پاکستان کے بدترین اقتصادی حالات کے مجرم پاک جنرلس ہیں

کسی ملک میں جمہوریت اگر نام نہاد ہو تو اس کے عوام گھٹن میں زندگی بسر کرنے پر مجبور رہتے ہیں۔ بظاہر انہیں حقوق حاصل ہوتے ہیں لیکن طاقت ان کے پاس نہیں ہوتی۔ طاقت ان کی منتخبہ حکومت کے پاس بھی نہیں ہوتی۔ طاقت کا محور فوج ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہی صورت حال ہے۔ کہنے کو تو پاکستان ایک جمہوری ملک ہے لیکن یہاں طاقت کا محور ہمیشہ سے فوج رہی ہے۔ پچھلی بار نواز شریف جب حلف لینے کے لیے جا رہے تھے تو ایک کمانڈو نے سٹی بجاکر ان کے قافلے کو روک دیا تھا۔ ان سے کمانڈو نے بتایا کہ جنرل کیانی کا قافلہ گزرنے کے بعد ہی انہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا لیکن عالمی میڈیا نے اسے کور کیا تھا، کیونکہ اس واقعے نے یہ اشارہ دے دیا تھا کہ نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم ضرور ہوں گے مگر طاقت کا محور پاک فوج کے سربراہ رہی ہوں گے۔ یہی ہوا۔

ایسی صورت میں پاکستان کا اقتصادی طور پر مستحکم بننا بہت مشکل ہے، کیونکہ پاک حکومت داخلی یا خارجی پالیسیاں فوج کی اجاز ت کے بغیر نہ بنا سکتی ہے اور نہ نافذ کر سکتی ہے۔ تجارت کے لیے ماحول سازگار بنانے اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بھی اسے فوج کی اجازت درکار ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں بیرونی ملکوں کی سرمایہ کاری اس لیے نہیں ہو پاتی، کیونکہ دہشت گردی سے اسے کبھی نجات نہیں مل سکی۔ جو پاک فوج سیکورٹی کے نام پر افغانستان اور ہندوستان سے تجارت میں رخنے ڈالتی ہے، اس نے دہشت گردی سے پاکستان کو نجات دلانے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ کسی حکومت نے کبھی چاہا کہ دہشت گردی سے پاکستان پاک ہو تو اسے کوئی ساتھ نہیں ملا اور اس کی سزا اسے بھگتنی پڑی۔

پچھلے انتخابات میں تو فوج نے تحریک انصاف پارٹی کو فتح یاب کرانے کے لیے باضابطہ ماحول بنایا اور دیگر پارٹیوں کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت میں اگر کسی صحافی نے کچھ لکھنے کی کوشش کی تو وہ اغوا یا گرفتار کر لیا گیا یا اسے متنبہ کیا گیا۔ ان تمام کوششوں کے بعد عمران خان وزیراعظم بنے تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ پاک فوج کے خلاف نہیں جا سکتے اور یہ بات پاکستان کے لوگ جانتے ہیں۔ اسی لیے عمران سے انہیں زیادہ امیدیں نہیں ہیں، البتہ پاکستان کے حالات ان کے لیے باعث تشویش ہیں، پاکستان کا خرچ آمدنی سے بہت زیادہ ہے اور یہ صورتحال تب ہے جب ستمبر 2019 تک اس کا شہری قرضہ جی ڈی پی کا اٹھہتر اعشاریہ چھ فیصد تھا۔

پاکستان کو جو عطیہ ملتا ہے، اس کا زیادہ حصہ قرض کا سود چکانے میں چلا جاتا ہے۔ انفرااسٹرکچر اور دیگر امور پر خرچ کرنے کے لیے اس کے پاس رقم نہیں بچ پاتی، اس لیے فطری طور پر وہاں بے روزگاروں اور خط افلاس کے نیچے رہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاک فوج کو یہ احساس کیوں نہیں ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے دہشت گردی سے پاکستان کو نجات دلانا اور وہاں تجارت موافق ماحول بنانا ضروری ہے، تجارت کے لیے پڑوسی اور دیگر ملکوں سے رشتہ استوار کرنے کی بھی ضرورت ہے، پاک فوج کو حالات کا احساس اس لیے نہیں ہے، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ پاکستان کے حالات بدتر رہیں گے، لوگ حالات میں الجھے رہیں گے تو جمہوری نظام کی بحالی کے لیے فوج کے خلاف محاذ نہیں کھولیں گے، چنانچہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عام بات ہیں۔ توہین مذہب کے نام پر پھانسی تک کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ عدالتیں ایک سے دو معاملوں میں وقت کی مناسبت سے متضاد فیصلے سناتی ہیں اور کم و بیش اسی موقف کا اظہار کرتی ہیں جو موقف فوج کا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی قانونی کارروائی بطور مثال پیش کی جا سکتی ہے۔



سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے ایک نہیں، کئی مسئلے ہیں جن کی وجہ پاک فوج ہے، کیونکہ وہ اپنی طاقت قائم رکھنے کے لیے مسئلوں کو ختم نہیں ہونے دیتی۔ بلوچستان میں جبری گمشدگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے لیکن اس پر فوج اپنا موقف واضح کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ بلوچستان پر قبضہ رکھنے کے لیے بلوچیوں کا اغوا ہی کیوں ضروری ہے، ان کا دل جیت کر کے بھی تو اس پر قبضہ رکھا جا سکتا ہے؟ پاکستان کی فوج نے اگر خود کو اپنے فرائض تک محدود رکھا ہوتا، اپنے ملک کی منتخبہ حکومتوں کے فرائض کی ادائیگی میں رخنہ نہ ڈالا ہوتا تو بلوچستان کا علاقہ ہی پاکستان کو اقتصادی طور پر مستحکم بنا دینے کے لیے کافی تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن وہاں کے لوگ اپنے ہی وسائل سے محروم ہیں اور پاکستان اقتصادی طور پر بدحال ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ