پاکستان کو امریکہ کا انتباہ: ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرو

چند روز قبل امریکہ نے پاکستان سے سختی سے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر فنڈ اکٹھا کرنے یا اسے ٹرانسفر کرنے کی نگرانی کرنے والے کثیر قومی ادارے فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی ان شرائط کو پورا کرے جو اس نے عائد کی ہیں۔ یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے 3جون 2018میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور اس سے یہ کہا تھا کہ وہ اکتوبر 2019تک 27نکاتی ایکشن پلان پر عمل کرے تاکہ دہشت گرد گروپوں کی منی لانڈرنگ سے متعلق سرگرمیوں پر روک لگے ۔لیکن اکتوبر تک ایسا کچھ اس نے دور تک نہیں کیا جسے قابل ذکر پیش رفت کہا جا سکے۔ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان کی کارکردگی کو ناقص قرار دیتے ہوئے یہ کہا کہ اس نے 27 نکات میں سے صرف 5 پر کچھ کام کیا ہے۔ یعنی باقی کے 22 نکات کو چھووا تک نہیں ہےلہذا ایف اے ٹی ایف نے ایک بار پھر وارننگ دی اور اس بار فروری 2020 تک کا وقت دیا تھا کہ اس درمیان وہ ضروری قدم اٹھائے ورنہ اُسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ظاہر ہے یہ وارننگ ایسی نہیں ہے جسے نظر انداز کرتا کیونکہ اگر اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جاتا تو اقتصادی سطح پر اس کی حالت بہت نازک ہو جاتی اور عالمی مالیاتی اداروں سے اسے نہ صرف قرض لینے میں دشواری پیش آتی بلکہ ان اداروں کی بعض بندشوں کے نتیجہ میں رہی سہی معیشت بھی بری طرح لڑ کھڑا جاتی ۔ چونکہ ایف اے ٹی ایف نے بعض دہشت گرد گروپوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا تھا جن کے خلاف کارروائی کرنے میں پاکستان کو اکثر پس و پیش رہتا ہے اور جس میں لشکر طیبہ ، جیش محمد اور طالبان کے کچھ گروپ شامل ہیں اس لئے پاکستان پر زبردست دباؤ پڑ رہا تھا۔ خود پاکستان نے بھی بہر حال یہ محسوس کیا کہ اب مفرکا کوئی راستہ نہیں رہا۔اس لئے کچھ کارروائیاں اس نے بہر حال شروع کیں۔ پچھلے دنوں بیجنگ میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اسی پس منظر میں گذشتہ دنوں امریکہ کی پرنسپل ڈپٹی سکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسطی اشیاء ایلس ویلس نے ان علاقوں کا دورہ بھی کیا۔ انہوں نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ پاکستان سےسختی سے کہا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جن نکات پر پاکستان کو کام کرنے کے لئے کہا ہے وہ اسے ہر حال میں کرنا چاہئے کیونکہ اگر اس نے بین الاقوامی برادری کو مطمئن نہیں کیا تو وہ اقتصادی معاملات میں بہت مشکل میں پڑ جائے گا۔ اس کے اقتصادی اصلاحات کے کاموں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے اور وہ سرمایہ کاروں کو بھی اپنی طرف راغب نہیں کر پائے گا۔ یاد رہے کہ جون 2018 میں جب پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا تو اس میں امریکہ کا نمایاں رول تھا حالانکہ چین اور اس کے بعض دوسرے اتحادیوں نے زبردست مخالفت کی تھی ۔ اس کے بعد پاکستان نے کچھ قدم اٹھائے ضرور لیکن ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے مطابق کام نہیں ہوا۔ اب سننے میں یہ آ رہا ہے کہ پاکستان نے تمام شرطیں تو پوری نہیں کی ہیں لیکن اتنی پیش رفت ضرور کی ہے کہ ایف اے ٹی ایف اس پر غور کر سکتا ہے۔ مثلاً یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جہاں اکتوبر 2019 میں پاکستان نے صرف 5 نکات پر کام کیا تھا وہاں اب اس نے14 نکات پر کام کیا ہے اور اس کو ایف اے ٹی ایف نے مانا بھی ہے۔

چونکہ معاملہ کافی سنگین نوعیت کا ہے اور پاکستان کی معیشت بری طرح لڑ کھڑا رہی ہے اس لئے عمران حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کسی اضافی معاشی بحران کا سامنا کر سکے ۔ چونکہ موجودہ حکومت اور فوج اس وقت ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اس لئے بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اقتصادی طور پر مزید پریشانیوں سے بچنے کے لئے پاکستانی فوج عمران حکومت کو یہ رعایت دی سکتی ہے کہ ایسی کچھ کارروائیاں کرنے کے معاملے میں حافظ سعید اور طالبان کے بعض گروپوں پر مزید شکنجہ کسا جا سکے ۔ دوسری طرف پاکستان بلیک لسٹ سے بچنے اور ساتھ ہی ساتھ گرےلسٹ سے نجات پانے کے لئے لابنگ بھی بھر پور کر رہا ہے اگر یہ درست ہے کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کارکردگی سے کسی حد تک مطمئن ہوا ہے تو یہ ممکن ہے کہ پاکستان بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچ جائے۔ لیکن گرے لسٹ سے اس کا نکلنا شاید آسان نہ ہوگا۔ بہر حال اس کا فیصلہ فروری میں یا اس کے بعد اسی وقت ہو سکتا ہے جب ایف اے ٹی ایف کی پلینری کی میٹنگ ہوگی۔



ہندوستان یہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان اقتصادی سطح پر بد حالی کا شکار ہو ۔ خود پاکستان کی دہشت گردی سے متعلق حکمت عملی نے اسے اس مقام تک پہنچایا ہے کہ بین الاقوامی برادری سے وہ الگ تھلگ پڑتا جا رہا ہے۔ جہاں تک پاکستان کے گرے لسٹ میں شامل رہنے یا اس سے باہر آنے کی بات ہے تو قطعی فیصلہ ایف اے ٹی ایف ہی کرے گا جس کی سربراہی اس وقت چین کر رہا ہے۔ اگر پاکستان کو اس کی کارکردگی کی بنیاد پر تھوڑی راحت مل بھی جائے تب بھی عالمی برادری اور عالمی اداروں کو لگاتار اس بات پر نظر رکھنا ہوگی کہ پاکستان میں پروان چڑھنے والی دہشت گرد تنظیموں پر نظر رکھی جا سکے ۔ پاکستان اپنی عہد بندیوں کو توڑنے کے لئے کافی مشہور ہے۔2012 سے 2015 تک وہ گرے لسٹ میں رہا ۔ پشاور اسکول حملے کے بعد دکھاوے کی کچھ کارروائیاں کر کے وہ اس لسٹ سے باہر تو آ گیا تھا لیکن اپنی ناقص کاکردگی کی وجہ سے ہی وہ 2018 میں پھر اسی لسٹ میں شامل ہو گیا۔ اس لئے اس پر اعتبار سوچ سمجھ کے کرنا چاہئے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ