شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ کانفرنس میں پاکستان کو شرکت کی دعوت
ہندوستان اور پاکستان دونوں شنگھائی تعاون تنظیم یا شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے رکن ہیں۔ یہ دونوں ملک 2017 میں باقاعدہ اس تنظیم کے ممبر بنائے گئے تھے۔ اس طور پر اس تنظیم کے ممبران کی کل تعداد اس وقت آٹھ ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک کی اس تنظیم میں جو دوسرے ممالک پہلے سے اس کے ممبر تھے ، ان میں چین، قزاخستان، کرغستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ اس سال اس تنظیم میں شامل ممالک کی سربراہ کانفرنس کی میزبانی کے فرائض ہندوستان انجام دینے والا ہے جو سال کے اواخر میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والی ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ہندوستان اس کانفرنس کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو مدعو کرے گا ۔ بلاشبہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات اس وقت کافی کشیدہ ہیں لیکن یہ ایک الگ بات ہے اور ہندوستان ہمیشہ اس بات کا قائل رہا ہے کہ دو ملکوں کی آپسی رنجش یا کشیدگی کا منفی اثر کثیر قومی تنظیموں پر نہیں پڑنا چاہیے۔ کیوں کہ بین الاقوامی یا کثیر قومی اداروں یا تنظیموں کے معاملات قطعی مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان سے متعلق عہد بندیوں کا دو ملکوں کے باہمی رشتوں سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس تنظیم میں شامل سربراہان حکومت کی میٹنگ ہرسال ہوتی ہے جہاں اس تنظیم کے ضابطوں کے دائرہے میں رہ کر کثیر قومی اقتصادی تعاون کے سلسلے میں بات چیت اور تبادلۂ خیال ہوتا ہے۔ ان میٹنگوں میں شنگھائی تعاون تنظیم کے آٹھوں ممبران کے علاوہ چار آبزرور (Observer) ریاستوں اور بین الاقوامی ڈائیلاگ پارٹنرز کو بھی مدعو کیا جاتا ہے اور اس بار بھی یہی ہوگا۔
یاد رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم چین کی قیادت میں قائم ہونے والا ایک اقتصادی اور سیکورٹی بلاک ہے جو 2001 میں قائم ہوا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کے مطابق پاکستان سمیت تمام ممبران کے سربراہان حکومت آبزرور اور بین الاقوامی ڈائیلاگ پارٹنرز کو تنظیم کے ضابطوں کے مطابق مدعو کیا جائے گا۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شاید عمران خاں اس میٹنگ میں شرکت نہ کریں بلکہ اپنے کسی سینئر وزیر کو بھیجیں۔ بہرحال اب یہ تو ان کی صوابدید پر ہے کہ وہ خود آتے ہیں یا پاکستان کی نمائندگی کرنے کوئی اور آتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات حالیہ تین چار برسوں میں کچھ زیادہ ہی خراب ہوئے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ دہشت گردی کے تعلق سے پاکستان کے منفی پالیسی رہی ہے۔ حالانکہ 2014 میں وزیراعظم نریندرمودی کے برسراقتدار آنے کے بعد ہندوستان کی طرف سے لگاتار اس بات کی کوشش ہوئی کہ ہند-پاک تعلقات میں سدھار آئے۔ وزیراعظم نے اپنی تقریب حلف برداری میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو مدعو کیا تھا۔ نواز شریف آئے بھی تھے،اس کے بعد کئی اہم واقعات ہوئے تھے جن کے تحت تعلقات میں بہتری آنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ وزیراعظم نریندرمودی بہ نفس نفیس بغیر کسی پروگرام کے لاہور گئے تھے جس کا مقصد جذبۂ خیرسگالی کو فروغ دینا تھا۔ دونوں ملکوں کے خارجہ سکریٹریوں کی ملاقات کا شیڈول بھی قریب قریب طے ہوگیا تھا لیکن وزیراعظم کے دورے کے ایک ہفتہ بعد ہی پٹھان کوٹ پر جیش محمد کے دہشت گردوں کا حملہ ہوگیا تھا۔ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر دراندازی اور سیز فائر کی پاکستان کی جانب سے مسلسل خلاف ورزی ہوتی رہے۔ پلواما میں چالیس سے زیادہ آر پی ایف کے جوانوں کی شہادت نے ماحول کو انتہائی کشیدہ بنادیا۔ ہندوستان کے تحمل کی جب انتہا ہوگئی تو اس نے بالاکوٹ کا آپریشن کیا اور اس طور پر دہشت گردوں کو یہ واضح پیغام دیا گیا کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہندوستان اپنی سیکورٹی کے تعلق سے غفلت سے کام لے گا۔ ہندوستان بہرحال پاکستان سے دشمنی نہیں چاہتا کیوں کہ وہ تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات کو فروغ دینے کی مسلسل کوشش کرتا رہا ہےاور پاکستان کے سوا باقی تمام پڑوسیوں سے اس کے تعلقات بہتر ہی ہیں۔ بات وہاں بگڑ جاتی ہے جب پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے خلاف مخاصمانہ حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان، ہندوستان کے اندرونی معاملات میں بے وجہ کی مداخلت کرتا ہے اور باہمی معاملات کو اکثر بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس نے ہندوستان کے خلاف مسلسل منفی پروپگنڈہ کیا ہے اور کشمیر سے متعلق ہندوستان کے بعض فیصلوں کے سلسلے میں باقاعدہ نہ صرف سفارتی مہم شروع کی بلکہ چین کی مدد سے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں خالص باہمی معاملے کو بحث کا موضوع بنانے کی کوشش کی۔حالانکہ چین کو سبق مل گیا کہ ممبران کی اکثریت اس باہمی معاملے کو سیکورٹی کونسل میں اٹھائے جانے کے حق میں نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی چین اس طرح کی کوشش کرچکا ہے اور پہلے بھی اسے ناکامی ہوچکی ہے لہذا ہندوستان نے اس بار چین سے واضح لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ وہ اس طرح کی مہم جوئی سے باز رہے۔
جہاں تک شنگھائی تعاون تنظیم کی بات ہے تو وہ ایک الگ پلیٹ فارم ہے اور یہ ایک کثیر قومی ادارہ ہے۔ اس پر دو ملکوں کے باہمی رشتوں کی پرچھائیں نہیں پڑنی چاہیے۔ اس لیے ہندوستان چاہتا ہے کہ اس تنظیم کے ضابطوں کے تحت تمام کام ہوں اور اس سال چونکہ اسے میزبانی کے فرائض انجام دینے ہیں اس لیے وہ چاہتا ہے کہ ہند-پاک کشیدگی کا رتی برابر بھی منفی اثر اس کانفرنس پر نہ پڑے۔
یاد رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم چین کی قیادت میں قائم ہونے والا ایک اقتصادی اور سیکورٹی بلاک ہے جو 2001 میں قائم ہوا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کے مطابق پاکستان سمیت تمام ممبران کے سربراہان حکومت آبزرور اور بین الاقوامی ڈائیلاگ پارٹنرز کو تنظیم کے ضابطوں کے مطابق مدعو کیا جائے گا۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شاید عمران خاں اس میٹنگ میں شرکت نہ کریں بلکہ اپنے کسی سینئر وزیر کو بھیجیں۔ بہرحال اب یہ تو ان کی صوابدید پر ہے کہ وہ خود آتے ہیں یا پاکستان کی نمائندگی کرنے کوئی اور آتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات حالیہ تین چار برسوں میں کچھ زیادہ ہی خراب ہوئے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ دہشت گردی کے تعلق سے پاکستان کے منفی پالیسی رہی ہے۔ حالانکہ 2014 میں وزیراعظم نریندرمودی کے برسراقتدار آنے کے بعد ہندوستان کی طرف سے لگاتار اس بات کی کوشش ہوئی کہ ہند-پاک تعلقات میں سدھار آئے۔ وزیراعظم نے اپنی تقریب حلف برداری میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو مدعو کیا تھا۔ نواز شریف آئے بھی تھے،اس کے بعد کئی اہم واقعات ہوئے تھے جن کے تحت تعلقات میں بہتری آنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ وزیراعظم نریندرمودی بہ نفس نفیس بغیر کسی پروگرام کے لاہور گئے تھے جس کا مقصد جذبۂ خیرسگالی کو فروغ دینا تھا۔ دونوں ملکوں کے خارجہ سکریٹریوں کی ملاقات کا شیڈول بھی قریب قریب طے ہوگیا تھا لیکن وزیراعظم کے دورے کے ایک ہفتہ بعد ہی پٹھان کوٹ پر جیش محمد کے دہشت گردوں کا حملہ ہوگیا تھا۔ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر دراندازی اور سیز فائر کی پاکستان کی جانب سے مسلسل خلاف ورزی ہوتی رہے۔ پلواما میں چالیس سے زیادہ آر پی ایف کے جوانوں کی شہادت نے ماحول کو انتہائی کشیدہ بنادیا۔ ہندوستان کے تحمل کی جب انتہا ہوگئی تو اس نے بالاکوٹ کا آپریشن کیا اور اس طور پر دہشت گردوں کو یہ واضح پیغام دیا گیا کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہندوستان اپنی سیکورٹی کے تعلق سے غفلت سے کام لے گا۔ ہندوستان بہرحال پاکستان سے دشمنی نہیں چاہتا کیوں کہ وہ تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات کو فروغ دینے کی مسلسل کوشش کرتا رہا ہےاور پاکستان کے سوا باقی تمام پڑوسیوں سے اس کے تعلقات بہتر ہی ہیں۔ بات وہاں بگڑ جاتی ہے جب پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے خلاف مخاصمانہ حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان، ہندوستان کے اندرونی معاملات میں بے وجہ کی مداخلت کرتا ہے اور باہمی معاملات کو اکثر بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس نے ہندوستان کے خلاف مسلسل منفی پروپگنڈہ کیا ہے اور کشمیر سے متعلق ہندوستان کے بعض فیصلوں کے سلسلے میں باقاعدہ نہ صرف سفارتی مہم شروع کی بلکہ چین کی مدد سے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں خالص باہمی معاملے کو بحث کا موضوع بنانے کی کوشش کی۔حالانکہ چین کو سبق مل گیا کہ ممبران کی اکثریت اس باہمی معاملے کو سیکورٹی کونسل میں اٹھائے جانے کے حق میں نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی چین اس طرح کی کوشش کرچکا ہے اور پہلے بھی اسے ناکامی ہوچکی ہے لہذا ہندوستان نے اس بار چین سے واضح لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ وہ اس طرح کی مہم جوئی سے باز رہے۔
جہاں تک شنگھائی تعاون تنظیم کی بات ہے تو وہ ایک الگ پلیٹ فارم ہے اور یہ ایک کثیر قومی ادارہ ہے۔ اس پر دو ملکوں کے باہمی رشتوں کی پرچھائیں نہیں پڑنی چاہیے۔ اس لیے ہندوستان چاہتا ہے کہ اس تنظیم کے ضابطوں کے تحت تمام کام ہوں اور اس سال چونکہ اسے میزبانی کے فرائض انجام دینے ہیں اس لیے وہ چاہتا ہے کہ ہند-پاک کشیدگی کا رتی برابر بھی منفی اثر اس کانفرنس پر نہ پڑے۔
Comments
Post a Comment