حافظ سعید کی سزا کا فیصلہ: ایف اےٹی ایف کےعتاب سےبچنے کی کوشش؟
ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور جماعت الدعویٰ کےسرغنہ حافظ سعید اور اس کے دو دیگر معاونین کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے میں ساڑھے دس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ ان کے علاوہ حافظ سعید کے برادرِ نسبتی عبد الرحمٰن مکی کو چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے ذرائع کے مطابق ان سب کو یہ سزائیں دہشت گردوں کو فنڈفراہم کرنے کے دو مزید معاملات میں دی گئی ہیں۔ عدالت نے حافظ سعید پر تقریباً 700ڈالر کاجرمانہ بھی عائد کیا ہے اور اس کی املاک ضبط کرنے کا بھی حکم سنایا ہے۔ 70 سالہ حافظ سعید اس وقت ہائی سیکورٹی کورٹ لکھپت جیل میں بند ہے۔ اسے گزشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جماعت الدعویٰ کے متعدد لیڈروں کے خلاف مجموعی طور پر 41 مقدمات درج کئے گئے تھے جن میں سے 24کے فیصلےسنائے جاچکے ہیں۔باقی ابھی زیرغور ہیں۔ جہاں تک حافظ سعید کا تعلق ہے، تو اس کے خلاف چار مقدمات کے فیصلے سنائے جاچکے ہیں۔
یاد رہے کہ حافظ سعید دہشت گردی کے معاملے میں ہندوستان کا انتہائی مطلوبہ ملزم ہے۔ اسے اقوام متحدہ کی جانب سے خطرناک عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے علاوہ امریکہ سمیت کئی اور ملکوں کی جانب سے بھی اسے دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکہ نے اس کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔ ممبئی میں 2008 میں لشکر طیبہ کا جو حملہ ہوا تھا اس کا ماسٹر مائنڈ حافظ سعید ہی کو بتایا جاتا ہے۔ یاد رہےکہ ممبئی میں لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے جو تباہی پھیلائی تھی ، اس میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جن میں 6 امریکی شہری بھی شامل تھے۔ اس حملہ کے دوران ایک دہشت گرد اجمل قصاب زندہ پکڑا گیا تھا جس کے خلاف پوری عدالتی کارروائی کے بعد اسے پھانسی دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ امریکہ میں پاکستانی نسل کے دو غیر ملکی شہریوں ڈیوڈ ہیڈلی اور تہور رعنا پر بھی مقدمہ چلا تھا اور انہیں بھی سزا ہوئی تھی۔ البتہ پاکستان نے ان حملوں میں ملوث جن دہشت گردوں کے خلاف 2009 میں مقدمہ قائم کیا تھا وہ مقدمہ ابھی تک چل ہی رہا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔
بہر حال حافظ سعید کو جو سزائیں سنائی گئی ہیں، ان میں سے بیشتر کا تعلق دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے سے ہے۔ لشکر طیبہ حافظ سعید کی ہی قائم کردہ تنظیم ہے اور اگرچہ وہ پاکستان میں بھی ایک ممنوعہ تنظیم ہے لیکن جماعت الدعویٰ دراصل اسی کا ایک دوسرا نام ہے۔ حافظ سعید کی اور بھی کئی تنظیمیں اور ٹرسٹ ہیں جن پر بھی یہ الزام ہے کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر دہشت گردی کی ہی حمایت کرتی ہیں اور دہشت گردوں کی مدد کرتی ہیں۔پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی حافظ سعید اور ان کی تنظیموں پر خاص نظرِ عنایت رہی ہے۔یہ باتیں سب کے علم میں ہیں۔
حافظ سعید اور ان کے کچھ خاص معاونین کو سزائیں دہشت گردوں کی مالی مدد کےکیس میں دی گئی ہیں۔ لیکن پاکستان کےحالات اور معاملات پرگہری نظر رکھنے والے مشاہدین اور تجزیہ کاروں کا، جن میں پاکستان کے تجزیہ کار بھی شامل ہیں، خیال ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کی طرف سے جو سزائیں سنائی گئی ہیں، ان سے اتنا اندازہ تو ہو ہی جاتا ہے کہ کم از کم ایسے ثبوت تو موجود تھے جن کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی عدالت نے سزا سنائی ہے۔ لیکن بیشتر تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ انسداد دہشت گردی کے محکمے نے کیس کو جو یہاں تک پہنچایا اور حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کو جو سزا ملی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی فنڈنگ پر نظر رکھنے والے کثیر قومی واچ ڈاگ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور اسے سخت وارننگ دی تھی کہ اگر اگلےسال فروری تک اس نے دہشت گردوں کی فنڈنگ کے خلاف سخت قدم نہیں اٹھائے تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔ لہٰذا ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچنے کے لئے ان تمام باتوں کا اہتمام کیا گیا تاکہ ایف اے ٹی ایف اور عالمی برادری کو لگے کہ پاکستان واقعی سنجیدہ ہے۔ اگر پاکستان فروری تک یہ قدم نہیں اٹھا پاتا تو اس بات کا پورا امکان تھا کہ وہ بلیک لسٹ میں شامل ہوجاتا ۔اس صورت میں پاکستان کے لئے حالات انتہائی ناسازگار ہوسکتے تھے۔کیونکہ عالمی مالیاتی ادارے اس صورت میں قرض اور امداد دینا بند کردیتے جس سے اقتصادی سطح پر پاکستان کو شدید بحران کا شکار ہونا پڑتا۔ عام تاثر بھی یہی ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ عین ایسے وقت میں آیا جس کے سہارے پاکستان ایف اے ٹی ایف سے رعایت حاصل کرنے کی درخواست کرسکتا ہے۔
بہرحال آنے والے وقتوں میں ہی اصل صورت حال سمجھ میں آئے گی اور اس بات کا جائزہ لیا جاسکے گا کہ پاکستان دہشت گردی کی روک تھام کرنے کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ حافظ سعید اور اس کے کچھ ساتھیوں کو ملنے والی یہ سزا اس بات کی گارنٹی نہیں ہے کہ پاکستان واقعی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنا بند کر دے گا۔
یاد رہے کہ حافظ سعید دہشت گردی کے معاملے میں ہندوستان کا انتہائی مطلوبہ ملزم ہے۔ اسے اقوام متحدہ کی جانب سے خطرناک عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے علاوہ امریکہ سمیت کئی اور ملکوں کی جانب سے بھی اسے دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکہ نے اس کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔ ممبئی میں 2008 میں لشکر طیبہ کا جو حملہ ہوا تھا اس کا ماسٹر مائنڈ حافظ سعید ہی کو بتایا جاتا ہے۔ یاد رہےکہ ممبئی میں لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے جو تباہی پھیلائی تھی ، اس میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جن میں 6 امریکی شہری بھی شامل تھے۔ اس حملہ کے دوران ایک دہشت گرد اجمل قصاب زندہ پکڑا گیا تھا جس کے خلاف پوری عدالتی کارروائی کے بعد اسے پھانسی دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ امریکہ میں پاکستانی نسل کے دو غیر ملکی شہریوں ڈیوڈ ہیڈلی اور تہور رعنا پر بھی مقدمہ چلا تھا اور انہیں بھی سزا ہوئی تھی۔ البتہ پاکستان نے ان حملوں میں ملوث جن دہشت گردوں کے خلاف 2009 میں مقدمہ قائم کیا تھا وہ مقدمہ ابھی تک چل ہی رہا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔
بہر حال حافظ سعید کو جو سزائیں سنائی گئی ہیں، ان میں سے بیشتر کا تعلق دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے سے ہے۔ لشکر طیبہ حافظ سعید کی ہی قائم کردہ تنظیم ہے اور اگرچہ وہ پاکستان میں بھی ایک ممنوعہ تنظیم ہے لیکن جماعت الدعویٰ دراصل اسی کا ایک دوسرا نام ہے۔ حافظ سعید کی اور بھی کئی تنظیمیں اور ٹرسٹ ہیں جن پر بھی یہ الزام ہے کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر دہشت گردی کی ہی حمایت کرتی ہیں اور دہشت گردوں کی مدد کرتی ہیں۔پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی حافظ سعید اور ان کی تنظیموں پر خاص نظرِ عنایت رہی ہے۔یہ باتیں سب کے علم میں ہیں۔
حافظ سعید اور ان کے کچھ خاص معاونین کو سزائیں دہشت گردوں کی مالی مدد کےکیس میں دی گئی ہیں۔ لیکن پاکستان کےحالات اور معاملات پرگہری نظر رکھنے والے مشاہدین اور تجزیہ کاروں کا، جن میں پاکستان کے تجزیہ کار بھی شامل ہیں، خیال ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کی طرف سے جو سزائیں سنائی گئی ہیں، ان سے اتنا اندازہ تو ہو ہی جاتا ہے کہ کم از کم ایسے ثبوت تو موجود تھے جن کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی عدالت نے سزا سنائی ہے۔ لیکن بیشتر تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ انسداد دہشت گردی کے محکمے نے کیس کو جو یہاں تک پہنچایا اور حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کو جو سزا ملی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی فنڈنگ پر نظر رکھنے والے کثیر قومی واچ ڈاگ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور اسے سخت وارننگ دی تھی کہ اگر اگلےسال فروری تک اس نے دہشت گردوں کی فنڈنگ کے خلاف سخت قدم نہیں اٹھائے تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔ لہٰذا ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچنے کے لئے ان تمام باتوں کا اہتمام کیا گیا تاکہ ایف اے ٹی ایف اور عالمی برادری کو لگے کہ پاکستان واقعی سنجیدہ ہے۔ اگر پاکستان فروری تک یہ قدم نہیں اٹھا پاتا تو اس بات کا پورا امکان تھا کہ وہ بلیک لسٹ میں شامل ہوجاتا ۔اس صورت میں پاکستان کے لئے حالات انتہائی ناسازگار ہوسکتے تھے۔کیونکہ عالمی مالیاتی ادارے اس صورت میں قرض اور امداد دینا بند کردیتے جس سے اقتصادی سطح پر پاکستان کو شدید بحران کا شکار ہونا پڑتا۔ عام تاثر بھی یہی ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ عین ایسے وقت میں آیا جس کے سہارے پاکستان ایف اے ٹی ایف سے رعایت حاصل کرنے کی درخواست کرسکتا ہے۔
بہرحال آنے والے وقتوں میں ہی اصل صورت حال سمجھ میں آئے گی اور اس بات کا جائزہ لیا جاسکے گا کہ پاکستان دہشت گردی کی روک تھام کرنے کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ حافظ سعید اور اس کے کچھ ساتھیوں کو ملنے والی یہ سزا اس بات کی گارنٹی نہیں ہے کہ پاکستان واقعی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنا بند کر دے گا۔
Comments
Post a Comment