شدت پسندی کے خلاف جارحیت پر پاکستان کی بے جا تنقید

مثل مشہور ہے کہ جنہیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا دکھائی دیتا ہے انہیں اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں نظر آتا۔ یہ مثل پاکستان کے رہنماؤں پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ پچھلے دنوں فرانس کی راجدھانی پیرس میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جب ایک جنونی شخص نے ایک اسکول ٹیچر کا قتل کردیا کیونکہ اس نے مبینہ طور پر اظہار ِ آزادی کی مثال کے طور پر اپنے شاگردوں کو پیغمبر اسلام کے خلاف بنایا گیا اہانت آمیز کارٹون دکھایا تھا۔ اسی کے تسلسل میں ایک دوسرے شہر نیس کے ایک گرجا گھر کے باہر ہوئے قاتلانہ حملہ میں تین لوگ اور ہلاک ہوئے۔ ان دو واقعات نے مہذب دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن ایسے کسی موقع کو پاکستان اور بالخصوص اس کے موجودہ سربراہ عمران خان کیسے ہاتھ سے جانے دیتے۔ چنانچہ وزیر اعظم عمران خان نے میکرون اور فرانس کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیان دینا شروع کر دیا ۔صدر میکرون پر الزام لگا یا کہ وہ مسلمانوں کو جان بوجھ کر اشتعال دلا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اسلام آباد میں مقیم فرانسیسی سفیر کو بلا کر انہیں جھاڑ پلائی گئی۔ اس کے بعد فیس بک کے مالک ، مارک زکربرگ کو ایک مکتوب روانہ کیا کہ فیس بک پر جس طرح ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنے پر پابندی ہے اسی طرح اسلامو فوبیا پربھی پابندی لگائی جائے۔عمران خان نے اسلاموفوبیا اور ہولوکاسٹ کا ذکر ایک ہی سانس میں اس طرح کیا جیسے یہ دونوں ایک جیسے معاملے ہیں۔ مارک ذکر برگ اگر ان کی اس بات پر کان دھرتے تو پہلے تو وہ خود عمران خان کے کچھ دن پہلے دیے گئے اس بیان کی خبر گیری کرتے جس میں انہوں نے اسامہ بن لادن کو شہید اسلام قرار دیا تھا۔ جس وقت پاکستان کے وزیر اعظم فرانس میں مذہبی منافرت اور اقلیتوں کے ساتھ تعصب کی بات کر رہے تھے اس وقت خود پاکستان میں ہندوؤں ، عیسائیوں اور احمدیوں کے خلاف منافرت اور تعصب کے پہ درپے واقعات پیش آ رہے تھے۔ خود سندھ میں 24 اکتوبر کو ایک ہندو مندر کو نشانہ بنایا گیا اور وہاں مورتی کی بے حرمتی کی گئی۔ ایسی خبریں برابر سننے میں آتی ہیں کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو جبریہ مسلمان بنانے کی ایک مہم سی چلی ہوئی ہے ۔ ہندو اور عیسائی برادری کی کمسن لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں مسلمان بنا کر شادی کر لی جاتی ہے اور حکومت بھی ان کی مدد نہیں کرتی۔ کچھ یہی حال احمدی فرقہ کے لوگوں کا ہے۔ اب سے تقریبا 46 سال پہلے پاکستان میں احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ۔ اس کے بعد ان پر بتد ریج عرصۂ حیات تنگ کیا جانے لگا اور اب جب سے عمران خان کی حکومت اقتدار میں آئی ہے ان کے خلاف سرگرم جماعتوں کی جارحیت کو بڑھاوا ہی ملا ہے۔ افسوس کہ بنیادی انسانی حقوق کی ان پامالیوں سے پاکستانی حکام صرف نظر کرتے ہیں اور صرف دکھاوے کے لیے چھوٹی بات کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ عمران خان ہی کیوں پاکستان کے وزرا بھی ایسی غیر ذمہ دارانہ باتوں سے گریز نہیں کرتے۔ دو دن قبل ہی پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری نے اپنے ایک ایک ٹوئٹ میں کہا کہ صدر میکرون مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو نازیوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ اب فرانس میں مسلمان بچوں کو پہچان نمبر دیا جائے گا( دیگر بچوں کو نہیں) جیسا کہ یہودی بچے اپنے لباس پر پیلا تارا لگانے پر مجبور کیے گئے تھے" محترمہ مزاری نے یہ بیان ایک آن لائن میگزین میں شائع ایک مضمون کے حوالے سے دیا تھا۔ مگر میگزین نے اپنی خبر میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس تجویز پر عمل ہو تا ہے تو اس طرح کا شناختی نمبر تمام بچوں کو دیا جائے گا صرف مسلم بچوں کو نہیں۔ اس کے بعد محترمہ کو اپنا ٹویٹ حذف کرنا پڑ گیا۔ یہاں کسی کو بھی اس پر ضرور تعجب ہو گا کہ کسی ملک کی وزیر غیر سرکاری کسی رپورٹ کو نظیر بنا کر اتنا جارحانہ بیان کیسے جاری کرسکتی ہیں۔ دراصل پاکستانی حکومت اور انتظامیہ کو جو کام کرنا چاہیے وہ تو کرتے نہیں۔ صرف اسلامی دنیا کی نظر میں اپنے آپ کو مسلمانوں کا خیر خواہ ثابت کرنا ہی ان کا مقصد ہے۔ ورنہ انسانی حقوق کی وزیر کو دوسرے ممالک کی اقلیتوں کے حقوق کے مبینہ اتلاف پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنی اقلیتوں – ہندو، عیسائی اور احمدیوں کے حقوق کا خیال کرنا چاہیے۔ ہاں! اگر اپنے ملک سے باہرہی دیکھنا ہے تو پھر ایغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی جس بڑے پیمانے پر چین میں ہو رہی ہے اس پر سوال اٹھانا چاہیے ۔ مگر وائے افسوس کہ ایغوریوں کے خلاف مظالم کو مملکت پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان " بکواس" قرار دیتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ