کابل یونیورسٹی پر داعش کا حملہ


ایک طرف دوحہ میں حکومت افغانستان کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں اور لاقانونیت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی مثالیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ افغان مذاکرات ویسے تو قیام امن کے لئے چل رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کے حوالے سے کوئی پُر امید بات نظر نہیں آرہی ہے۔ چند روز قبل ہی افغانستان کے صوبہ بلخ کے سابق گورنر عطا محمد نور ایک سفارتی مشن پر ہندوستان آئے تھے اور انھوں نے یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد صورتحال انتہائی سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ان کے اندیشے کی بنیاد یہ تھی کہ شاید طالبان حکومت افغانستان سے بات چیت کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے اور وہ اپنے ایجنڈے کے مطابق ہی اور اپنی شرطوں پر کسی سمجھوتے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ یہ اندیشہ افغانستان کے مختلف حلقوں میں پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور ان حلقوں میں نا امیدی کا ماحول زیادہ ہے جو افغانستان میں امن اور اعتدال پسندی کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ زیادہ خطرہ اس بات کا محسوس کیا جا رہا ہے کہ اگر خدانخواستہ دوحہ مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے تو حالات ناگفتہ بہ ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں لاقانونیت بڑھ جائے گی اور اس کا سب سے بڑا اثر سماجی زندگی پر پڑے گا۔ تعلیم کے شعبے پر، بطور خاص خواتین کی تعلیم اور ان کی روزمرہ کی زندگی پر بہت ناخوشگوار اثر مرتب ہوگا۔

اس دوران کابل یونیورسٹی پر ایک زبردست حملے کی خبر بھی آئی۔دراصل وہاں ایک کتاب میلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ حملہ اتنا زبردست تھا کہ ایک گھنٹے سے بھی زیادہ گولی باری کا سلسلہ چلتا رہا جس میں ابتدائی خبروں کے مطابق 22 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ دھیرے دھیرے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر چالیس کے قریب ہو گئی۔ یہ حملہ تعلیمی ادارے پر ہوا تھا اس لئے قدرتی طور پر مرنے والوں میں بھی طلبا کی تعداد ہی زیادہ تھی۔ یہ حملہ گزشتہ پیر کے روز ہوا تھا۔ اس سے کم و بیش ایک ہفتہ قبل ایک اور تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ اس حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ یعنی آئی ایس نے لی ہے۔ جیسے ہی حملہ شروع ہوا طلبا اور اساتذہ ادھر اُدھرپناہ حاصل کرنے کے لئے منتشر ہو گئے۔ جائے واردات کے قریب ہی شعبہ قانون و صحافت کے مراکز واقع ہیں، دستی بموں اور بندوقوں کا استعمال بے دریغ ہو رہا تھا۔ افغانستان کے خصوصی فورس کے دستے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش میں لگ گئے اور انھوں نے اساتذہ اور طلبا کی جان بچانے کی کوشش کی۔ بہرحال کچھ دیر بعد صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس حملے میں جو تین دہشت گرد ملوث تھے وہ ہلاک کر دئے گئے۔

آئی اس نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اس حملے کا مقصد یہ تھا کہ یونیورسٹی میں جو لوگ قانون کی تعلیم حاصل کر کے جج بننا چاہتے ہیں یا خفیہ ایجنسیوں میں تفتیش کا کام کرنا چاہتے ہیں انھیں نشانہ بنایا جائے کیونکہ یہ سب لوگ کافر ہیں اور افغان حکومت بھی کافروں کی حکومت ہے۔ یہ ہے حملہ کرنے والوں کا مقصد اور ایجنڈہ۔ چوبیس اکتوبر کو بھی ایک تعلیمی مرکز پر حملہ ہو ا تھا اور اس میں 24 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس طرح کے حملوں سے اُس زمانے کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں جب طالبان تعلیمی ادروں کو بطور خاص نشانہ بنایا کرتے تھے۔

آئی ایس ہو یا طالبان یا کوئی اور دہشت گرد گروپ، اس طرح کی تمام تخریب کار تنظیموں کا تعلیم کے تعلق سے کم و بیش ایک ہی نظریہ رہا ہے۔ جہاں تک افغانستان کے حالیہ حملوں کا تعلق ہے تو بعض حلقوں میں جو یہ اندیشہ پایا جاتا ہے کہ افغانستان کی حد تک طالبان اور آئی ایس میں ایک خفیہ سمجھوتہ ہے کہ طالبان بظاہر ایسے حملوں سے خود کو لاتعلق ظاہر کریں گے لیکن اندر سے ان کی حمایت کریں گے، درست لگتا ہے۔ ایسی خبریں اس وقت بھی ملی تھیں جب امریکی اور طالبان نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ چل رہاتھا۔ ان حالات اور واقعات سے افغانستان کے ان حلقوں کی تشویش اور اندیشوں کو تقویت ملتی ہے کہ طالبان کی طرف سے بین افغان مذاکرات میں شرکت کرنا محض ایک ڈرامہ ہے ، ان کا درپردہ ایجنڈا کچھ اور ہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ