ایغوروں کی نسل کشی کی شکایت بین اقوامی جرائم عدالت میں پیش
چین کے مغربی خطے سنکیانگ میں آباد لاکھوں ایغور مسلمانوں کے خلاف چینی حکومت کے مظالم کی داستانیں برابر دنیا کے سامنے آتی رہتی ہیں۔ جس پر دنیا بھر کے انصاف پسند لوگ حکومتِ چین کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن عالم انسانیت کی تمام شکایتوں، درخواستوں اور اپیلوں کے باوجود چین کے رویے میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں ہوئی ہے بلکہ سچائی یہ ہے کہ وہ مذہبی شدت پسندی کے خلاف کارروائی کا بہانہ بنا کر ایغور مسلمانوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائیاں کرتا رہا ہے۔ اگر سچائی وہی ہوتی جو چین کی حکومت بتاتی ہے تو دنیا اس کی حمایت کرتی کیونکہ دہشت گردی اور مذہبی جنون پسندی کی حمایت کوئی نہیں کرسکتا لیکن سچائی تو کچھ اور ہے۔ دراصل سنکیانگ خطے میں یورینیم کاسب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے جس کا استعمال نیوکلیائی توانائی حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ چین اس وقت نیوکلیائی توانائی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور وہ اس میدان میں اپنا سامراج قائم کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔ وہاں ابھی 44 نیوکلیئر ری ایکٹر کام کر رہے ہیں اور 18 زیر تعمیر ہیں۔ نیوکلیائی توانائی کو تیار کرنے میں ماحولیات کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ تو ہے ہی، جن جگہوں پر اس کے پلانٹ لگائے جاتے ہیں وہاں کی مقامی آبادی کی صحت پر بھی اس کے بُرے اثرات پڑتے ہیں۔ سب سے زیادہ کینسر کی بیماری پھیلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان نیوکلیائی پلانٹوں کے خلاف ایغوریوں کی مزاحمت شروع ہوئی۔ اس مزاحمت کا توڑ کرنے کے لئے ایک طرف حکومت چین نے اس خطے کے ہان نسل کے چینیوں کو ایغوریوں کے خلاف ورغلایا اور پھر امن و قانون قائم کرنے کے نام پر ایغوریوں پر ظلم ڈھائے اور دوسری طرف مذہبی بنیاد پرستی کا توڑ کرنے کی آڑ میں ایغور مردوں اور عورتوں کو اصلاح کے نام پر ایسے کنسنٹریشن کیمپوں میں ڈال دیا ہے جن میں جنگی قیدیوں یا ملک دشمن عناصر کو بطور سزا رکھا جاتا ہے۔ خود چینی سرکار کے دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سنکیا نگ میں ہزاروں ایغور بچے بے سہارا ہو گئے ہیں کیوں کہ ان کے باپ یا ماں یا دونوں قید میں یا کیمپوں میں ڈال دیے گئے ہیں۔ اندازے کے مطابق چینی حکام نے دس لاکھ سے بھی زیادہ ایغور مسلمانوں کو ان نام نہاد اصلاحی کیمپوں یا قید خانوں میں ڈال رکھا ہے۔ حکومت چین اپنی ان ظالمانہ پالیسیوں کے دفاع میں یہ کہتی ہے کہ یہ وہاں سے غربت ختم کرنے اور مذہبی بنیاد پرستی کو ختم کرنے کے لیے ہے۔ لیکن دنیا کی آنکھوں میں وہ کب تک دھول جھونکتا رہے گا۔ اب سے چند روز قبل مختلف ملکوں کی پارلیمنٹ کے اراکین پر مشتمل ایک بین اقوامی اتحاد نے بین اقوامی جرائم عدالت کے سامنے یہ شکایت رکھی ہے کہ حکومت چین کے ذریعہ ایغوریوں اور ترکش لوگوں کی مبینہ نسل کشی کے معاملات کی جانچ کی جائے اور اس پر قانونی کاروائی کی جائے۔ اس شکایت نامے کو سولہ ممالک کے ساٹھ سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہے۔ اس شکایت نامے میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت چین ایغور اور دیگر ترکش کے خلاف جو اقدامات کر رہی ہے وہ انسانیت کش اور نسل کشی کے مترادف ہے۔شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کے ڈھیروں ثبوت موجود ہیں کہ سنکیانگ خطے کے ایغوریوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف سنگین مظالم کئے جا رہے ہیں۔ چنانچہ بین اقوامی جرائم عدالت ان الزامات کی پوری طرح تفتیش کرے اور اگر الزامات صحیح ثابت ہوتے ہیں تو گناہ گاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کو یقینی بنائے۔
واضح ہو کہ چین کی آمریت کے خلاف بنا یا گیا یہ بین اقوامی اتحاد ایک آزاد، کھلا اور انصاف و قوانین پر مشتمل ایک ایسا بین اقوامی نظام چاہتا ہے جس میں انسان کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کے لیے سازگار ماحول مل سکے۔بین اقوامی جرائم عدالت کا قیام اقوام متحدہ کی ایک قرارنامے کے تحت 2002میں عمل میں آیا ہے۔ یہ عدالت جنگی جرائم، انسانیت کش جرائم اور نسل کشی جیسے مظالم کی شکایتوں کی تفتیش کرتی ہے اور اس کے مجرموں کو سزائیں دیتی ہے۔ اس کا دائرہ عمل زیادہ اہم تب بن جاتا ہے جب کسی ملک کا اپنا نظام ان مجرموں کو سزا نہیں دیتا یا دینا ہی نہیں چاہتا۔ جیسا کہ ایغوروں کے معاملے میں چین کا رویہ ہے۔اتفاق سے اس وقت امریکہ میں ہوئے صدارتی انتخاب میں ڈونالڈ ٹرمپ کی ہار ہوئی ہے اور جو بائیڈن صدر منتخب ہیں ۔ چنانچہ یہ نئے امریکی صدر کے لئے بھی ایک امتحان ہو گا کہ وہ دنیا میں انسانی حقوق کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔
واضح ہو کہ چین کی آمریت کے خلاف بنا یا گیا یہ بین اقوامی اتحاد ایک آزاد، کھلا اور انصاف و قوانین پر مشتمل ایک ایسا بین اقوامی نظام چاہتا ہے جس میں انسان کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کے لیے سازگار ماحول مل سکے۔بین اقوامی جرائم عدالت کا قیام اقوام متحدہ کی ایک قرارنامے کے تحت 2002میں عمل میں آیا ہے۔ یہ عدالت جنگی جرائم، انسانیت کش جرائم اور نسل کشی جیسے مظالم کی شکایتوں کی تفتیش کرتی ہے اور اس کے مجرموں کو سزائیں دیتی ہے۔ اس کا دائرہ عمل زیادہ اہم تب بن جاتا ہے جب کسی ملک کا اپنا نظام ان مجرموں کو سزا نہیں دیتا یا دینا ہی نہیں چاہتا۔ جیسا کہ ایغوروں کے معاملے میں چین کا رویہ ہے۔اتفاق سے اس وقت امریکہ میں ہوئے صدارتی انتخاب میں ڈونالڈ ٹرمپ کی ہار ہوئی ہے اور جو بائیڈن صدر منتخب ہیں ۔ چنانچہ یہ نئے امریکی صدر کے لئے بھی ایک امتحان ہو گا کہ وہ دنیا میں انسانی حقوق کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment