہو، بائڈن کا تعاون ہمیشہ سے ہی رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اس بات کے تئیں مطمئن ہے کہ ٹرمپ کے بعد بائڈن کے دور میں بھی ہند۔ امریکہ تعلقات میں مزید مضبوطی آئے گی۔

جہاں تک دہشت گردی مخالف جنگ کی بات ہے تو اس معاملے میں ہندوستان اور امریکہ نے بڑھ چڑھ کر اس لعنت کے خاتمے کے لئے کام کیا ہے۔ اس میں بائڈن کا اہم رول رہا ہے۔ انھوں نے ایوان میں کئی ایسی تجاویز پاس کروائیں، جس سے دہشت گردی کو فروغ دینے والے ملکوں کے مالی تعاون پر روک لگائی جا سکے۔ انھوں نے پاکستان کو دی جانے والی مدد کو پاکستانی فوج سے الگ کرنے اور براہ راست جمہوری اداروں کو یہ مدد دینے سے متعلق بل کو پاس کرانے میں بھی مدد کی تھی۔ یہ ہندوستان کے موقف کے عین مطابق تھا۔ 2014ء میں وزیر اعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ اور ہندوستان کے رشتوں میں جو گرمجوشی آئی اس کی بھی بطور نائب صدر بائڈن نے حمایت کی۔ ہندوستان کے ساتھ اپنے بیحد پرانے سیاسی تعلقات کی وجہ سے ہی 15؍ اگست2020ء کو جب جو بائڈن نے ہند نژاد امریکیوں کو خطاب کیا تو یہ کہا کہ ہندوستان جن چیلنجز کا سامنا کر رہاہے، وہ انتخابات جیتنے کے بعد ان کا مقابلہ کرنے میں بھرپور مدد کریں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے قریب آنے سے دنیا کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے گا۔ لہذا امید کی جارہی ہے کہ جو بائڈن پاکستان پر ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ نہ دینے کا دباؤ ڈالیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ رہا ہے اور بار بار وہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکاہے۔ بلکہ وہاں کی افواج اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کے رشتے بھی بار بار سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں عمران خان کابینہ کے ایک سینئر وزیر نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ پلوامہ میں خود کش حملہ کروانے میں پاکستان کا ہاتھ تھا۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے وزیر فواد چودھری نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں ایک بحث کے دوران پلوامہ حملے کو عمران خان حکومت کی ایک بڑی حصولیابی قرار دیا۔ ہندوستان پہلے سے ہی کہتا رہا ہے کہ پلوامہ حملے میں پوری طرح سے پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پاکستان کی سیاست میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران پلوامہ اور بالاکوٹ کا معاملہ کافی گرم رہا ہے۔ لہذا اپنی سرکار اور پارٹی کا دفاع کرنے کی کوششوں میں فواد چودھری نے وہ بات کہہ دی جو حکومت ہند اور ہندوستان کی اہم جانچ ایجنسی این آئی اے بھی کہتی رہی ہے۔ ایسے میں آنے والی بائڈن انتظامیہ کے سامنے تصویر بالکل واضح ہے کہ اگر دہشت گردی مخالف عالمی جنگ کو آگے بڑھانا ہے تو سب سے پہلے پاکستان پر قدغن لگانا ہوگی۔ ہندوستان ہی نہیں امریکہ خود دہشت گردی کا بڑا شکار رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں امریکہ کو ہندوستان کے ساتھ مسلسل تعاون کرنا ہوگا۔ گزشتہ کچھ برسوں میں ہندوستان نے ترجیح کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا کو متحد کیا ہے۔امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہند۔امریکہ تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں ملک مزید آگے بڑھیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ