ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں یوروپی ممالک کی اہمیت
خارجہ سکریٹری ہرش شرینگلا نے 29 اکتوبر سے 4 نومبر کے درمیان یوروپ کے تین بڑے ملکوں، فرانس جرمنی اور برطانیہ کا دورہ کیا جن کے ساتھ ہندوستان کے اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔ کووڈ-19 کے بڑھتے اثرات اور علاقہ میں چین کے ساتھ تعطل کے تناظر میں یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔اس دورے کے دوران ہوئی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ مرکوز تھی۔ دورے کے پہلے مرحلہ میں جناب شرینگلا پیرس پہنچے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فرانس ہندوستان کی دفاعی طاقت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ستمبر میں رفیل لڑاکا طیارے ہندوستانی فضائیہ میں شامل کیے گئے تھے۔ ہندوستانی فضائیہ میں فرانس کے ان لڑاکا طیاروں کی شمولیت سے ملک کی دفاعی طاقت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔
پیرس میں ایک مشہور ومعروف تھنک ٹینک (Think tank) آئی ایف آر آئی سے خطاب کرتے ہوئے جناب شرینگلا نے کووڈ-19 کے بعد والی دنیا کے لیے ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ ہندوستان نے کووڈ-19 کا کس طرح مقابلہ کیا اور اس وبا کے باعث ملک میں اختراع کو کیسے فروغ ملا جس کے باعث وبا کے لیے کم لاگت والے طبی آلات ملک میں تیار کیے گئے۔
اس تقریر میں کووڈ-19 کے ختم ہونے کے بعد وجود میں آنے والی دنیا کے لیے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات بیان کی گئیں۔ نئی دہلی کے نقطۂ نظر سے دنیا کے لیے کثیر جہتی اور اصول وضوابط پر مبنی نظام نہایت ضروری ہے۔ ہندوستان یوروپ اور فرانس کو کافی اہمیت دیتا ہے کیوں کہ یہ ابھرتے ہوئے نظام کے آزاد ستون ہوں گے۔جس روز یعنی 29 اکتوبر کو جب جناب شرینگلا پیرس پہنچے تو اسی روز ایک دہشت گرد نے نیس (Nice) شہر میں تین لوگوں کو چاقو مارکر ہلاک کردیا۔ اس دہشت گردانہ حملے کی وزیراعظم مودی نے سخت مذمت کرتے ہوئے فرانس کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
دورے کے دوسرے مرحلے میں جناب شرینگلا جرمنی گئے جہاں انہوں نے چانسلر مرکل کے خارجہ اور سیکورٹی پالیسی کے مشیر جان ہیکر سے ملاقات کی اور عالمی اداروں کی اصلاحات اور ہند-بحرالکاہل سے متعلق جرمنی کی نئی حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستان کے جدیدکاری کے پروگرام میں جرمنی کےرول پر بھی بات چیت کی۔ ہندوستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس کے ساتھ جرمنی اعلی سطحی بات چیت کرتا رہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جرمنی یوروپی یونین کے اندر ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بھی ہے۔ ہند-بحرالکاہل میں چین اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ چین کی اس کوشش سے جرمنی کو بھی تشویش ہے کیوں کہ چین کی اس حرکت سے علاقہ میں جرمنی کے مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے لہذا ہند-بحرالکاہل سے متعلق اس کی نئی پالیسی میں اس کی تشویش صاف نظر آتی ہے۔ جرمنی کے ساتھ ہندوستان بھی گروپ -4 کا ایک حصہ ہے۔ یہ گروپ بڑی مضبوطی کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاح کی وکالت کررہا ہے۔ ہندوستان آئندہ برس سلامتی کونسل کی رکنیت اختیار کرے گا۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے بھی یہ ملاقات اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے۔
دورے کے آخری مرحلے میں جناب شرینگلا برطانیہ گئے۔ برطانیہ جلدہی یوروپی یونین سے باہر ہونے والا ہے اس لیے ہندوستان اس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانا چاہتاہے۔ اعلی سطحی بات چیت کے علاوہ جناب شرینگلا نی مشہور و معروف تھنک ٹینک ، پالیسی ایکسچینج سے بھی خطاب کیا، جہاں انہوں نے ہند-بحرالکاہل کے بارے ہندوستان کے وژن پر روشنی ڈالی۔ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کچھ اہم باتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہند-بحرالکاہل کا علاقہ ہندوستان کے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں وزارت خارجہ میں انڈو پیسفک اینڈ اوشینیا (Indo-Pacific and Oceania ) نام سے ایک نیا ڈویژن قائم کیاگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہند-بحرالکاہل ہندوستان کی لمبی ساحلی تاریخ کا ایک حصہ رہا ہے اور یہاں تمام اسٹیک ہولڈرس کے لیے اصول وضوابط پر مبنی نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے 2018 میں ساگر ڈاکٹرائن کا اعلان کیا تھا اور اس میں 2019 میں توسیع کی گئی۔ اس ڈاکٹرائن میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ ہند–بحرالکاہل پر تمام ملکوں کاحق ہے اور اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔
کووڈ-19کی وبا پھیلنے کے بعد تمام دنیا میں ورچوئل میٹنگیں ہورہی تھیں۔ لیکن جناب شرینگلا نے ان یوروپی ممالک کا دورہ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہندوستان ان ملکوں کے ساتھ اپنے رشتوں کو کافی اہمیت دیتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دورے سے ان ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔
Comments
Post a Comment