ساؤتھ چائناسی کے حالیہ واقعات پر ہندوستان کا اظہارتشویش
چینی نظام سیاست، ظاہر ہے جمہوری قدروں پر مبنی نہیں ہے۔ اس لئے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہاں سیاسی آزادی کا ایسا تصور کیا جاسکتا ہے جس کی امید جمہوری ملکوں میں کی جاتی ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے تحفظ کا جہاں تک سوال ہے تو یہ بات تو تمام ملکوں پر یکساں طور پر صادق آتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے انسانی حقوق کو پامال نہ ہونے دیں۔ چین ایک لمبے عرصے سے صوبۂ شن جیانگ میں ایغور نسل کے مسلمانوں پر ظلم ڈھارہا ہے۔ وہاں کے لوگوں کی مذہبی آزادی پر کئی طرح کے حملے ہو رہے ہیں اور انہیں حراستی کیمپوں میں محصور کردیا جاتا ہے۔ جب اس پر عالمی پیمانے پر احتجاج ہوتا ہے تو چین یہ کہہ کر جھٹلانے کی کوشش کرتا ہے کہ انہیں ٹریننگ کیمپوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں انہیں مناسب ٹریننگ دی جاتی ہے اور بھی کئی باتیں ہیں جنہیں چین اپنا اندرونی معاملہ کہہ کر عالمی برادری کی زبان بند کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً ہانگ کانگ میں خود وہ ایک ملک اور دو نظام کے سسٹم کی دھجیاں اڑا کر لوگوں کو ان کے جمہوری حقوق سے محروم کررہا ہے۔ وہاں زبردست احتجاج ہورہا ہے لیکن احتجاج کرنے والوں کی آواز کو بے دردی سے کچلنے کی آئے دن کوشش ہورہی ہے۔
اس کی یہ سختیاں اور سخت گیریاں صرف انسانی حقوق کی پامالی تک محدود نہیں ہیں بلکہ اب دیکھنے میں یہ بھی آرہا ہے کہ وہ طاقت کے نشے میں اتنا چور ہوگیا ہے کہ توسیع پسندانہ عزائم کے تحت مختلف علاقوں کی سالمیت اور خود مختاری کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے اور اس طرح اپنی بالا دستی دوسرے ملکوں پر بھی قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔یہ عالمی قوانین اور ضابطوں کی سراسر خلاف ورزی ہے ۔ ایشیا-پیسفک علاقے میں اس کی حالیہ سرگرمیاں کافی قابل اعتراض رہی ہیں اور اس پر عالمی پیمانے پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔گزشتہ دنوں 15ویں مشرقی ایشیائی چوٹی کانفرنس منعقد ہوئی ۔ یہ کانفرنس ورچوئل نوعیت کی تھی۔ ایسٹ ایشین کانفرنس دراصل ایشیا–پیسفک علاقے کا سب سے اہم پلیٹ فارم ہے جو اس علاقے کی سلامتی اور دفاع کے معاملات سے سروکار رکھتا ہے۔ اس میں آسیان کے دس ممالک تو بنیادی رکن ہیں ہی لیکن امریکہ ، جاپان، چین، جمہوریہ، کوریا، ہندوستان، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور روس بھی ڈائیلاگ پارٹنر کے طور پر شامل ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ساؤتھ چائناسی میں بعض حلقوں کی طرف سے ایسے قدم اٹھائے گئے ہیں اور ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے اس علاقے کے ملکوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایشیا–پیسفک علاقے کے مشترکہ مفادات مشرقی ایشیا کے تمام ممالک کو عزیز ہیں اور اگر اس میں کوئی ملک اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے تو یہ ان ممالک کی علاقائی سالمیت پر حملے کے مترادف ہوگا۔ کانفرنس کی صدارت ویتنام کے وزیر اعظم نے کی ۔ یاد رہے کہ وہ اس وقت آسیان کے چیئرمین بھی ہیں۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ مشرقی ایشیا کے یہ ممالک اس بات کے خواہاں ہیں کہ علاقے میں واقع تمام ممالک کے مفادات کا تحفظ ہو اور بے جا طور پر کوئی اپنی بالا دستی قائم کرنے کی کوشش نہ کرے۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ چین ساؤتھ چائنا سی کے پورے علاقے کو صرف اپنا حصہ تصور کرتا ہے جبکہ یہ علاقہ ہائیڈروکاربن کے وسائل کا ایک بہت بڑا مرکز ہے لیکن علاقے کے دوسرے ممالک مثلاً ویتنام ، فلپائن اور برونئی بھی اس کے دعویدار ہیں۔ چین کا یکطرفہ دعویٰ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گا۔ دوسری بات یہ ہے اس سے متعدد دوسرے ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے اندر چین نے ساؤتھ چائنا سی میں کچھ فوجی مہم جوئیاں بھی کی ہیں اور کورونا وائرس جیسی عالمی وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقے کے ممالک میں بے اعتمادی کا ماحول پیدا کیا ہے۔
چین کو کچھ اسی طرح کی وارننگ امریکہ نے بھی دی ہے۔ گزشتہ دنوں امریکہ-آسیان کی ورچوئل کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے واضح لفظوں میں کہا کہ ایشیا-پیسفک ایک کھلا ہوا اور اسٹریٹیجک علاقہ ہے۔ جس میں چین اپنے توسیع پسندانہ عزائم کا ایجنڈہ نافذ کرنا چاہتاہے۔ اسے ایسے ارادوں سے باز آنا چاہئے ورنہ عالمی طورپر اس کا نوٹس لیا جائے گا اور چین کو اپنی مہم جوئی کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
اگر اس کی مہم جوئیوں میں مشرقی لداخ میں اس کی حالیہ بدنیتی کے واقعہ کو جوڑ دیا جائے تو اس کی توسیع پسندانہ ذہنیت پورے طو رپر بے نقاب ہوجاتی ہے۔بہتر یہی ہوگا کہ چین نوشتۂ دیوار کو پڑھنے کی کوشش کرے اور اپنی ان کوششوں پر روک لگائے جو عالمی برادری کے لئے تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
اس کی یہ سختیاں اور سخت گیریاں صرف انسانی حقوق کی پامالی تک محدود نہیں ہیں بلکہ اب دیکھنے میں یہ بھی آرہا ہے کہ وہ طاقت کے نشے میں اتنا چور ہوگیا ہے کہ توسیع پسندانہ عزائم کے تحت مختلف علاقوں کی سالمیت اور خود مختاری کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے اور اس طرح اپنی بالا دستی دوسرے ملکوں پر بھی قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔یہ عالمی قوانین اور ضابطوں کی سراسر خلاف ورزی ہے ۔ ایشیا-پیسفک علاقے میں اس کی حالیہ سرگرمیاں کافی قابل اعتراض رہی ہیں اور اس پر عالمی پیمانے پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔گزشتہ دنوں 15ویں مشرقی ایشیائی چوٹی کانفرنس منعقد ہوئی ۔ یہ کانفرنس ورچوئل نوعیت کی تھی۔ ایسٹ ایشین کانفرنس دراصل ایشیا–پیسفک علاقے کا سب سے اہم پلیٹ فارم ہے جو اس علاقے کی سلامتی اور دفاع کے معاملات سے سروکار رکھتا ہے۔ اس میں آسیان کے دس ممالک تو بنیادی رکن ہیں ہی لیکن امریکہ ، جاپان، چین، جمہوریہ، کوریا، ہندوستان، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور روس بھی ڈائیلاگ پارٹنر کے طور پر شامل ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ساؤتھ چائناسی میں بعض حلقوں کی طرف سے ایسے قدم اٹھائے گئے ہیں اور ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے اس علاقے کے ملکوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایشیا–پیسفک علاقے کے مشترکہ مفادات مشرقی ایشیا کے تمام ممالک کو عزیز ہیں اور اگر اس میں کوئی ملک اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے تو یہ ان ممالک کی علاقائی سالمیت پر حملے کے مترادف ہوگا۔ کانفرنس کی صدارت ویتنام کے وزیر اعظم نے کی ۔ یاد رہے کہ وہ اس وقت آسیان کے چیئرمین بھی ہیں۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ مشرقی ایشیا کے یہ ممالک اس بات کے خواہاں ہیں کہ علاقے میں واقع تمام ممالک کے مفادات کا تحفظ ہو اور بے جا طور پر کوئی اپنی بالا دستی قائم کرنے کی کوشش نہ کرے۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ چین ساؤتھ چائنا سی کے پورے علاقے کو صرف اپنا حصہ تصور کرتا ہے جبکہ یہ علاقہ ہائیڈروکاربن کے وسائل کا ایک بہت بڑا مرکز ہے لیکن علاقے کے دوسرے ممالک مثلاً ویتنام ، فلپائن اور برونئی بھی اس کے دعویدار ہیں۔ چین کا یکطرفہ دعویٰ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گا۔ دوسری بات یہ ہے اس سے متعدد دوسرے ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے اندر چین نے ساؤتھ چائنا سی میں کچھ فوجی مہم جوئیاں بھی کی ہیں اور کورونا وائرس جیسی عالمی وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقے کے ممالک میں بے اعتمادی کا ماحول پیدا کیا ہے۔
چین کو کچھ اسی طرح کی وارننگ امریکہ نے بھی دی ہے۔ گزشتہ دنوں امریکہ-آسیان کی ورچوئل کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے واضح لفظوں میں کہا کہ ایشیا-پیسفک ایک کھلا ہوا اور اسٹریٹیجک علاقہ ہے۔ جس میں چین اپنے توسیع پسندانہ عزائم کا ایجنڈہ نافذ کرنا چاہتاہے۔ اسے ایسے ارادوں سے باز آنا چاہئے ورنہ عالمی طورپر اس کا نوٹس لیا جائے گا اور چین کو اپنی مہم جوئی کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
اگر اس کی مہم جوئیوں میں مشرقی لداخ میں اس کی حالیہ بدنیتی کے واقعہ کو جوڑ دیا جائے تو اس کی توسیع پسندانہ ذہنیت پورے طو رپر بے نقاب ہوجاتی ہے۔بہتر یہی ہوگا کہ چین نوشتۂ دیوار کو پڑھنے کی کوشش کرے اور اپنی ان کوششوں پر روک لگائے جو عالمی برادری کے لئے تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
Comments
Post a Comment