جبراً تبدیلی مذہب غیر اسلامی:پاکستانی کونسل برائے اسلامی نظریہ کا فیصلہ

‘پاک کونسل آف اسلامک آئیڈیا لوجی’ نے اپنے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر ایک قرار داد میں جبراً تبدیلی مذہب کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں جبریہ تبدیلی مذہب کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس کے سبب پاکستان کو عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیونکہ تبدیلی مذہب کے بیشتر واقعات میں مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو نشانہ بننا پڑا ہے اس لیے پاکستان کی مذہبی اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احسا س پیدا ہوا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ہندو،سکھ اور عیسائی اقلیتوں کے ساتھ حکومتی ادارے بھی پر تفریق رویہ اختیار کرتے رہے ہیں جس سے شہ پاکر دہشت گرد اور مذہبی انتہا پسند عناصر اقلیت خواتین حتیٰ کہ نابالغ لڑکیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا جبراً مذہب تبدیل کراکے ان سے نکاح کرتے رہے ہیں۔اس سلسلے کا تازہ ترین واقع ایک سکھ لڑکی کے ساتھ ایک مسلمان کا جبریہ نکاح ہے۔اس کے سبب سکھوں میں ناراضگی ہے۔عیسائی اور ہندو لڑکیوں کے ساتھ اس طرح کے بے شمار واقعات ماضی قریب میں پیش آچکے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں انتہا پسند عناصر نے مذہب کے نام پر وہ تمام کام کیے ہیں اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ وہ تمام طرح کی زیادتیاں کی ہین جن کی اجازت اسلام قطعی نہیں دیتا۔اسلام نے عالم انسانیت کو مذہبی رواداری اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کے احترام کا جو سبق دیا اسے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔البتہ یہ بات باعث افسوس ضرور ہے کہ خود کو اسلامی ریاست بتانے والے پاکستان میں اسلامی اصولوں کو اسلام کا نام لیکر ہی پامال کیا جا رہا ہے اوراس طرح اسلام کی شبیہہ مسخ کرنے کی کوشش بھی نام نہاد مسلمانوں کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ان حالات میں ’پاک کونسل آف اسلامک آئیڈیا لوجی‘ کے ذریعہ جبراً تبدیلی مذہب کے تعلق سے حکومت کو دیا گیا مشورہ قابل تعریف ہے۔دراصل مذکورہ کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جس کا کام اسلامی ایشوز پر حکومت کو مشورہ دینا ہے۔اس اعتبار سے کونسل کا زیر بحث مشورہ کافی اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان اور قانون نافذ کرنے والی اس کی ایجنسیاں کونسل کے اس مشورے پر کس حد تک عمل کرتی ہیں۔اسلام جبر کا قائل نہیں ہے یہ بات تو دنیا جانتی اور مانتی ہے۔لیکن اس کے باوجود پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں اسلامی قوانین کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔اسی لیے اسلامک کونسل کے مشورے پر کس حد تک حکومت عمل کریگی یہ زیادہ اہم سوال ہے۔

پاکستان خود کو خواہ کتنا ہی اسلامی قوانین کا پابند بتاتا رہے لیکن ان قوانین کی جس طرح دھجیاں پاکستان میں اڑائی گئی ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے۔انتہا پسند مذہبی عناصر نے اسلامی قوانین کو اپنے مفاد میں استعمال کیا ہے اور شریعت کی تشریح میں بھی اپنے مفادات کا خیال رکھا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ خواہ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومتیں،سیاسی پارٹیاں ہو یا پھر پاکستانی فوج،ان سب نے اسلام کی شبیہہ مسخ ہونے سے بچانے کے لیے کوئی عملی قدم نہین اتھایا اور ایسے معاملات میں مذہبی انتہاپسندوں کی حمایت کی ہے۔فیڈرل حکومتوں سے لیکر پولیس تھانے حتیٰ کہ عدلیہ تک پر ان انتہا پسند عناصر کا اثر صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔حالانکہ گذشتہ جولائی میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بیان میں جبریہ تبدیلی مذہب کو قطعی غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے طاقت کے بل پر اقلیتی مذاہب کی لڑکیوں سے نکاح کرنے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور واضح طور پر کہا تھا کہ اسلامی معاشرے میں اس طرح کے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔

بہرحال اب اسلامک کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کونسل کی دو روزہ میٹنگ کے بعد پریس کے سامنے واضح طور پر کہا کہ جبریہ نکاح اور تبدیلی مذہب اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ پاکستانی آئین کے بھی خلاف ہے۔ہرچند کہ کونسل کا مذکورہ موقف بر وقت اور قابل تعریف ہے لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان کونسل کے اس قانونی،آئینی اور اسلامی مشورے پر کس حد تک عمل کر پائیگا۔اس سلسلے میں شکوک و شبہات کا بڑا سبب وہی ہے جس کی طرف پہلے اشارہ کیا گیا۔دراصل کسی بھی معاملے میں اصولی موقف کا بیان ایک بات ہے اور اس پر عمل دوسری بات۔پاکستان کا مسئلہ دراصل یہی ہے کہ اس کے حکمرانوں میں اسلامی قوانین کو عملی جامع پہنانے کے لیے ضروری قوت ارادی کا فقدان ہے۔اگر اپنے قیام سے آج تک پاکستان مین اسلامی قوانین پر واقعی عمل کیا گیا ہوتا تو یہاں کی مذہبی اور مسلکی اقلیتوں کے ساتھ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا اور پاکستان صحیح معنوں میں ایک سیکولر اسلامی اسٹیٹ ہوتا،لیکن ظاہر ہے ایسا نہیں ہے۔اسی لیے مذکورہ کونسل کے مشورے پر سوال اٹھنا بالکل جائز ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ