اہانت دین قانون اور پاکستان کی ہندو اقلیت
پاکستان میں توہین مذہب کا قانون ایک ایسا ہتھیار ہے جسے مذہبی اقلیتوں کے خلاف بارہا استعمال کیا جاتا رہا ہے اور ذاتی دشمنوں پر بھی اہانت اسلام کا الزام لگا کر مذکورہ قانون کے تحت مقدمات درج کروائے جاتے رہے ہیں۔ ایسے ہر مقدمے میں ملزم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور پھر اس کے خلاف ناانصافی کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صرف غیر مسلموں کو ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی اس قانون کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہندو اور مسیحی تو خاص طور پر ہدف بنائے جاتے ہیں۔ توہین مذہب کے کچھ الزامات اگر درست ہوتے ہیں تو بیشتر غلط ہوتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود ہی قرآن مجید کے اوراق کی بے حرمتی کرکے اس کا الزام دوسروں پر عاید کر دیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح توہین مذہب کا بے بنیاد الزام عاید کرتے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ وہ آسانی کے ساتھ بچ کر نکل جاتے ہیں اور جس پر الزام لگایا جاتا ہے اس کی اور اس کے اہل خانہ کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ شدت پسند مذکورہ قانون میں ترمیم کی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ بلکہ اگر کوئی ترمیم کی وکالت کرتا ہے تو اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کی مثال سامنے ہے جنھوں نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی پر توہین مذہب کے الزام کی مخالفت کی تھی اور اس میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔ جس پر ان کے ہی محافظ ممتاز قادری نے انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ممتاز کے خلاف عدالتی کارروائی چلی اور اسے پھانسی دے دی گئی۔ لیکن شدت پسندوں نے اسے شہید کا درجہ دے دیا۔ اس واقعہ کے دو ماہ بعد دو مارچ 2011 کو وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کو توہین مذہب کا الزام عاید کرکے قتل کر دیا گیا۔ انھوں نے بھی مذکورہ قانون پر تنقید کی تھی۔ مئی 2014 میں ملتان سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے ایک وکیل راشد رحمان کو ان کے دفتر میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ راشد رحمان بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے لیکچرر جنید حفیظ کے وکیل تھے۔ جنہیں توہین مذہب کے الزام میں قید کیا گیا تھا۔ راشد رحمان کو متعدد مواقع پر دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس واقعہ کے چند ماہ بعد دو میاں بیوی شمع بی بی اور شہزاد مسیح کو جو کہ لاہور کے نواحی علاقے کوٹ رادھا کشن میں ایک اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتے تھے، توہین مذہب کا الزام لگا کر آگ میں پھینک دیا گیا۔ اپریل 2017 میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں سینکڑوں مشتعل طلبہ نے ہجوم کی شکل میں اپنے ایک ساتھی طالب علم مشعل خاں کو گولی مار دی تھی۔ مشعل خان پر بھی توہین مذہب کا الزام تھا لیکن تحقیقی ادارے کو اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ 29 جولائی 2020 کو ایک اور شخص طاہر نسیم کو گولی مار دی گئی۔ اس کے خلاف توہین مذہب کے الزام کی عدالتی کارروائی جاری تھی کہ ایک شخص عدالت میں داخل ہوا اور اس نے اپنی جیب سے پستول نکال کر طاہر نسیم پر گولیاں برسا دیں۔ یہ چند واقعات ہیں، ورنہ پاکستان میں اب تک 100 سے زائد افراد کو توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کیا جا چکا ہے۔ اس صورت حال کا ایک لازمی پہلو یہ ہے کہ جب بھی کسی ملک میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے اور اس پر مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے تو پاکستان کی مذہبی اقلیتیں خوف و ہراس میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ ان کو یہ اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے اور اگر ایسا ہوا تو ان لوگوں کے خلاف بھی شدت پسند مسلمانوں کی جانب سے ردعمل شروع ہو جائے گا۔ لہٰذا جب فرانس میں 18 اکتوبر کو پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکے دکھانے کی وجہ سے ایک اسکول ٹیچر کا سر قلم کر دیا گیا اور پھر 29 اکتوبر کو فرانس کے نیس میں ایک گرجاگھر پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تو ایک بار پھر پاکستان کی مذہبی اقلیتیں مضطرب ہو گئیں۔ وہ اس خوف میں مبتلا تھیں کہ توہین مذہب کے قانون کے تحت ان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اور ہوا بھی وہی۔ دو اور تین نومبر کو ان کے اندیشے درست ثابت ہو گئے۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر ہندو برادری کے دو افراد کے خلاف توہین مذہب کے دو مقدمات قائم کر دیے گئے۔ کراچی کے لیاری میں دو نومبر کو ایک مشتعل ہجوم نے ہندو برادری کے ایک شخص پر توہین مذہب کا الزام لگایا اور اسے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہجوم مندر میں گھس گیا اور اس نے مورتیوں کو نقصان پہنچایا۔ بالآخر امن و امان کی خاطر لوگوں نے اس شخص کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اسی طرح تین نومبر کو سندھ کے شہدادپور میں میگھوار برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر قرآن کے اوراق نذر آتش کرنے کا الزام عاید کیا گیا اور اسے گرفتار کروا دیا گیا۔ میرپور خاص سندھ کے ایک سماجی کارکن کانجی بھیل کے مطابق امسال توہین مذہب کے 9 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے اندر بدین، نگرپرکر اور لیاری میں تین مندروں پر حملے ہوئے اور ان میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ہندو کارکن یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر کسی ایک شخص نے کوئی جرم کیا ہے تو پوری برادری کو کیوں سزا دی جاتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر توہین مذہب کے نام پر کب تک بے قصوروں کو ہدف بنایا جاتا اور کب تک ان کی زندگیوں سے کھیلا جاتا رہے گا۔ مذکورہ واقعات کے بعد سندھ کے غیر مسلم خوف و دہشت میں مبتلا ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ صوبہ سندھ ان کے لیے غیر محفوظ صوبہ بنتا جا رہا ہے۔ کیا صوبائی اور وفاقی حکومت اس صورت حال پر غور کریں گی اور مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا یا اسی طرح ان کی زندگیوں سے کھلواڑ جاری رہے گا۔
Comments
Post a Comment