صدر ٹرمپ کا کشیدگی دور کرنے کا ارادہ

عراق میں واقع امریکی فوجی ٹھکانوں پر گزشتہ دنوں ایران نے 22میزائیل داغے تھے جو دراصل ردّ عمل تھا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا جس کے تحت ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو عراق میں ہلاک کردیا گیاتھا۔ ظاہر ہے اس کا شدید ردعمل ہونا ہی تھا۔ جنرل سلیمان کی ہلاکت کاایران میں قدرتی طور پر بہت شدید ردعمل ہوا تھا کیونکہ وہ ایران کے نہ صرف ایک انتہائی طاقتور فوجی جنرل مانے جاتے تھے بلکہ فوج اور عوام میں بھی کافی مقبول تھے۔ ایران کے علاوہ خود عراق میں بھی ان کے معتقدین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے کیونکہ مغربی ایشیا کے سب سے خطرناک دہشت گرد گروپ داعش کے خلاف انہوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ عراق اور سیریا کے مقبوضہ علاقوں سے جس طور پر داعش کو بے دخل کیا گیا وہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ بہرحال، صدر ٹرمپ کے اُس اچانک فیصلے پر ان کے اتحادیوں اور مخالفین دونوں کو یکساں طور پر حیرت ہوئی تھی اور بیشتر حلقوں کا یہ اندازہ تھا کہ چونکہ صدر ٹرمپ گھریلو سیاست میں کچھ الجھے ہوئے تھے اور خاص طور سے ان کے مواخذہ کا معاملہ ان کے لئے خاصا پریشان کن تھا اس لئے انہوں نے یہ مہم جوئی کی تھی۔ بہرحال معاملہ جو بھی رہا ہو اس سے پوری دنیا میں تشویش پیدا ہوئی تھی۔ امریکہ کے روایتی اتحادی بھی خاصی تشویش میں مبتلا ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ان تمام ممالک کی پریشانی بھی بڑھ گئی تھی جن کے ایران سے تجارتی تعلقات رہے ہیں۔ ایران نے فوری ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے انتقام لینے کی بات بھی کہی تھی اور اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے میں بھی اس نے دیر نہیں کی۔ عراق میں امریکہ کے فوجی ٹھکانوں پر ہونے والے حملے کے بعد عالمی برادری کی تشویش اور بھی بڑھ گئی۔ ہرطرف یہ فکر لاحق ہوئی کہ ہوسکتا ہے اس حملے کے بعد حملوں اور جوابی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے۔ خدا نخواستہ ایسا ہوا ہوتا تو نہ صرف مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھتی بلکہ اس بات کا بھی امکان پیدا ہوجاتاکہ عالمی پیمانے پر نئے انداز کی صف بندی شروع ہوجائے۔

بہرحال، فی الحال تو ایسی کوئی تشویش کی بات نہیں لگتی۔ سب کو انتظار تھا کہ صدر ٹرمپ کا ردّعمل کیا ہوگا اور وہ کس طرح کا فیصلہ کرتے ہیں لیکن اطمینان کی بات یہ رہی کہ ان کا لہجہ نسبتاً نرم تھا اور انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے میزائیل حملوں سے امریکہ کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا اور تمام امریکی فوجی محفوظ رہے ۔ ان کی یہ بات بطور خاص اطمینان کا باعث بنی کہ انہوں نے یہ کہا کہ امریکہ کشیدگی دور کرنے کے حق میں ہے اور اگرچہ وہ فوجی اعتبار سے انتہائی محفوظ اور طاقتور ہے لیکن وہ اپنی طاقت کاا ستعمال نہیں کرے گا۔ ایران کی طرف سے بھی کچھ اسی طرح کے اشارے ملے ہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ ایسی غلطی کی تو ایران کی طرف سے بہت خطرناک جواب دیا جائے گا۔ انہو ں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے فوجی ٹھکانوں پر جو میزائیل حملے ہوئےتھے وہ ایران کا اپنے دفاع میں اٹھایا گیا ایک جائز قدم تھا۔ اگر مختصراً کہا جائے تو دونوں فریقوں نے یہی اشارہ کیا ہے کہ جب تک کسی ایک فریق کی طرف سے جارحانہ قدم نہیں اٹھایا جائے گا اس وقت تک اس کا جارحانہ انداز سے جواب بھی نہیں دیاجائیگا۔

کم از کم عارضی طور پر پوری عالمی برادری نے راحت کا سانس لیا ہے اور بطور خاص خلیجی ممالک کے لئے یہ ایک اچھی خبر ہے لیکن تشویش کا ماحول بالکل ختم ہوگیا ہے۔ یہ کہنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ اس لئے عالمی برادری کو اس پر نظر رکھنا ہوگی اور امریکہ اور عراق دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کو قائل کرنے کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں کہ حالات نارمل رہیں تو اچھا ہے۔ اس بات کااندازہ بھی ہوتا ہے کہ امریکہ کے یوروپی اتحادی پورے طور پر اس بات کے حق میں ہیں کہ امریکہ زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لے اور ایران بھی اشتعال سے گریز کرے۔ برطانوی وزیراعظم بورنس جانسن نے صدر روحانی سے کہا ہے کہ وہ ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کریں ۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ برطانیہ ایران سے کئے گئے نیوکلیائی معاہدے کے تئیں عہد بستہ ہے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر یہ تک کہا کہ 2015 میں جو نیوکلیائی ڈیل ہوئی تھی اسے برطانیہ موجودہ حالات میں بہترین ڈیل تصور کرتا ہے کیونکہ اس کے تحت نیوکلیائی توسیع کو روکنے میں مدد ملے گی۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے 2015 میں اس سمجھوتے سے اپنے آپ کو یکطرفہ طور پر الگ کرلیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا یہ ہے کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کو امریکہ کی بات ماننی چاہئے اور 2015 والے سمجھوتے کو منسوخ کردینا چاہئے۔ امریکہ کے مغربی اتحادی سمیت روس اور چین سبھی 2015 کے سمجھوتے کو ایک بہتر سمجھوتہ مانتے ہیں۔ ہندوستان بھی یہی چاہتا ہے کہ اگر اس سمجھوتے کے تحت نیوکلیائی توسیع کو روکنے میں مدد ملتی ہے تو یہ اچھی ڈیل ہے۔ ہندوستان پہلے بھی تشویش ظاہر کرچکا ہے کہ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں نہ صرف امن برباد ہوگا بلکہ مغربی ایشیا میں عدم استحکام کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ ہندوستان کے 80لاکھ کے قریب افراد خلیجی ممالک میں رہتے ہیں اور وہ ہرسال 40 بلین ڈالر اپنے وطن بھیجتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کی سلامتی کی بھی اسے فکر ہے۔ پھر اس خطے سے ہندوستان کے تجارتی تعلقات بھی بڑھ رہے ہیں ۔ ہندوستان یہی چاہے گا کہ کشیدگی کاماحول ختم ہو اور پائیدار امن کے لئے راہ ہموار ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ