افغانستان سے تشدد کا ماحول ختم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کے تعاون کی عمران خان کی طرف سے یقین دہانی



چند روز قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے افغانستان کا دورہ کیا، جو ان کا اس ملک کا بطور وزیر اعظم پہلا دورہ تھا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب قطر کی راجدھانی دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اندرون افغانستان دہشت گردوں کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب افغانستان میں سیکورٹی فورسز اور سویلین کی ہلاکت نہ ہوتی ہو۔ خود عمران خاں کے دورہ کے ایک ہی دن بعد کابل کے مختلف علاقوں میں مورٹار شیل کے حملے ہوئے جن میں آٹھ سے دس افراد ہلاک اور 30 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ایسے حملے سیکورٹی کے اعتبار سے حساس، وزیر اکبر خان روڈ پر بھی ہوئے جہاں متعدد ممالک کے سفارتی مشن بھی واقع ہیں۔ ایک حملہ ایرانی سفارت خانے کے احاطہ پر بھی ہوا جس میں کوئی ہلاک یا زخمی تو نہیں ہوا لیکن عمارت کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔

بہرحال یہ تو وہاں کا آئے دن کاقصہ ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے افغانستان میں سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ جب امریکہ کی قیادت والی فوجیں پورے طور سے افغانستان سے واپس چلی جائیں گی تو افغانستان کی صورت حال کیا ہوگی؟ افغانستان میں عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان اس کا قابل اعتبار پڑوسی نہیں ہے۔ افغانستان کا بڑا حلقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ پاکستان طالبان کو پناہ گاہیں مہیا کراتا رہا ہے۔اور اسی کی شہہ پر وہ افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان سمجھوتہ تو ہوچکا ہے لیکن جو موجودہ صورت حال ہے اس کے پیش نظر ہر طرف یہ محسوص کیا جارہا ہے کہ امریکہ کو یہ قدم ابھی نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس سلسلے میں ذاتی طور پر دلچسپی لے کر فوجوں کو جلد از جلد واپس بلالینے کا فیصلہ کیا لیکن امریکہ کے دوسرے اتحادی، جن کی فوجیں بھی افغانستان میں ہیں، وہ ان سے متفق نظر نہیں آتے۔ کابل میں حالیہ مورٹار حملے کے بعد خود افغانستان کے چیف مذاکرات کار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے بھی کہا ہے کہ امریکہ نے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ انتہائی عجلت میں کیا۔

بہرحال، دوحہ میں طالبان اور حکومت افغانستان کے نمائندوں کے مابین جاری مذاکرات میں بھی کوئی خاص پیش رفت ابھی تک نظر نہیں آئی ہے اس لیے تشویش کا ماحول برقرار ہے اور طالبان کی نیّت پر شک کیا جارہا ہے ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے رول کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ عمران خان کا حالیہ دورۂ افغانستان، یہی ظاہر کرتا ہے کہ ان کا اصل مقصد یہ صفائی پیش کرنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں بھرپور تعاون کرے گا۔ چنانچہ طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والے سمجھوتے کا کریڈٹ لیتے ہوئے عمران خان نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد پریس کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہی 2018 میں طالبان کو اس بات کے لیے آمادہ کیاکہ وہ امریکہ سے بات چیت کریں اور بالآخر امریکی فوجوں کی واپسی کے بارے میں سمجھوتہ ہوسکا۔ عمران خان نے اس بات کا کریڈٹ تو لیا کہ پاکستان نے طالبان اور امریکہ کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں نمایاں رول ادا کیا لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ طالبان پر پاکستان کا کتنا گہرا اثر ہے۔ اثر تو واقعی ہےافغانستان اور عالمی برادری بھی جانتی ہےکہ طالبان پر پاکستان کا اثر ہے۔ تو اگر پاکستان افغانستان میں امن قائم کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہوتا تو وہ طالبان کو اس بات کے لیے بہت پہلے ہی مجبور کرتا کہ وہ تشدد سے باز آئے اور افغانستان میں خون خرابے کو فروغ نہ دے۔ انہوں نے افغانستان میں میڈیا والوں سے کہا کہ پاکستان اس بات کی کوشش کرے گا کہ افغانستان میں سیز فائر کا ماحول قائم ہوجائے۔ عمران خان نے جب صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تو ان سے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام افغانستان میں امن اور استحکام چاہتے ہیں۔ پاکستان کے عوام تو یقینا ایسا چاہتے ہوں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ قطعی ایسا نہیں چاہتا اور اسی اسٹیبلشمنٹ کے عمران خان اس وقت سب سے بڑے حامی ہیں۔ بہر حال، صدر اشرف غنی نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح طور پر یہ بات کہی کہ بنیادی بات یہ ہے کہ سیاسی سمجھوتے تک پہنچنے کیلئے تشدد کا راستہ نہیں اختیار کیا جانا چاہیے۔ افغانستان میں پائیدار امن قائم کرنے کا راستہ یہ ہے کہ ہماری روایات اور اسلامی جمہوریہ کے آئینی دائرے میں رہ کر ملک کو مستحکم بنایا جانا چاہیے۔ ڈاکٹراشرف غنی نے دراصل کلیدی بات کہی ہے اگر پاکستان واقعی افغانستان میں امن کے قیام کا خواہاں ہے تو اسے اپنے اثرات کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کو آئین کی پاسداری کرنے اورتشدد سے گریز کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے، صرف زبانی طور پر امن کی باتیں کرنے کا یہی مطلب ہوگا کہ

ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ