گلگت بلتستان میں انتخابات کے خلاف مسلسل احتجاج
پاکستان کے غیرقانونی قبضے والے علاقے گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔اس نام نہاد الیکشن کے نتائج کے بعد پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی جوڑ توڑ کرکے حکومت بنانے میں شاید کامیاب ہوجائے، لیکن ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات نے اس کی معتبریت پر بہت سارے سوالات بھی کھڑے کردیے ہیں۔
انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ہزاروں افراداسکردو اور گلگت کی سڑکوں پر اتر آئے اور انتخابات میں دھاندلی کے خلاف زبردست مظاہرے کیے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور گھنٹوں تک آمدورفت روکے رکھا۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی گلگت بلتستان کے انتخابات کو ایک گھپلہ قرار دیا ہے۔
ہندوستان کا ابتداسے ہی موقف رہا ہے کہ پاکستان کو گلگت بلتستان میں انتخابات کرانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔اس طرح کی کسی بھی کوشش کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور یہ یکسرناقابل قبول ہے۔ اس طرح کے ڈرامے بازی سے اس خطے پر پاکستان کے غیر قانونی قبضے کو کسی طرح کا قانونی جواز حاصل نہیں ہوسکتا، کیوں کہ یہ خطہ ہندوستان کے جموں و کشمیر کے وسیع ترعلاقے کا اٹوٹ حصہ ہے۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے گلگت بلتستان کے انتخابات پر اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت ہند، پاکستان کے ذریعہ ہندوستان کے ایک حصے میں غیر قانونی اور جبراً قبضے کے تحت طبعی تبدیلی لانے کی کوششوں کو پوری شدت کے ساتھ مسترد کرتی ہے اور ہندوستان یہ واضح کرتا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر اور لداخ سمیت گلگت بلتستان ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔
ہندوستان کا موقف ہے کہ انتخابا ت کرانے کی دکھاوے کی کارروائی سے، پاکستان اپنے غیر قانونی قبضوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور گزشتہ سات عشروں سے ان مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے استحصال اور ان کی آزادی کی خواہش کو مسترد کرنے کے اپنے اقدامات کی پردہ پوشی نہیں کر سکتا ہے اورپاکستان کو تمام غیر قانونی مقبوضہ علاقوں کو فوری طور پر خالی کر دینا چاہیے۔ ہندوستانی پارلیمان 1994 میں اس حوالے سے واضح طور پرایک متفقہ قرارداد بھی منظور کرچکی ہے۔
ا س سال کے اوائل میں جب پاکستانی سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان میں انتخابات کرانے کی اجازت دی تھی تو اس وقت بھی ہندوستان نے سخت اعتراض کیا تھا اور نئی دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اعلی سفارت کار کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے اعتراض درج کرایا تھا۔بھارت کا موقف ہے کہ کشمیر کے تمام علاقوں کے سلسلے میں پاکستانی حکومت یا پاکستانی عدالت، کسی کو بھی کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔
گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کی صرف حکومت ہند نے ہی مذمت نہیں کی ہے بلکہ پاکستان نے جن علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کی اعانت اور ضیافت کرنے میں کبھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی وہ بھی حکومت پاکستان کے رویے کے خلاف ہیں۔ حتی کہ حریت کانفرنس بھی گلگت بلتستان میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کے خلا ف ہے اور پاکستانی اقدامات سے خوش نہیں ہے۔ حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ کشمیر کی سن47 سے پہلے کی جو پوزیشن تھی وہ بحال رہنی چاہیے۔
پاکستانی صحافی، دانشور اور ماہرین بھی گلگت بلتستان میں انتخابات کرانے کے حکومت پاکستان کے اقدام کی نکتہ چینی کررہے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے چیئر مین ڈاکٹر نعیم احمد نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے۔یہ کشمیر کا حصہ ہے اور پاکستان اور ہندوستان دونوں ہی کشمیر کے دعویدار ہیں۔ ہندوستان اس علاقے میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کرے گا۔یہ متنازعہ خطے کی حیثیت رکھتا ہے جس میں کوئی رد و بدل نہیں کی جا سکتی۔
گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف متحرک نظر آرہی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھرپور احتجاج کا اعلان کر رہی ہیں۔مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز شریف نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ تحریکِ انصاف کو حاصل ہونے والی ’چند سیٹیں دھونس، دھاندلی، مسلم لیگ ن سے توڑے گئے امیدواروں اور سلیکٹرز کی مرہون منت ہیں۔ مرکز میں موجود حکمراں جماعت کو پہلی بار یہاں ایسی شکست فاش ہوئی ہے اور یہ شکست آنے والے دنوں کی کہانی سنا رہی ہے۔ ان انتخابات میں دھاندلی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پوسٹل بیلٹ کے لیے جو درخواستیں موصول ہوئیں ان میں سے بہت سی درخواستیں مرحومین اور ایسے لوگوں کے نام سے تھیں جنہیں کچھ نہیں پتہ تھا کہ ان کے نام پر ایسا کچھ ہو اہے۔
پاکستان کے معروف صحافی اور کالم نویس حبیب اکرم نے لکھا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج پر کچھ کہنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کا فی الحال باقاعدہ صوبہ نہیں؛ چنانچہ نہ تو پاکستان کی قومی اسمبلی میں اس علاقے سے کوئی منتخب ہوکر آتا ہے اور نہ ہی سینیٹ میں دیگر صوبوں کی طرح اس کے نمائندے موجود ہیں۔2009 کے گلگت بلتستان آرڈر کے تحت جو صوبائی قسم کے اختیارات اور ادارے یہاں دیے گئے ہیں، ان کی حیثیت ضلعے جیسی بھی نہیں اور وہ عام سی سہولیات جو صوبوں میں ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہیں، گلگت بلتستان کے لوگ ان کے لیے اسلام آباد کا منہ دیکھتے رہتے ہیں۔یہاں کے باشندوں کی مجبوری ہے کہ وہ صوبائی حقوق نہ ہونے کی وجہ سے وفاق میں برسراقتدار پارٹی کو ووٹ کا تاوان بھرتے ہیں۔ یہی تاوان وہ پیپلزپارٹی کواور مسلم لیگ ن کو دیتے رہے ہیں جواب تحریک انصاف نے اپنی باری پر وصول کرلیا ہے۔ فرق البتہ یہ ضرور آیا ہے کہ مرکز میں برسراقتدار پارٹیوں کی تاریخ میں سب سے کم نشستیں تحریک انصاف نے حاصل کی ہیں، گویا ایک طرح سے شکست کا ہی منہ دیکھا ہے۔
پاکستان کے سیاسی تجزیہ نگارحبیب اکرم کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوئی، بلکہ دھاندلی 70 سال سے گلگت بلتستان کے لوگوں کے ساتھ ہورہی ہے جنہیں حکومت پاکستان نے بے شمار وعدوں کے باوجود ان کا حق نہیں دیا۔
Comments
Post a Comment