پاکستان میں گمشدہ افراد کا کیس لڑنے والوں کا بھی اغوا


یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے بار بار دہرایا جائے کہ پاکستان میں فوج نہ صرف یہ کہ سب سے زیادہ طاقتور ادارہ ہے بلکہ اپنے آپ کو ہر قانون سے بالا تر بھی تصور کرتی ہے ۔ کیونکہ پاکستان میں بیشتر کام فوج ہی کے اشارے پر ہوتے ہیں۔ خواہ وہ ملک کا سیاسی نظام ہو یا روز مرہ کے نظم و ضبط کا معاملہ۔ پاکستانی فوج اور اس کی ماتحتی میں کام کرنے والی ایجنسیاں آئین اور قانون کے ہوتے ہوئے بھی ہر معاملے میں خود اپنے ضابطے طے کرتی ہیں اور اسی پر عمل کرتی ہیں۔ ملک کے عام قانون اور ضابطوں کی پاسداری کرنا گویا ان کے فرائض منصبی کا حصہ ہی نہیں ہے۔

پاکستان کی تاریخ کا 3 دہائی سے بھی زیادہ کا عرصہ براہ راست فوجی حکمرانی میں گزرا۔ یہ درست ہے کہ ہر ڈکٹیٹر کے خلاف جمہوری تحریکیں شروع ہوئیں اور ہر ایک کو اقتدار سے محروم بھی ہونا پڑا لیکن منتخب حکومتوں کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ فوج کے ہتھکنڈوں کا نٹ ورک کچھ اتنا مضبوط ہے کہ فوج کے اپنے وضع کردہ ضابطوں کے سوا کوئی ضابطہ اس ملک میں نافذ ہی نہیں ہوسکتا۔ آخری فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے زوال کے ساتھ جب منتخب حکومت قائم ہوئی تو وہ پہلی حکومت تھی جس نے 5 سال کاٹرم پورا کیا۔ دوسری حکومت نے بھی اپنی مدت پوری کرلی۔ اگرچہ ان دونوں میں سے کسی بھی حکومت کے وزیراعظم کو 5 سال کی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں ملا۔ عمران خان کی حکومت وہ تیسری حکومت ہے جو بحالیٔ جمہوریت کے بعد تیسری بار ہوئے عام انتخاب کے بعد گزشتہ سال اقتدار میں آئی۔ پچھلی دونوں حکومتیں فوج کے لئے پسندیدہ حکومتیں نہیں تھیں۔ اس اعتبار سے عمران خان کی حکومت ‘‘خوش قسمت’’ ہے کہ فوج ان پر بڑی مہربان ہے۔ بلکہ یہ بات بھی سب کے علم میں ہے کہ فوج کی خصوصی حکمت عملی کے تحت عمران حکومت برسر اقتدار آئی ہے۔ گویا پرویز مشرف کے زوال کے بعد سے اب تک براہ راست کوئی فوجی بغاوت نہیں ہوئی۔ اگر غور کیا جائے تو بات جمہوریت کے حوالے سے فال نیک تھی کہ مسلسل گیارہ سال سے لگاتار اور تسلسل کے ساتھ منتخب حکومتیں کام کررہی ہیں لہذا قدرتی طور پر اس مدت میں جمہوریت کو فروغ پانے کا موقع ملتا اور بہت ساری ناہموار یاں جو وہاں کے نظام سیاست میں فوج کی مداخلت کے باعث در آئی تھیں، ان سے نجات پائی جاسکتی تھی۔ لیکن ہوا اس کے عین برعکس۔ بجائے اس کے کہ رفتہ رفتہ قانون کی بالا دستی قائم ہوتی، عمران خان کے دور، اقتدار میں قانون کی رہی سہی پاسداری کا سلسلہ بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ چونکہ موصوف فوج کے احسان تلے سر سے پیر تک دبے ہوئے ہیں لہذا ہلکی سی مزاحمت بھی ان کے بس کی بات نہیں رہی ۔ جنرل پرویز مشرف نے بلوچستان میں جو ظلم کے پہاڑ توڑے تھے اور ان کی فوج نے بلوچ عوام کے سر پر ایجنسیوں کو جس طرح مسلط کیا تھا، وہ تسلط ان کے بعد بھی ختم نہیں ہوا۔ مخالفت کی آواز کو کچلنے کے لئے وہاں کے سیاسی کارکنوں ، جمہوریت پسندوں اور طلبا کی زبان بند کرنے کی کوشش ہوئی۔ ان کے اغوا کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ نہ کوئی وجہ بتائی جاتی اور نہ ہی ان کے گھر والوں کو یہ پتہ چلتا کہ انہیں کس جرم میں زبردستی اغوا کیا گیا اور کہاں رکھا گیا۔ گمشدہ افراد میں سے بہتوں کو اذیت دے کر مار دیا جاتا اور ان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ادھر ادھر پھینک دی جاتیں۔ بہت سے گمشدہ افراد کی اجتماعی قبریں بھی ملیں۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ احتجاج کی آوازیں بھی اٹھیں لیکن سب کچھ دب کر رہ گیا۔ اب گمشدگی کا معاملہ صرف صوبہ بلوچستان تک محدود بھی نہیں رہا۔ پاکستان کے کسی بھی صوبے سے کسی کو بھی ایجنسیاں پراسرار طور پر غائب کرسکتی ہیں۔ ان کا حالیہ نشانہ پشتون کارکن بنے ہیں۔ پشتونوں کی تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم کے متعدد لیڈر اور کارکنوں کا اغوا ہوا۔ حتی کہ معزز ممبران پارلیمنٹ کو بھی جھوٹے مقدمات میں ماخوذ کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔

عمران خان صاحب کا دور اقتدار اس اعتبار سے ایجنسیوں کے لئے زیادہ ہی ہموار ہے کہ اب جبری طور پر اغوا کئے گئے لوگوں کا کیس لڑنے والے وکلاء اور ایکٹی وسٹ بھی اغوا کئے جانے لگے۔ اخبار ڈان کے ایک حالیہ اداریئے میں کہا گیا ہے کہ اغوا کئے گئے لوگوں کا مقدمہ لڑنے والے ایک وکیل انعام الرحمن کو 17 دسمبر کو ان کے گھر سے سب کی موجودگی میں ایجنسی والے اٹھاکر لے گئے۔ ان پر کیا الزام لگا، یہ بتانا تو دور کی بات رہی ، انہوں نے اپنی شناخت بھی ظاہر نہیں کی۔ معاملہ عدالت میں پہنچا اور گھر والوں نے لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بنچ کے سامنے فریاد کی کہ کم سے کم ان کا جرم تو بتایا جائے اور انہیں کہاں رکھا گیا ، اس سے تو آگاہ کیا جائے۔ کئی روز بعد عدالت میں یہ بتایا گیا کہ فوج کی ایک ایجننسی نے انہیں گرفتار کیا ہے۔ ظاہر ہے گمشدہ افراد کے حق کے لئے لڑنے والے وکیل کو غائب کرنے کا یہی مقصد ہوسکتا ہے کہ وکیل حضرات ایسے لوگوں کی وکالت کرنے سے باز آجائیں جو ایجنسی والوں کا نشانہ بنتے ہیں ورنہ ان کا حشر بھی گمشدہ افراد سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہ سب کچھ پاکستان کے سابق کرکٹر کپتان اور موجودہ وزیراعظم کے وقت میں ہورہا ہے جو مدینہ جیسی فلاحی ریاست قائم کرنے کا خواب پاکستان کے عوام کو دکھا رہے تھے، کیا شفاف معاشرے اور فلاحی ریاست کی یہی خصوصیات ہوتی ہیں؟

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ