گلگت–بلتستان اور پاکستان کی تخریب کارانہ ذہنیت



یہ بات عالم آشکار ہے کہ جنوب ایشیائی خطے میں پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس نے قدم قدم پر تخریب کارانہ فعل کو فروغ دیا ہے جس کا نشانہ نہ صرف پڑوسی ممالک بنتے ہیں بلکہ خود پاکستان بھی اس کی بہت بڑی قیمت چکا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سیویلین حکمرانوں کی بجائے فوجی ٹولہ طے کرتا ہے۔ فوج کی اسی ذہنیت نے خود پاکستان کو 1971 میں دولخت کردیا۔ لیکن اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی وہاں کا فوجی ایسٹیبلشمنٹ اپنی تخریب کارانہ کاررائیوں سے باز نہیں آیا۔ اور وہاں کے منتخب سیاست دانوں اور حکمرانوں کو اپنی ا نگلیوں کے اشارے پر نچانا چاہتا ہے۔ جو حکمراں فوج کی حیثیت اور اوقات کو چیلنج کرتے ہیں، انہیں نہ صرف وہ بغاوت کے ذریعے اقتدار سے باہر کردیتی ہے بلکہ طرح طرح کی اذیتیں بھی دیتی ہے، جس فوج کا اندورن ملک یہ ریکارڈ ہو، اس سے بھلا یہ توقع کیونکر کی جاسکتی ہے کہ وہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے گی یا امن کے کاز کو فروغ دیگی!اسے ایک اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت جو سیویلین حکمراں برسراقتدار ہے وہ فوج کا بہت بڑا مداح اور حامی ہے۔ جی ہاں! وزیراعظم عمران خان فوج کے بہت بڑے حامی رہے ہیں اور یہ بات پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی برادری بھی جانتی ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کیلئے پاکستانی فوج نے مختلف انداز کے ہتھکنڈے استعمال کئے اور انتخابی دھاندلی کے ذریعے انہیں اتنی سیٹیں دلوادیں کہ وہ کسی صورت حکومت بناسکیں۔ اسی لئے پاکستان کے اپوزیشن لیڈران انہیں سلیکٹیڈ وزیراعظم کہتے ہیں۔ آج کل اپوزیشن پارٹیاں عمران حکومت اور بطور خاص فوج کی سیاسی مہم جوئیوں کے خلاف ایک ہمہ گیر تحریک چلارہی ہیں جس سے فوج اور عمران خان دونوں پریشان ہیں۔ اس فرسٹریشن نے عمران خان اور ا ن کے رفقائے کار کو اتنا بوکھلا دیا ہے کہ وہ ہندوستان کے خلاف الٹے سیدھے بیان دینے لگے ہیں۔ کبھی یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر، ہندوستان کے اشارے پر پاکستانی فوج کو بدنام کررہے ہیں اور کبھی دور کی کوڑی لاتے ہوئے ہندوستان پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔شاید انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ ایسا کہہ دینے سے پاکستان سے فروغ پانے والی دہشت گردی کا داغ دُھل جائیگا۔ عمران خان کے ایک وزیر نے تو حال ہی میں ایک ایسی حقیقت کا بھی اعتراف کرلیا جس کی وہ تردید کرتا رہا ہے۔ مثلاً جموں وکشمیر میں پاکستان کی جانب سے جو دہشت گردانہ واقعات ہوتے ہیں ان کے بارےمیں پاکستان ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ اس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں لیکن پاکستان کے وزیر موصوف نے جوش میں آکر یہ بھی کہہ دیا کہ گزشتہ سال پلوامہ میں جن 40 سی آر پی ایف کے جوانوں کو شہید کیا گیا تھا وہ پاکستان ہی کا کارنامہ تھا۔ یعنی انہوں نے پورے طور پر قبول کرلیا کہ وہ دہشت گردانہ کارروائی پاکستان نے انجام دی تھی۔ انہوں نے اسے ‘‘بہادری’’ کا کارنامہ قرار دیا اور کہا کہ ‘‘ہم نے گھس کر مارا’’۔ 

یہ بتانے کی قطعی ضرورت نہیں کہ ایف اے ٹی ایف(FATF) نے حال ہی میں پاکستان کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اس نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مقررہ نشانہ پورا نہیں کیا اس لئے اسے ابھی گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔ یہ ہے دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کار یکارڈ۔ 

حال ہی میں عمران خان نے یہ کہا ہے کہ گلگت-بلتستان کو عارضی طور پر پاکستان کے ایک باقاعدہ صوبے کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے گا۔ جبکہ یہ خطہ جموں وکشمیر کا حصہ ہے جس کو پہلے شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا۔ حالانکہ گلگت– بلتستان اور مقبوضہ کشمیر کے علاقے ہندوستان کے حصے ہیں جن پر پاکستان کا ناجائز قبضہ ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے پروجیکٹ میں بھی گلگت بلتستان کو شامل کیا گیا ہے جس میں چین نے سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ ہندوستان نے اس پر پہلے ہی احتجاج کیا تھا لیکن اب عمران خان نے اس خطے کو عارضی طور پر پاکستان کا ایک نیا صوبہ بنانے کی بات کہہ کر ایک نئے فتنہ کو جنم دیا ہے۔اس طور پر نہ صرف ایک غیرقانونی قبضہ کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی کی جارہی ہے۔ پچھلی سات دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے اس علاقے کے لوگوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہورہی ہے، یہ علاقہ بنیادی طور پر جموں وکشمیر کا حصہ ہے۔پاکستان کو یہ بات اچھی طرح محسوس کرنی چاہئے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ