2020 کے امریکی صدارتی انتخابات اور ہند- امریکہ تعلقات کا مستقبل

اگرچہ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کے باضابطہ اعلان ہونے میں مزید چند ہفتے لگیں گے تاہم ووٹوں کی گنتی سے جو رجحان سامنے آرہا ہے اس سے لگتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن امریکہ کے نئے صدر ہوں گے۔

تین نومبر کو ہونے والے یہ صدارتی انتخابات امریکہ کی تاریخ میں اب تک کے سب سے زیادہ متنازعہ انتخابات رہے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ ایک عالمی طاقت بن کر ابھرا، اس کے بعد وہاں ہر چار سال کے بعد ماہ نومبر میں صدارتی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ یہ وہ انتخابات ہیں جن میں نہ صرف امریکی باشندوں کی دلچسپی رہتی ہے بلکہ تمام دنیا کی نگاہیں ان پر جمی رہتی ہیں۔ لیکن اس بار کے انتخابات کئی اعتبار سے مختلف تھے۔ سال کے اوائل میں کووڈ-19 جیسی وبا نے ساری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ امریکہ وہ ملک تھا جو اس وبا سے برئ طرح متاثر ہوا۔ وہاں اس وبا سے سب سے زیادہ اموات ہوئیں۔ لہذا عام خیال یہ تھا کہ کورونا وائرس کے ڈر سے زیادہ تر امریکی ووٹ ڈالنے نہیں جائیں گے۔ لیکن اس کے برخلاف اس بار اتنے زیادہ ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کااستعمال کیا کہ امریکہ کی تقریبا ایک صدی کی تاریخ میں اتنے زیادہ لوگوں نے ووٹ کبھی نہیں ڈالے۔ تمام دنیا حتی کہ امریکہ میں بھی عام خیال یہ تھا کہ اس بار کے انتخابات ٹرمپ کی صدارت کے بارے میں ایک ریفرنڈم کی مانندہوں گے اور ٹرمپ کے خلاف ایک ایسی لہر چلےگی جو ڈونل ٹرمپ کو وہائٹ ہاؤس سے باہر کردے گی۔ لیکن کئی دنوں تک چلنے والی ووٹوں کی گنتی سے یہ صاف ظاہر ہوگیا کہ ٹرمپ مخالف ایسی کوئی لہر نہیں تھی بلکہ جتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا اس نے تمام قیاس آرائیوں اور جائزوں کو غلط ثابت کردیا جو انتخابات سے پہلے سامنے آرہے تھے۔اس سے پہلے 2016 میں بھی ایگزٹ پول غلط ثابت ہوئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ ڈونل ٹرمپ انتخاب ہار رہے ہیں۔ اس بار بھی ایگزٹ پول کرانے والے یہ پیش گوئی کرنے میں ناکام رہے کہ تمام ووٹروں میں تقریبا آدھے ووٹر صدر ٹرمپ کو ووٹ دیں گے۔

لوگوں کا خیال تھا کہ ملک کے شدیدمعاشی بحران، بےروزگاری کی اونچی شرح، صحت کے خراب بنیادی ڈھانچے، نسلی امتیاز کے خلاف ملک گیر احتجاجات اور پولیس کی بربریت کے باعث زیادہ تر رائے دہندگان ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور جوبائیڈن کی حمایت میں جس لہر کی امید کی جارہی تھی وہ دیکھنے کو بالکل نہیں ملی۔

یہ صورت حال دیکھ کر صدر ٹرمپ کو حوصلہ ملا اور انہوں نے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنی فتح کا اعلان کردیا۔ تاہم ریپبلکن پارٹی کے بہت سے لیڈروں نے ٹرمپ کے اس اعلان سے اتفاق نہیں کیا اور خود کو اس سے الگ رکھا۔ صدر ٹرمپ نے ووٹنگ اورووٹوں کی گنتی میں بھی دھاندلی کاالزام لگایا لیکن زیادہ تر لوگوں نے ان کے اس الزام کو مسترد کردیا۔ اس الزام کو لے کر ٹرمپ کی انتخابی ٹیم نے40 سے زیادہ ریاستوں میں سیکڑوں معاملات درج کرائے اور مطالبہ کیا کہ میل کے ذریعہ آئے ووٹوں کی گنتی روک دی جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی آئین کے تحت ووٹوں کی قانونی طور پر گنتی کو روکنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ لہذا سوئنگ اسٹیٹس (Swing States) میں ووٹوں کی گنتی جاری رہی اور رجحانات بتارہے ہیں کہ صدر بننے کے لیے جوبائیڈن کو مطلوبہ 270 الیکٹورل ووٹ مل جائیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ کے وجود میں آنے کے بعد ہند-امریکہ تعلقات کا مستقبل کیا ہوگا؟ سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ جوبائیڈن ہندوستان کے لیے ایک جانی پہچانی سیاسی شخصیت ہیں۔ وہ تین دہائیوں سے زیادہ امریکی سینیٹ میں رہے ہیں اور انہوں نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات سے متعلق کمیٹی میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔ اوبامہ انتظامیہ کے دوران انہوں نے ملک کے نائب صدر کی حیثیت سے کام کیا ہے اور وزیر اعظم نریندرمودی کے صدر بارک اوبامہ کے ساتھ نہایت ہی خوشگوار اور دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔ لہذا امید ہے کہ بائیڈن حکومت کے دوران بھی ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنر شپ مزید مضبوط ہوگی۔ ماضی میں جب ریپبلکن جارج بش کی جگہ بارک اوبامہ نے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا تو اس وقت بھی ہندوستان میں لوگ فکرمند تھے۔ لوگوں کوفکر تھی کہ آیا صدر اوبامہ صدر بش کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کا احترام کریں گے بھی یا نہیں۔ لیکن یہ ساری فکر اس وقت دور ہوگئی جب دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہونے لگے اور اوبامہ کی ایشیاء سے متعلق پالیسی میں ہندوستان کو ترجیح دی جانے لگی۔ جب ڈونل ٹرمپ صدر بنے تو اس پالیسی کو نیا نام دیا گیا اور وہ نام تھا’’انڈو-پیسفک اسٹریٹجی‘‘ (Indo-Pacific Strategy) اور اس پالیسی میں بھی ہندوستان کی کافی اہمیت تھی۔

لیکن امریکہ کے لیے چین اب بھی ایک اہم اسٹریٹجک چیلنج بنا رہے گا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ امریکہ کے لیے ایک درد سر ہے اور وہ یوں ہی برقرار رہے گا۔ اس لیے بائیڈن انتظامیہ کے دوران بھی ہند-امریکہ تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑےگا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک دوسرے کی آپسی حمایت سے ہند-امریکہ تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ