ہندوستان کے بنیادی ڈھانچہ کے فروغ میں سنگا پور کا کردار


سنگاپور کے سینئر وزیر جناب تھرمن شانموگا رتنم جن کے پاس سماجی پالیسیوں میں رابطہ پیدا کرنے کے معاملات کی ذمہ داری بھی ہے، حال ہی میں نئی دہلی اور ممبئی کے دورے پر تھے۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور سرکار کے دوسرے اعلی عہدیداروں سے ملاقات کی۔ سنگاپور کی وزارت خارجہ اور وزیراعظم کے دفتر کے اہلکاروں کے ہمراہ انہوں نے مہاراشٹر کے وزیراعلی اودھو ٹھاکرے اور بہت سے صنعت کاروں سے بھی ملاقات کی۔

جناب شانمو گا رتنم کے بھارت دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا۔ یہ بات اس حقیقت سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ ہندوستانی پالیسی سازوں سے ان کی بات چیت کے دوران ڈیجیٹل معیشت، بنیادی ڈھانچے، صلاحیت سازی اور ہند۔ سنگاپور جامع معاشی تعاون جیسے موضوعات پر تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جناب شانموگا رتنم نے 2022 میں ہندوستان کی جی۔20 کی صدارت کے لئے اپنے ملک کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔

ہندوستان اور سنگاپور کے درمیان اس وقت دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہورہا ہے جو پچھلے سال 26 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی تھی۔ دونوں ملکوں کو اس حقیقت کا علم ہے کہ وہ دوطرفہ تجارت کو نئی بلندیوں تک لے جاسکتے ہیں۔ ہندوستان کے علاقائی جامع معاشی پارٹنر شپ مذاکرات سے خود کو الگ کرنے کے حالیہ فیصلہ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت ہند۔ سنگاپور جامع معاشی تعاون معاہدے کے تحت ہوگی جس پر 2005 میں دستخط کئے گئے تھے۔ اس معاہدے کا 2018 میں دوسری بار ازسرنو جائزہ لیا گیا تھا۔ سنگاپور میں ہندوستان کے اطلاعاتی ٹکنالوجی اور خدمات کے شعبوں کے پیشہ وروں کی آسان رسائی سے دو طرفہ تجارت کو مزید فروغ حاصل ہوسکتا ہے۔

ہندوستان کی لمبی مدت کی ترقی کے امکانات پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے جناب شانموگارتنم نے کہا کہ سنگا پور کی جانب سے ہندوستان میں خاص طور پر ٹکنالوجی پارکوں اور لاجسٹکس کے شعبہ میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ہندوستانی معیشت سالانہ شرح ترقی میں گراوٹ کا مشاہدہ کررہی ہے، سنگا پور کی جانب سے ہماری معیشت پر اظہار اعتماد کافی حوصلہ افزا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سنگاپور وہ ملک ہے جو ہندوستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کررہا ہے۔

جناب شانموگا رتنم کےدورے کے دوران ہندوستان نے بنیادی ڈھانچہ کے اہداف کو پور اکرنے میں سنگاپور کی حمایت کی اپیل کی۔ حال ہی میں نیشنل انفرا اسٹرکچر پائپ لائن پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس پر تخمینہ ہے کہ 102 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوں گے۔ تاہم اس پروجیکٹ کے لئے ہمیں کافی زیادہ وسائل کو یکجا کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اس لئے اس پروجیکٹ میں مدد کرنے کے لئے اپنے آزمودہ دوست سنگاپور کو مدعو کرنا دانشمندی ہے۔

دونوں ملک سنگاپور کے ‘‘نیٹ ورکڈ ٹریڈ پلیٹ فارم انیشیٹیو’’ پر بھی مل کر کام کرنے کے لئے راضی ہوگئے ہیں۔ اس وقت ہندوستانی معیشت کے فروغ میں ٹکنالوجی سے زیادہ مزدوروں کا کردار ہے۔ اس لئے ڈیجیٹل ای۔ کامرس اور ڈیجیٹائزیشن میں سنگا پور کے ساتھ شراکت داری سے اس رجحان کو بدلا جاسکتا ہے اور معیشت کے فروغ کے لئے ٹکنالوجی پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے۔

جناب شانموگارتنم نے ریزرو بینک آف انڈیا میں تیسرا سریش تیندولکر لکچر بھی دیا۔ ریزرو بینک کے مطابق اپنے لکچر میں انہوں نے انسانی وسائل کے شعبہ میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور صاف ستھرے چھوٹے چھوٹے شہریو ں کی ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تعلیم، صحت اور لبیر مارکٹ کی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ جناب شانمو گا رتنم نے مزید کہا کہ نئے اور چھوٹے شہروں کی ترقی سب کی شمولیت والی ترقی کے لئے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں شہروں کو اسمارٹ بنانے اور انہیں صاف رکھنے میں ہندوستان سنگاپور سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔

سنگاپور کا ہندوستان کی لُک ایسٹ پالیسی میں ایک اہم مقام ہے۔ عوام سے عوام کا جو رابطہ ہے اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کی نظر میں سنگا پور کی کافی اہمیت ہے۔ اس بات کا اندازہ اسی بات سے ہوتا ہے پچھلے سال دنیا بھر سے جو لوگ سیاحت کے لئے سنگا پور گئے ان میں ہندوستانی سیاح تیسرے مقام پر تھے۔ اس لئے اب سنگا پور سے ہندوستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ کی ضرورت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ