پاکستان میں صحافیوں، سیاسی کارکنان اور اپوزیشن لیڈروں کے خلاف کریک ڈاؤن

مسئلے اگر وقت رہتے ختم نہ کیے جائیں تو بڑھتے جاتے ہیں، انہیں دبانے کی کوشش نئے مسئلے پیدا کرتی ہے۔ پاکستان میں پرانے مسئلے ہی کم نہ تھے کہ اب نئے مسئلے پیدا ہو رہے ہیں مگر پاک حکومت یا فوج یہ نہیں کہہ سکتی کہ مسئلے اچانک پیدا ہوئے ہیں۔ ایک عرصے سے بلوچستان کے لوگوں کے خلاف ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری ہے، ‘جبری گمشدگی’ وہاں کے لوگوں کے لیے ایک عام بات ہو چکی ہے مگر اس طرف فوجی سربراہ نے کبھی توجہ نہیں دی۔ دہشت گردی پاکستان کے لوگوں کے لیے بھی وبال جان بن چکی ہے، سیکڑوں پاکستانی دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں، 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا۔ اس میں 134 بچوں سمیت 149 لوگوں کی جانوں کے اتلاف کے بعد یہ سمجھا گیا تھا کہ دہشت گردی ختم کرنے پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ دنیا بھر میں پاکستان کی شبیہ دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کرنے والے ملک کی بن گئی ہے لیکن ‘جبری گمشدگی’ اور دہشت گردی جیسے بڑے مسئلوں کو تو چھوڑیے، نسبتاً چھوٹے مسئلوں پر بھی کچھ بولنا یا لکھنا پاکستان میں بہت مشکل ہو گیا ہے۔ حقائق پر مبنی ایک ٹوئٹ کر نا یا سوشل میڈیا پر کچھ لکھنا یا کوئی ویڈیو اَپ لوڈ کرنا آفت کو دعوت دینے کے مترادف بن گیا ہے۔ پاکستان کے حالات پر ٹوئٹ کرنے والوں یا سوشل میڈیا پر آرا ظاہر کرنے والوں کے خلاف ‘دی پری وِنشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ-2016’(The Prevention of Electronic Crimes Act,2016) ایک خطرناک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں کئی صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں، انہیں فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (Federal Investigation Agency) کی طرف سے سمن جاری کیا گیا ہے۔

28 اکتوبر، 2020 کو ‘عوامی خبرنامہ ڈاٹ کام’ کے عمیر سولنگی (Umair Solangi) نے ٹوئٹ کر کے یہ بتایا تھا کہ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کی سائبر کرائم شاخ نے انہیں غیرقانونی طور پر حراست میں لے لیا تھا۔ انہیں 9 اکتوبر کی شب میں 9 بجے اٹھایا اور اگلی صبح 4 بجے چھوڑا گیا تھا۔ اس واقعے کے دو دن بعد ہی 23 اکتوبر، 2020 کو ‘جیو نیوز’ کے نامہ نگار علی عمران سید غائب ہو گئے۔ سید کے بھائی نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ اس گمشدگی کی وجہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج بتائی گئی جو کراچی کے اواری (Avari) ہوٹل میں کیپٹن محمد صفدر کی گرفتاری کے تعلق سے تھی۔ صحافیوں، صحافی یونینوں، پاکستان بار کونسل اور عام لوگوں کے زبردست احتجاج کے بعد سندھ حکومت اور پولیس نے اس ایشو کا نوٹس لیا تب جاکر علی عمران سید برآمد ہوئے۔ ان کی گمشدگی کی وجہ ‘شناخت کی غلط فہمی’ بتائی گئی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ شناخت کرنے میں غلط فہمی کے نام پر کئی صحافی، سیاسی کارکن اور سچ بولنے یا لکھنے والے لوگ اغوا کیے جا چکے ہیں۔ سید سے پہلے جولائی 2020 میں صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کی وجہ بھی ‘شناخت کی غلط فہمی’ بتائی گئی تھی۔ مطیع اللہ بھی زبردست احتجاج اور مظاہروں کے بعد آزاد کیے گئے تھے۔ ایسی صورت میں یہ سوال فطری طور پر اٹھتا ہے کہ کوئی نیا صحافی، کوئی ایسا صحافی جسے زیادہ لوگ نہ جانتے ہوں، اگر اس نے حقیقت دکھانے یا سچ لکھنے کی ‘حماقت’ کی تو پھر اس کا کیا ہوگا؟ اس طرح کے حالات سے لوگ دل برداشتہ ہو چکے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی میں سیاست داں اپنا رول ادا کریں لیکن کوئی سیاست داں حالات تبدیل کرنے میں کس طرح رول ادا کرسکتا ہے جب اسے خود یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کب، کون سے جھوٹے الزام میں حراست میں لے لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں حالات کو سمجھنے کے لیے ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر کی مثال ہی کافی ہے۔

میاں نواز شریف کے داماد، ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر اور ان کی زوجہ مریم نواز نے فوج کی حامی عمران حکومت کے خلاف احتجاج کی بھول کی تھی۔ انہیں قائد اعظم محمد علی جناح کے مقبرے کا تقدس پامال کرنے کے جھوٹے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے خلاف پورے پاکستان میں احتجاج ہوا۔ بعد میں سندھ کے گورنر محمد زبیر نے ایک صحافی کو بتایا کہ مریم، ان کے شوہر اور دیگر 200 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کا اغوا کیا گیا تھا۔ بلاول بھٹو کا یہ کہنا بجا ہے کہ ‘جمہوری طریقہ یہ ہے کہ کہیں اگر غلطی ہو تو اس کی جانچ کی جائے اور اگر کسی سے غلطی ہوئی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔’ لیکن پاکستان میں اگر واقعی جمہوریت ہوتی تو انصاف پسند آوازوں کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ آج کے پاکستان میں محفوظ وہی ہے جو فوج، انٹلی جنس ایجنسیوں اور ان کی محبوب حکومت یا لیڈروں کے خلاف نہ بولے مگر اس صورت حال سے لوگ اوب چکے ہیں اور ان کی بے چینی ایک بڑے انقلاب کی راہ ہموار کر رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ