گلگت بلتستان انتخابات :فوج اور چین کوفیض پہنچانے کی حکمت عملی
حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا الزام ہے کہ الیکشن کے دوران بدعنوانی کی گئی ہے۔بدعنوانی کے خلاف مختلف مقامات پر اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری ہے، لیکن تشویش اس بات پر نہیں ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے بلکہ تشویش بجائے خود انتخابات کے انعقاد پر ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یکم نومبر کو اعلان کیا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں عارضی صوبہ بنانے جا رہے ہیں۔ حالانکہ انھوں نے اس بارے میں کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اصولی طور پر پاکستان کو نہ تو گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کا اخلاقی جواز ہے اور نہ ہی وہاں انتخابات کرانے کا، کیونکہ وہ مقبوضہ کشمیر کا حصہ ہے اور ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ پاکستان نے اس حصے پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور وہ اسے واپس لے کر رہے گا۔ اس سے قبل پاکستان کی کسی بھی حکومت کو اس علاقے کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی جرأت نہیں ہوئی تھی، کیونکہ ان کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو پورے کشمیر پر پاکستان کا دعویٰ خطرے میں پڑ جائے گا، لیکن عمران خان کی حکومت اس سلسلے میں آگے بڑھ گئی۔ سیاسی مشاہدین کے مطابق اس کی دو تین وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ چین کا دباؤ ہے۔ 65 بلین ڈالر کی لاگت والی چین پاکستان اقتصادی راہداری اسی علاقے سے ہو کرگزرتی ہے۔
چین کے دباؤ میں عمران خان نے نہ صرف یہ کہ اسے صوبہ بنانے کا اعلان کیا بلکہ الیکشن بھی کروایا۔ اس میں دراصل چین کا مفاد پوشیدہ ہے۔ اس کا خیال ہے کہ جب پاکستان اس حصے کو اپنا صوبہ بنا لے گا تو اس پر ہندوستان کا دعویٰ باطل ہو جائے گا اور وہ اس کے بارے میں کسی بھی قسم کا اعتراض نہیں کر سکے گا، جبکہ یہ سوچ بالکل بے بنیاد ہے۔ پاکستان اس کو پانچواں صوبہ بنا بھی دے تب بھی ہندوستان کا اس پر سے دعویٰ ختم نہیں ہوگا۔ دراصل چین اقتصادی راہداری کو ناکام ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ 2015 میں اس کا افتتاح کیا گیا تھا اور ا س کے تحت ریل، سڑک اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ہونی ہے۔ یہ راہداری چین کے ایک کھرب ڈالر کی لاگت والے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کا ایک حصہ ہے جس کے تحت چین ایشیا، یوروپ اور افریقہ تک تجارتی روابط بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ مشرقی لداخ میں ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازع چل رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں میں شدید کشیدگی ہے۔ ادھر ہندوستان کی جانب سے جموںوکشمیر کو خصوصی اختیار تفویض کرنے والی دفعہ 370 کو ہندوستان نے منسوخ کر دیا، جس پر پاکستان نے زبردست احتجاج کیا اور عالمی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کی کوشش کی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کو عالمی سطح پر کچھ زیادہ حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ اس صورت حال میں پاکستان کو ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اگر گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنا لے گا تو وہ ہندوستان کو بزعم خویش جواب دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لہٰذا چین کو بھی یہ ایک سنہرا موقع محسوس ہوا اور اس نے اس سلسلے میں پاکستان کی حوصلہ افزائی کی ۔ ادھر عمران خان کی حکومت پر فوج کا اثر و رسوخ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے کلیدی عہدوں پر سابق فوجی افسران کام کر رہے ہیں۔ سی پیک یعنی چین پاکستان اقتصادی راہداری کمیٹی کے سربراہ بھی ایک سابق فوجی افسر ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستانی فوج کا رویہ ہمیشہ ہندوستان مخالف رہا ہے۔ عمران حکومت یوں بھی اپنے طور پر کوئی اہم فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پاکستان کی اس نام نہاد جمہوری حکومت میں وہی ہوتا ہے جو فوج چاہتی ہے۔ اس لیے اقتصادی راہداری کو تقویت پہنچانے کے لیے فوج بھی چین کے موقف کی حمایت کر رہی ہے۔ چین گلگت بلتستان پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ کیونکہ وہی ایک علاقہ ایسا ہے جو چین کی سرحد سے ملتا ہے ۔
بہرحال پاکستان کو سوچنا چاہیے کہ وہ ہندمخالف پالیسی کی وجہ سے کوئی ایسا قدم نہ اٹھا لے جو اس کی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے منافی ہو۔ مبصرین کے مطابق چین جس طرح پاکستان کو استعمال کر رہا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس بات کا احساس پاکستان کے حکمرانوں کو ہونا چاہئے مگر افسوس انھیں نہ تو حقائق کا ادراک ہے اور نہ ہی موجودہ سرگرمیوں کے مضمرات کا۔
چین کے دباؤ میں عمران خان نے نہ صرف یہ کہ اسے صوبہ بنانے کا اعلان کیا بلکہ الیکشن بھی کروایا۔ اس میں دراصل چین کا مفاد پوشیدہ ہے۔ اس کا خیال ہے کہ جب پاکستان اس حصے کو اپنا صوبہ بنا لے گا تو اس پر ہندوستان کا دعویٰ باطل ہو جائے گا اور وہ اس کے بارے میں کسی بھی قسم کا اعتراض نہیں کر سکے گا، جبکہ یہ سوچ بالکل بے بنیاد ہے۔ پاکستان اس کو پانچواں صوبہ بنا بھی دے تب بھی ہندوستان کا اس پر سے دعویٰ ختم نہیں ہوگا۔ دراصل چین اقتصادی راہداری کو ناکام ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ 2015 میں اس کا افتتاح کیا گیا تھا اور ا س کے تحت ریل، سڑک اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ہونی ہے۔ یہ راہداری چین کے ایک کھرب ڈالر کی لاگت والے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کا ایک حصہ ہے جس کے تحت چین ایشیا، یوروپ اور افریقہ تک تجارتی روابط بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ مشرقی لداخ میں ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازع چل رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں میں شدید کشیدگی ہے۔ ادھر ہندوستان کی جانب سے جموںوکشمیر کو خصوصی اختیار تفویض کرنے والی دفعہ 370 کو ہندوستان نے منسوخ کر دیا، جس پر پاکستان نے زبردست احتجاج کیا اور عالمی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کی کوشش کی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کو عالمی سطح پر کچھ زیادہ حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ اس صورت حال میں پاکستان کو ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اگر گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنا لے گا تو وہ ہندوستان کو بزعم خویش جواب دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لہٰذا چین کو بھی یہ ایک سنہرا موقع محسوس ہوا اور اس نے اس سلسلے میں پاکستان کی حوصلہ افزائی کی ۔ ادھر عمران خان کی حکومت پر فوج کا اثر و رسوخ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے کلیدی عہدوں پر سابق فوجی افسران کام کر رہے ہیں۔ سی پیک یعنی چین پاکستان اقتصادی راہداری کمیٹی کے سربراہ بھی ایک سابق فوجی افسر ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستانی فوج کا رویہ ہمیشہ ہندوستان مخالف رہا ہے۔ عمران حکومت یوں بھی اپنے طور پر کوئی اہم فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پاکستان کی اس نام نہاد جمہوری حکومت میں وہی ہوتا ہے جو فوج چاہتی ہے۔ اس لیے اقتصادی راہداری کو تقویت پہنچانے کے لیے فوج بھی چین کے موقف کی حمایت کر رہی ہے۔ چین گلگت بلتستان پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ کیونکہ وہی ایک علاقہ ایسا ہے جو چین کی سرحد سے ملتا ہے ۔
بہرحال پاکستان کو سوچنا چاہیے کہ وہ ہندمخالف پالیسی کی وجہ سے کوئی ایسا قدم نہ اٹھا لے جو اس کی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے منافی ہو۔ مبصرین کے مطابق چین جس طرح پاکستان کو استعمال کر رہا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس بات کا احساس پاکستان کے حکمرانوں کو ہونا چاہئے مگر افسوس انھیں نہ تو حقائق کا ادراک ہے اور نہ ہی موجودہ سرگرمیوں کے مضمرات کا۔
Comments
Post a Comment