پاکستان میں احمدیہ فرقے پر تشدد میں اضافہ

دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نام نہاد اسلامی جمہوریہ کی بنیاد ہی کج نہاد ثابت ہوئی۔ بانیٔ پاکستان کی تاریخی تقریر جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر کا درجہ دینے کی بات کہی گئی تھی اسے خود پاکستان کے حکمرانوں کو بھولنے میں زیادہ دن نہیں لگے۔ فرقے، عقائد اور مسلک کے نام پر جتنا کشت و خون پاکستان میں اس کے قیام کے کچھ دنوں بعد سے لے کر اب تک ہوا ہے وہ شااید ہی اتنے کم عرصے میں کہیں اور ہوا ہو۔

گزشتہ دنوں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں احمدیہ فرقے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لئے پاکستان کی سرزنش کی اور یہ بھی کہا کہ اسے جلد از جلد غیر جانبداری سے اس بات کی تفتیش کرنی چاہئے کہ اچانک احمدیہ فرقے کے لوگوں پر ہونے والے حملوں میں اتنی شدت آنے کے اسباب کیا ہیں اور ان حملوں کے لئے ذمہ دار مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے ۔

دراصل عالمی اداروں کی یہ تشویش کچھ بیجا بھی نہیں۔ ذرا تفصیل میں جائیں تو پتہ چلے گا کہ اس سال جولائی کے بعد احمدیہ فرقے کے کم از کام پانچ افراد ’’ ٹارگٹ کلنگ‘‘ کا شکار ہوئے اور صرف دو معاملے میں پولس نے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ یہی نہیں کہ پاکستانی حکام ایک عرصے سے اس طرح کے واقعات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے بلکہ بعض اوقات تو خود احمدیہ فرقے کے لوگوں کے خلاف تشدد کے واقعات کے پیچھے ان کی در پردہ حوصلہ افزائی یا دانستہ چشم پوشی بھی شامل ہوتی ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ان کے مسلک اور عقیدے کو خود پاکستان کی عدلیہ بھی خاطر خواہ تحفظ فراہم کر پانے میں ناکام رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے صدر عمر واڑائچ کا خیال ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ صعوبتیں احمدیہ فرقے کے لوگوں کے حصے میں آئی ہیں۔ ان کے خلاف تشدد کی جو نئی لہر آئی ہے وہ تو تشویشناک ہے ہی، لیکن انھیں سب سے زیادہ تکلیف پاکستانی حکام کے رویے سے پہنچی ہے جو انھیں تحفظ فراہم کرنے میں اور مجرموں یا قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔پاکستان میں خواہ کسی کی حکومت رہی ہو لیکن اس اقلیت کے تئیں رویے میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ خود پاکستان کے قوانیں انھیں اپنے عقیدے کی تبلیغ اور خود کو مسلمان کہنے کا حق نہ دے سکے۔ وہ نہ تو اپنی عبادت گاہیں بنوا سکتے ہیں اورنہ ہی انھیں دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت ہے۔ عالم یہ ہے کہ حکام انھیں کبھی بھی بغیر کسی ثبوت کے گرفتار کر سکتے ہیں یا ان کے خلاف اہانت دین کا الزام یا کوئی اور جواز دے کر حراست میں لے سکتے ہیں۔ بارہا دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیس خود بھی ان کے خلاف جرائم میں شریک ہوتی ہے اور بے بنیاد الزامات لگاکر پریشان کرتی ہے ۔ ان کے خلاف تشدد ہوتا دیکھ کر بھی وہ اسے روکنے کی کوشش نہیں کرتی۔ حکومت کی اس ناکامی نے مجرموں کے حوصلوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اجلاس کا حصہ تھا جس میں یہ قرار داد منظور کی گئی تھی کہ حکومتیں اپنی اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق کی مکمل اور غیر جانبداری کے ساتھ حفاظت کریں گی لیکن بدقسمتی سے پاکستانی حکومت اپنے اس فریضے کو نبھانے میں بھی پوری طرح ناکام رہی ہے۔ کسی بھی مہذب سماج میں دوسروں کے مسلک اور عقائد کا احترام انسانیت کی بنیادی شرائط میں ایک ہے۔ احمدیہ فرقے کے خلاف کئی ایسے قوانین ہیں جو عدل کے عالمی تقاضوں پر کھرے نہیں اترتے۔

پاکستان خود آئی سی سی پی آر (International Covenant on Civil and Political Rights ) کی اس قرارداد پر عمل کرنے کا ۲۰۱۰ میں عہد لے چکا ہے جس میں صاف لفظوں میں ضمیر ، اظہار و انسلاک اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔

پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو ہیومن رائٹس واچ نے ایسی حکمت عملی اپنانے کی ہدایت دی ہے جس سے احمدیہ فرقے کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ پر فوری لگام کسی جا سکے ، جس میں حالیہ دنوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ڈائرکٹر Patricia Gossman نے اہانت دین سے متعلق قوانین کو بھی واپس لینے کی مانگ کی ہے۔

پاکستان اب بھی دنیا کے دوسرے ممالک سے سبق لے سکتا ہے اور اپنی روش تبدیل کر کے شرمندگی سے بچ سکتا ہے لیکن اسے عالمی برادری کی پروا ہی کب ہے۔ خواہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کا معاملہ ہو یا اقلیتوں پر مظالم کا سلسلہ پاکستان کےحکمراں طبقے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ