ایران –امریکہ ٹکراؤ سے ہندوستان کو تشویش
گذشتہ جمعہ کو عراق میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا جو واقعہ پیش آیا وہ بہر حال افسوسناک اور تشویشناک تھا کیونکہ اس سے مغربی ایشیا میں ایک نئی اور باقاعدہ جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ میجر جنرل سلیمانی بیشک ایران کے سخت گیر حلقوں میں زیادہ مقبول تھے لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ ایک مضبوط فوجی کمانڈر کی حیثیت سے بھی ایران میں ان کی بڑی قدرو منزلت تھی۔انہوں نے تقریباً دو دہائی تک ایران کی قدس فورس کی سربراہی کے فرائض انجام دیئے تھے اور ایران کے اعلیٰ مذہبی رہنما آیت اللہ علی خمینی کے بہت قریب تھے جنہوں نے ایک بار انہیں ‘‘انقلاب کے ایک زندہ شہید ’’کا نام دیا تھا۔ خیر ایران میں ان کی مقبولیت اور اہمیت سے قطع نظر مغربی ایشیا سے خطرناک ترین دہشت گرد گروپ داعش یا آئی ایس کو سیریا اور عراق میں بے اثر کرنے میں انہوں نے بہت نمایاں رول ادا کیا تھا۔ گویا اس طور پر اُس خطے کے علاقوں کو آئی ایس کے چنگل سے آزاد کرانے میں ان کے رول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ آئی ایس کو نکال باہر کرانے میں ایک طرح سے حکومت عراق اور امریکہ انہوں نے دونوں کی مدد کی تھی کیونکہ آئی ایس کے خلاف ہی امریکہ ہوائی حملوں کا اہتمام کررہا تھا۔
بہر حال اب ایک نئی طرح کی کشیدگی اس علاقے میں شروع ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ سلیمانی کی مقبولیت عراق میں بھی کچھ کم نہیں ہے ۔ اور اتفاق سے عراق ہی میں صدر ٹرمپ کے حکم سے انہیں قتل کیا گیا۔ عراق میں بھی ان کے قتل کا بہت شدید رد عمل ہوا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہاں کے قانون سازوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت امریکہ کو اپنی فوجوں کو واپس بلانے پر مجبور کرے۔ اگر چہ بعض حلقے اس فیصلے کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ بہر حال اس قرار داد کے حق میں 170 ووٹ آئے ہیں۔ جبکہ 160 نے اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ آگے چل کر اس سلسلہ میں کیا فیصلہ ہوتاہے یہ تو بعد ہی میں معلوم ہو گا لیکن یہ ضرور اندازہ ہوتا ہے کہ عراق کے اندرونی حلقے میں ایک دراڑ سی پید اہو گئی ہے۔ ایک حلقہ یہ چاہتا ہے کہ امریکی فوجیں عراق سے واپس چلی جائیں اور دوسرا اس کے حق میں نہیں ہے ۔ اس صورت میں یہ خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ تخریب کار اور دہشت گرد گروپوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے اور یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہوگی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان تلخیاں اسی وقت پیدا ہو گئی تھیں جب صدر ٹرمپ نے اس ڈیل سے اپنے آپ کو یکطرفہ طو رپر الگ کر لیا تھا۔جو 2015 میں ہوئی تھی اس وقت صدر اوبامہ برسر اقتدار تھے۔ ٹرمپ کے اس فیصلے سے ان کے مغربی اتحادی بھی ناراض ہوئے تھے۔ لیکن ان کے اس فیصلے سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی ۔ اور رفتہ رفتہ اس میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ ظاہر ہے نیوکلیائی ڈیل ہونے کے بعد ایران نے نسبتاً اطمینان کا سانس لیا تھا کیونکہ اقتصادی پابندیوں کے معاملے میں اسے کچھ راحت مل گئی تھی اور اقتصادی سطح پر پچھلی پریشانیوں سے ایران کو نجات بھی ملی تھی۔ ساتھ ہی ان ملکوں کے ساتھ ایران کے کاروبار کی راہیں بھی ہموار ہوئی تھیں جو ان اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے رکاوٹ اور الجھنوں کا شکار ہوگئی تھیں ۔ ہندوستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے جس کے ایران سے تجارتی رشتے رہے ہیں۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان روایتی طور پر مختلف شعبوں میں اشتراک و تعاون کا سلسلہ بھی قائم رہا ہے۔ امریکہ کے نیوکلیائی ڈیل سے الگ ہونے کے بعد قدرتی طور پر ہندوستان کو بھی بعض مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔ ایک ایسے وقت میں جب مغربی ایشیا میں داعش کے اثرات کو ختم کرنے میں اہم کامیابیاں ملی تھیں تو ایک نیا تشویشناک ماحول پیدا ہوجانے سے یقینی طورپر صورتحال اور زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔
ہندوستان بنیادی طور پر ایک منصفانہ اور کثیر قومی عالمی نظام کے قیام کا قائل ہے۔ لہذا اس کشیدہ ماحول سے اسے قدرتی طور پر شدید تشویش لاحق ہے ۔ امریکہ اور ایران ان دونوں ملکوں سے اس کے تعلقات اچھے ہیں۔ وہ قطعی نہیں چاہتا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہو اور حالات بد سے بدتر ہو جائیں ۔ بہتر تو یہی ہوگا کہ فریقین تحمل سے کام لیں۔ مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک بھی اس کشیدگی سے متاثر ہونگےجوہر ایک کے لئے گھاٹے کا ہی سودا ثابت ہوگا۔ ہندوستان کےایران کے علاوہ مغربی ایشیا کے متعدد ملکوں سے بھی اچھے رشتے ہیں۔ اسی لئے اس نے نئے تشویشناک ماحول میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے چندروز قبل نہ صرف امریکہ اور ایران کے اپنے ہم منصبوں سے فون پر رابطہ قائم کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کو قابو سے باہر نہ ہونے دیں بلکہ خلیج کے علاقے کے دیگر ملکوں سے بھی بات چیت کی۔ ایران اور امریکہ کے علاوہ امریکہ کے یوروپی اتحادیوں کو بھی اس بات کی پوری کوشش کرنی چاہئے کہ وہ خصوصی دلچسپی لیں اور سفارتی مہمات کے ذریعہ فریقین کو اس بات کے لئے آمادہ کریں کہ حالات بگڑنے نہ پائیں ۔ ایسا کرنا بے حد ضروری ہے کیونکہ حالات بہت دھماکہ خیز ہو سکتے ہیں۔ ضرورت دانشمندی تحمل اور بردباری کی ہے۔ بہر حال بعض باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشیدگی کے بادل چھٹ سکتے ہیں کیونکہ ایران نے عراق میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر انتقامی کارروائی کے طور پر جو میزائل داغے تھے اس پر صدر ٹرمپ نے جو رد عمل ظاہر کیا ہےاس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا لہجہ قدرے بدلا ہوا ہے اور وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ کشیدگی مزید نہ بڑھنے پائے۔ یہ ایک امید افزاں بات ہے۔
Comments
Post a Comment