ہند۔ لیٹویا تعلقات

لیٹویا کے وزیر خارجہ ایڈگارس رینکیوکس (Edgars Rinkevics) کے نئی دہلی کے حالیہ دورے سے ہندوستان اور لیٹویا کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت ملی ہے۔ ستمبر 2016 میں ہندوستان کے وزیر قانون اور اطلاعاتی ٹکنالوجی روی شنکر پرساد نے لیٹویا کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد نومبر 2017 میں لیٹویا کے وزیراعظم نے ہندوستان کا اپنا پہلا تاریخی دورہ کیا ۔ اس کے تقریباً دو سال بعد اگست 2019 میں ہندوستان کے نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو لیٹویا کے دورے پر گئے تھے۔

لیٹویا کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کافی پرانے ہیں۔ 22 ستمبر 1921 کو لیٹویا لیگ آف نیشنس کا ایک آزاد رکن بن گیا۔ دس جنوری 1920 سے لیگ کے ایک بانی رکن کی حیثیت سے ہندوستان نے لیٹویا کی اس تنظیم کی رکنیت کی حمایت کی۔

لیگ آف نیشنس میں تعلیمی اور ثقافتی تعاون وہ شعبہ تھا جہاں ہندوستان اور لیٹویا کے درمیان شروعاتی رابطے قائم ہوئے۔ 1923 میں ریگا یونیورسٹی میں لیٹویا کی وزارت خارجہ کی مدد سے لیٹویا کی نیشنل کمیٹی فار انٹلکچول کو آپریشن کا قیام عمل میں آیا۔ 1930 کی دہائی میں ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن، جو بعدمیں ہندوستان کے دوسرے صدر بنے، لیگ کی انٹرنیشنل کمیٹی آف انٹلکچول کو آپریشن کے رکن رہے ۔ 1946 میں اس کمیٹی نے پیرس میں یونیسکو کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

پچھلے سال 13 جنوری کو لیٹویا کے وزیر خارجہ نے نئی دہلی میں اپنے ملک کے سفارتخانے میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی پروفیسر سادھنا نیتھانی کی کتاب ‘‘فوک لور ان بالٹک ہسٹری’’ کا اجرا کیا۔ اس اہم کتاب میں بالٹک کی عوامی حکایات اور عقائد رسوم اور تحریکات آزادی پر ان کے اثرات کا ذکر ہے۔

مہاتما گاندھی کی قیادت میں عدم تشدد کے ذریعہ آزادی حاصل کرنے میں ہندوستان کی کامیابی کی گونچ لیٹویا میں بھی سنائی دی ہے۔ لیٹویا میں بھی تحریک آزادی شروع ہوئی جس میں عدم تشدد کا استعمال کیا گیا۔ بالآخر 1991 میں جب اسے آزادی ملی تو ہندوستان نے اس کا خیر مقدم کیا۔

یہی وہ تاریخ ہے جس کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے تعلقات پروان چڑھ رہے ہیں۔ ریگا یونیورسٹی میں اس وقت 1500 ہندوستانی طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں جو طب اور دوسرے تکنیکی شعبوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یونیورسٹی میں ہندوستانی مطالعات و ثقافت کا ایک مرکز بھی ہے جو 2013 سے کام کررہا ہے۔ جوہاہر لعل نہرو یونیورسٹی کا بالٹک مطالعات و ثقافت کا شعبہ اور ہری دوار کی دیو سنسکرتی یونیورسٹی جو ہند۔ بالٹک مطالعات و ثقافت کے بارے میں بین الاقوامی جریدہ شائع کرتی ہے، لیٹویا اور ہندوستان کے درمیان تعلیمی تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

آج لیٹویا کا شمار بحرۂ بالٹک کے چاروں طرف بسے ان ملکوں میں ہوتا ہے جو اپنی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ڈیجیٹل ٹکنالوجی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ڈیجیٹل ٹکنالوجی کے شعبہ میں ہندوستان اور لیٹویا کے درمیان تعاون کے کافی امکانات موجود ہیں۔

مارچ 2015 میں وزیراعظم نریندر مودی نے بحر ہند میں ہندوستان کے بحری مفادات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ساگر پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس پالیسی کا مقصد ہے علاقہ میں سب کی ترقی اور سب کی سلامتی۔ لیٹویا کو بندرگاہوں کے انتظام و انصرام کا کافی تجربہ ہے۔ ریگا بندرگاہ اس کی ایک مثال ہے۔ لہذا بحر ہند کی ترقی میں وہ ہندوستان کا ایک اہم شراکت دار ثابت ہوسکتا ہے۔

امید ہے کہ اس سال جون میں ہندوستان آئندہ دو سال کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بن جائے گا جبکہ لیٹویا نے 27۔2026 کے لئے غیر مستقل رکنیت کے لئے اپنی امیدواری کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ملکوں کا خیال ہے کہ سلامتی کونسل میں سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک روا رکھا جانا چاہیے۔ یہ کونسل کی اصلاحات کے ذریعہ ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سلامتی کونسل کے کام کرنے کے طریقہ میں مزید شفافیت ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ دونوں ملک چاہتے ہیں کہ 5 مستقل ارکان کے حق تنسیخ کو بھی ختم کیا جانا چاہیے۔

اس سال 21 ستمبر کو اقوام متحدہ اپنی 75 ویں سالگرہ منارہا ہے۔ اس موقع پر ہندوستان اور لیٹویا ایک ساتھ ہوں گے اور یہ وہ موقع ہوگا جب دونوں ممالک اقوام متحدہ کی اصلاحات کے لئے اپنی بات رکھ سکیں گے۔ دونوں ملکوں کے سب کی ترقی اور سلامتی کے مقاصد اسی صورت میں پورے ہوں گے جب اس عالمی تنظیم میں ضروری اصلاحات ہوں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ