موضوع: جنرل نرونے کا نیپال دورہ ۔ہند۔نیپال تعلقات میں میل کا پتھر

ہندوستانی فوج کےسر براہ جنرل منوج مکند نرونے کا نیپال کاحالیہ دورہ اگر چہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک تاریخی رسم کی ادائیگی سمجھا جا رہا ہے تا ہم یہ دورہ کئی معنوں میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔پچھلے تقریباً ایک سال سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں تلخی دیکھنے کو ملی۔ اس تلخی کے سامنے آنے کے بعد ہندوستان کی جانب سے کٹھمنڈو کا یہ پہلا اعلیٰ سطحی دورہ تھا۔ کٹھمنڈو پہنچنے پر روایت کے مطابق صدر بدیا دیوی بھنڈاری نے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی موجودگی میں جنرل نرونے کو نیپالی فوج کے اعزازی جنرل کے خطاب سے نوازا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم اولی اس وقت ملک کے وزیر دفاع بھی ہیں۔اس موقع پر نیپال میں ہندوستان کے سفیر ونے کواترا، نیپالی فوج کےسر براہ پورن چندرا تھاپا اور دونوں ملکوں کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔1952سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کے فوجی سر براہوں کو اعزازی خطاب سے نوازنے کی روایت چلی آ رہی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال جنوری میں نیپالی فوج کےسر براہ جنرل تھاپا کو ہندوستانی فوج کے اعزازی جنرل کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔

ظاہر ہے کہ دو قریبی پڑوسیوں کے لئے اپنے قریبی تعلقات اور ایک دوسرے کی سلامتی سے متعلق تشویشات کی سمجھ کے اعادے کے لئے یہ بہترین موقع تھا۔ ہندوستان اورنیپال کےد رمیان فوجی تعلقات کے علاوہ صدیوں پرانے مذہبی ،ثقافتی ،سماجی اور معاشی تعلقات بھی ہیں، جو دونوں ملکوں کے لئے سود مند ہیں۔ہندوستان نیپالی فوج کو اسلحے اور اس کے سپاہیوں کو تربیت فراہم کر کے اس کی جدید کاری میں مدد کر رہا ہے۔ دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے یہاں مشترکہ مشقیں بھی کرتی ہیں۔

جنرل نرونے کے حالیہ دورے نے ایک دوسرے کی تشویشات کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ خبروں کے مطابق جنرل نرونے جب وزیر اعظم کے پی شرما اولی سے ملاقات کی تو انہوں نے ان سے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا کسی بھی غلط فہمی کو بات چیت کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے۔ نیپالی وزیر اعظم کے خارجہ تعلقات کے مشیر نے بعد میں کہا کہ نیپال چاہتا ہے کہ ہندوستان کا لا پانی تنازعہ کو حل کرے جو ملاقات کے دوران زیر بحث آیا۔

در حقیقت ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرد مہری کافی حد تک اس وقت دور ہو گئی جب وزیر اعظم اولی نے اپنے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کو فون کر کے یوم آزادی کی مبارکباد دی۔ جناب اولی نے اس وقت بھی جناب مودی کو مبارکباد پیش کی جب ہندوستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن چنا گیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب نیپال نے ایک نیا جغرافیائی نقشہ جاری کر کے اترا کھنڈ کے لپیا دھرا اور کالاپانی کے علاقوں کو اپنے خود مختار علاقے بتائے۔ اس سال مئی میں جب ہندوستان نے اترا کھنڈ میں دھار چولا سے لیپو لیکھ درے تک جانے والی 80کلو میٹر لمبی سڑک کا افتتاح کیا تو نیپال نے اس پر اعتراض جتایا۔ قابل ذکر ہے کہ لیپو لیکھ ہندوستان،نیپال اور چین کے تبت آٹو نامس ریجن کے تراہے پر واقع ہے۔سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے لئے نیپال نے خارجہ سکریٹری سطح کی فوری بات چیت کا مطالبہ کیا لیکن چونکہ دونوں ملکوں میں کووڈ۔19 کی وبا پھیلی ہوئی تھی اس لئے ہندوستان نے اس وقت تک کے لئے یہ بات چیت ملتوی کر دی جب تک صورتحال بہترنہ ہو جائے ۔

حکومت نیپال نے نہ صرف ملک کا نیا نقشہ دوبارہ جاری کیا بلکہ اسے پارلیمنٹ سے منظوری بھی مل گئی۔ اس کے علاوہ نئے نقشے کو اسکول کے نصاب میں بھی شامل کر لیا گیا۔ نیپال کے اس اقدام پر ہندوستان نے اعتراض جتایا اور کہا کہ یہ قدم کسی اعتبار سے بھی جائز نہیں ہے۔ نئی دہلی نے کٹھمنڈو سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کی غرض سے بات چیت کے لئے مثبت ماحول پیدا کرے۔ ہندوستان کے اس مطالبہ کے بعد نیپال نے نئے نقشہ کو اسکول کے نصاب سے واپس لے لیا ہے تاکہ صورتحال بہتر ہو سکے۔

اسٹریٹیجک تجزیہ کاروں اور سیکیورٹی کے ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے خبروں میں کہا گیا ہے کہ جنرل نرونے کے نیپال دورے اور حکومت نیپال کے تازہ ترین اقدام سے آپسی اعتماد پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے بات چیت کے لئے ایک سازگار ماحول پیدا ہوگا جس کے ذریعہ باقی ماندہ مسائل کے دیر پا حل کے لئے راہ ہموار ہوگی۔

*****

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ