سری لنکا کے وزیر خارجہ کا ہندوستان کا پہلا دورہ
سری لنکا کے خارجی تعلقات، صلاحیت سازی، محنت اور روزگار کے وزیر دنیش گُناوردنے حال ہی میں ہندوستان کے اپنے پہلے سرکاری دورہ پر نئی دہلی میں تھے۔ ان کے ہمراہ ایک چار رکنی اعلیٰ سطحی وفد بھی تھا۔ اس سے قبل سری لنکا کے صدر گوت بایا راج پکشے نے پچھلے سال نومبر میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ اپنے دورے کے دوران جناب گُناوردنے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، صلاحیت سازی اور انٹرپرینیورشپ کے وزیر مہیندر ناتھ پانڈے اور محنت اور روزگار کے وزیر سنتوش کمار گنگوار سے بات چیت کی۔ سری لنکا کے وزیر خارجہ نے فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ارکان سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ اور مہابودھی سوسائٹی کے نئی دہلی مرکز کا بھی دورہ کیا۔
نئی دہلی میں وفد سطح کی بات چیت کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور جناب گناوردنے نے سرمایہ کاری، سیکیورٹی، ماہی پروری، سیاحت، تعلیم، ثقافتی تعاون اور موجودہ پروجیکٹوں سمیت دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ طرفین نے دونوں ملکوں کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بھی بات چیت کیا۔ قابل ذکر ہے کہ سری لنکا کے صدر گوت بایا راج پکشے نے اپنے پہلے دورۂ ہند کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صلاحیت سازی اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبہ میں مزید تعاون کیاجاسکتا ہے۔ سری لنکا کے وزیر خارجہ نے بھی اپنی بات چیت کے دوران انہی خیالات کا اظہار کیا اور ہندوستان سے اس سلسلے میں حمایت کی اپیل کی۔ جناب جے شنکر نے انہیں ہر طرح کی ممکنہ حمایت کا یقین دلایا۔ دونوں ممالک ان شعبوں میں مفاہمت ناموں پر دستخط کرنے کے بارے میں بھی غور کررہے ہیں۔ دونوں وزیروں نے آب وہوا کی تبدیلی اور انسداد دہشت گردی سمیت آپسی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
صدر گوت بایا نے اپنے بھارت دورے کے دوران کولمبو کی زیرحراست 15ہندوستانی ماہی گیروں اور 52 کشتیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا۔ جناب جے شنکر نے جناب گوت بایا کے اس اعلان کے بعد کئے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلات جاننا چاہا تو سری لنکا کے وزیر نے بتایا کہ اس سلسلے میں رہائی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں مقیم سری لنکا کے پناہ گزینوں کی وطن واپسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اپنے دورے کے اختتام کے بعد وطن واپسی پر جناب گُناوردنے نے میڈیا کو بتایا کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ سکریٹریٹ کے ذریعے سری لنکا کے ان تین ہزار پناہ گزینوں کو واپس بلانے اور انہیں ضروری سہولتیں فراہم کرنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں جو وطن واپس آنے کیلئے تیار ہیں۔ امید ہے کہ وطن واپسی کا یہ سلسلہ فروری میں شروع ہوجائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ وطن واپس ہونے والے پناہ گزینوں کی شناخت ہونے کے بعد ملک کے شمال اور مشرق میں ان کے اصلی علاقوں میں ریاستی ایجنسیوں کے مدد سے دوبارہ بسانے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک سری لنکا کے پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے بارے میں برسوں سے بات چیت کررہے تھے۔ ابھی تک جن پناہ گزینوں نے وطن واپسی کی خواہش کا اظہار کیا ہے ان کی دیکھ بھال کے انتظامات اقوام متحدہ کا حقوق انسانی کمیشن کررہا ہے۔ حکومت سری لنکا کی جانب سے کوئی امداد نہ ملنے اور پناہ گزینوں کی باز آبادکاری کیلئے مناسب سہولیات فراہم نہ کرنے کے باعث بہت سے پناہ گزین وطن واپس جانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اس پس منظر میں جناب گُناوردنے کے میڈیا کے سامنے دیئے گئے بیان کا خیرمقدم کیاجانا چاہئے۔
دوست ممالک کے طور پر ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان سیکیورٹی، سیاحت، ثقافت، تعلیم، صلاحیت سازی اور بنیادی ڈھانچہ کے شعبوں میں تعلقات کافی مضبوط ہیں۔ تاہم ماہی پروری اور سری لنکا میں ہندوستان کی امداد والے پروجیکٹوں کو لیکر دونوں ملکوں کے درمیان کچھ مسائل ضرور ہیں۔ اگرچہ ان مسائل کی شناخت بہت پہلے ہی کرلی گئی تھی تاہم ان کا حل ابھی تک نہیں نکل سکا ہے جو دوطرفہ تعلقات میں روڑہ بنے ہوئے ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ صدر گوت بایا اور وزیر خارجہ دنیش گُناوردنے کے بھارت دوروں سے نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہونگے بلکہ ان سے موجودہ مسائل حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
نئی دہلی میں وفد سطح کی بات چیت کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور جناب گناوردنے نے سرمایہ کاری، سیکیورٹی، ماہی پروری، سیاحت، تعلیم، ثقافتی تعاون اور موجودہ پروجیکٹوں سمیت دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ طرفین نے دونوں ملکوں کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بھی بات چیت کیا۔ قابل ذکر ہے کہ سری لنکا کے صدر گوت بایا راج پکشے نے اپنے پہلے دورۂ ہند کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صلاحیت سازی اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبہ میں مزید تعاون کیاجاسکتا ہے۔ سری لنکا کے وزیر خارجہ نے بھی اپنی بات چیت کے دوران انہی خیالات کا اظہار کیا اور ہندوستان سے اس سلسلے میں حمایت کی اپیل کی۔ جناب جے شنکر نے انہیں ہر طرح کی ممکنہ حمایت کا یقین دلایا۔ دونوں ممالک ان شعبوں میں مفاہمت ناموں پر دستخط کرنے کے بارے میں بھی غور کررہے ہیں۔ دونوں وزیروں نے آب وہوا کی تبدیلی اور انسداد دہشت گردی سمیت آپسی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
صدر گوت بایا نے اپنے بھارت دورے کے دوران کولمبو کی زیرحراست 15ہندوستانی ماہی گیروں اور 52 کشتیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا۔ جناب جے شنکر نے جناب گوت بایا کے اس اعلان کے بعد کئے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلات جاننا چاہا تو سری لنکا کے وزیر نے بتایا کہ اس سلسلے میں رہائی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں مقیم سری لنکا کے پناہ گزینوں کی وطن واپسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اپنے دورے کے اختتام کے بعد وطن واپسی پر جناب گُناوردنے نے میڈیا کو بتایا کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ سکریٹریٹ کے ذریعے سری لنکا کے ان تین ہزار پناہ گزینوں کو واپس بلانے اور انہیں ضروری سہولتیں فراہم کرنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں جو وطن واپس آنے کیلئے تیار ہیں۔ امید ہے کہ وطن واپسی کا یہ سلسلہ فروری میں شروع ہوجائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ وطن واپس ہونے والے پناہ گزینوں کی شناخت ہونے کے بعد ملک کے شمال اور مشرق میں ان کے اصلی علاقوں میں ریاستی ایجنسیوں کے مدد سے دوبارہ بسانے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک سری لنکا کے پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے بارے میں برسوں سے بات چیت کررہے تھے۔ ابھی تک جن پناہ گزینوں نے وطن واپسی کی خواہش کا اظہار کیا ہے ان کی دیکھ بھال کے انتظامات اقوام متحدہ کا حقوق انسانی کمیشن کررہا ہے۔ حکومت سری لنکا کی جانب سے کوئی امداد نہ ملنے اور پناہ گزینوں کی باز آبادکاری کیلئے مناسب سہولیات فراہم نہ کرنے کے باعث بہت سے پناہ گزین وطن واپس جانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اس پس منظر میں جناب گُناوردنے کے میڈیا کے سامنے دیئے گئے بیان کا خیرمقدم کیاجانا چاہئے۔
دوست ممالک کے طور پر ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان سیکیورٹی، سیاحت، ثقافت، تعلیم، صلاحیت سازی اور بنیادی ڈھانچہ کے شعبوں میں تعلقات کافی مضبوط ہیں۔ تاہم ماہی پروری اور سری لنکا میں ہندوستان کی امداد والے پروجیکٹوں کو لیکر دونوں ملکوں کے درمیان کچھ مسائل ضرور ہیں۔ اگرچہ ان مسائل کی شناخت بہت پہلے ہی کرلی گئی تھی تاہم ان کا حل ابھی تک نہیں نکل سکا ہے جو دوطرفہ تعلقات میں روڑہ بنے ہوئے ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ صدر گوت بایا اور وزیر خارجہ دنیش گُناوردنے کے بھارت دوروں سے نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہونگے بلکہ ان سے موجودہ مسائل حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
Comments
Post a Comment