ہندوستان کے نائجر اور تیونس کے ساتھ بڑھتے تعلقات

افریقی ممالک پر مزید توجہ مرکوز کرنے اور ان کے ساتھ قریبی سفارتی اورمعاشی تعلقات کو فروغ دینے کی غرض سے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اس ہفتہ کے اوائل میں نائجر اور تیونس کا دورہ کیا۔ چونکہ ان ملکوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مدد کی تھی اس لیے نئی دہلی انہیں کافی اہمیت دیتا ہے۔ وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جناب ایس جے شنکر کا ان ملکوں کا یہ پہلا دورہ تھا۔

نائجر کے دارالحکومت نیامی (Niamey) کے اپنے دورے کے دوران جناب جے شنکر نے صدر محمودو یوسفو سے ملاقات کی اور دوطرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر مہاتما گاندھی انٹرنیشنل کنونشن سینٹر کا بھی افتتاح کیا۔ افریقہ میں یہ پہلا مرکز ہے جسے ہندوستان نے مہاتماگاندھی کی یاد میں قائم کیا ہے، جن کا 150 واں یوم ولادت منایا جارہا ہے۔ یہ مرکز ہند-نائجر دوستی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ ہندوستان افریقہ کی ترقی کے تئیں اپنے عہد پر مضبوطی کے ساتھ برقرار ہے۔ یہ ایک جدید ترین مرکز ہے جو وسیع وعریض علاقہ پر پھیلا ہوا ہے۔ مرکز میں اجلاس وغیرہ کے لیے ایک ہال ہے جس میں دو ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ اس میں اتنی جگہ ہے کہ افریقی یونین کے ارکان آسانی کے ساتھ اپنا کنونشن کرسکتے ہیں۔

نیامی میں اپنے قیام کے دوران جناب جے شنکر نے وزیراعظم بریگی رفینی (Brigi Rafine) سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے نائجر کے اپنے ہم منصب جناب کلا انکوراؤ (Kalla Ankkaurao) سے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے مختلف معاہدوں پر دستخط کیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے چیلنجوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو کافی فروغ ملا ہے۔ ہندوستان نے ٹرانسپورٹ، بجلی، شمسی توانائی اور پینے کے پانی کے پروجیکٹوں کے لیے نائجر کو قرض فراہم کیے ہیں۔ نئی دہلی کے تکنیکی اور معاشی تعاون پروگرام کے تحت نائجر کے سیکڑوں اہلکاروں نے ہندوستان کی صلاحیت سازی کی تربیت سے استفادہ کیا ہے۔ ہندوستان نے پچھلے سال جولائی میں نیامی میں افریقی یونین کی سربراہ کانفرنس کے انعقاد میں بھی کافی مدد کی تھی۔ نائجر بھی بین الاقوامی تنظیموں میں مختلف عہدوں کے لیے ہندوستان کی امیدواری کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اس نے عالمی کسٹمس تنظیم میں کمپلائنس اینڈ فیسی لیٹیشن (Compliance & Facilitation) ڈائریکٹر کے عہدے اور عالمی صحت تنظیم میں ایکسٹرنل آڈیٹر برائے 2020-23 کے عہدے کے لیے ہندوستان کی امیدواری کی حمایت کی۔ تجارت کی بات کریں تو 2016-17 میں نائجر کے ساتھ ہندوستان کی تجارت 81 اعشاریہ 27 ملین ڈالر مالیت کی تھی جو 2017-18 میں بڑھ کر 140 اعشاریہ چار ملین ڈالر ہوگئی۔ 2019-20 نائجر کو ہندوستان کی برآمدات 51 اعشاریہ سات چھ ملین ڈالر مالیت کی تھی جب کہ ہندوستان کو نائجر کی برآمدات صفر اعشاریہ تین چار ملین ڈالر کی تھی۔

تیونس کے اپنے دورے کے دوران دونوں ملکوں نے اطلاعات ومواصلات کی ٹیکنالوجی میں اختراعات پیدا کرنے کی غرض سے ایک مرکز کے قیام کے بارے میں ایک سمجھوتے پر دستخط کیے۔ ہندوستانی وزیرخارجہ نے تیونس کے صدر قیس سعید سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے تیونس کے اپنے ہم منصب صابری بچوبجی (Bachtobje) سے بھی ملاقات کی اور معاشی تعلقات کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ فریقین نے بین الاقوامی تنظیموں میں ایک ساتھ مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا۔ ہندوستان کو فوسفیٹ کی سپلائی کے لیے تیونس ایک اہم ذریعہ ہے تیونس تمام دنیا کو جو فوسفیٹ سپلائی کرتا ہے اس کا تقریبا پچاس فیصد حصہ ہندوستان کو آتا ہے۔

2017 میں ہند-تیونس مشترکہ کمیٹی کی ایک میٹنگ نئی دہلی میں ہوئی تھی۔ اس میٹنگ نے جو سفارشات پیش کیں اور جو فیصلے لیے ان کے تناظر میں جناب جے شنکر کا یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1958 کے بعد سے ہندوستان کے کسی بھی وزیر خارجہ کا تیونس کا یہ دوسرا سرکاری دورہ تھا۔

نائجر اور تیونس دونوں ہی ہندوستان کے لیے کافی اہم ہیں کیوں کہ وہ دونوں ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیرمستقل ارکان ہیں اور دونوں نے ہندوستان کی امیدواری کی بار بار حمایت کی ہے۔ جناب جے شنکر کا یہ دورہ دونوں ملکوں کو اس حمایت کیلئے اظہار تشکر کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ