ہندوستان 5ٹریلین ڈالر کی معیشت  بننےکی راہ پر گامزن

ہندوستان نے مستقبل قریب میں پانچ ٹریلین ڈالر والی معیشت بننے کا ہدف طے کر رکھا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے دو باتیں نہایت ضروری ہیں۔پہلی یہ کہ اندرون ملک تجارت اور سرمایہ کاری کا ماحول اچھا ہونا چاہئے اور دوسری یہ کہ عالمی معیشت کے ساتھ ہمارے رابطے کافی مضبوط ہونے چاہئے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ہندوستان نے جی ایس ٹی یعنی گڈس اینڈ سروسز ٹیکس اور انسالونسی اینڈ بینکرپسی کوڈجیسے اقدامات کر کے اہم اصلاحات کی ہیں۔

تعمیری اور باہمی سود مند معاشی تعلقات کیلئے ہندوستان نے علاقائی تجارت کے دروازے کھولنے اور معاشی امور پر دوطرفہ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کچھ ملکوں کے ساتھ اس بارے میں مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ان ملکوں کے ساتھ بھی دوبارہ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان مذاکرات سے وہ تمام شک و شبہات دور ہو جاتے ہیں کہ ہندوستان ایسی حکمت عملی تیار کرے گاجو صرف اس کے حق میں ہوگی۔ علاقائی جامع معاشی پارٹنر شپ سے ہندوستان کے علیحدہ ہونے کے بعد اس طرح کے خیالات کا سامنے آنا فطری تھا۔ بات چیت کے اس پہل سے ثابت ہوجائے گا کہ ہندوستان مفاد پرست نہیں ہے۔

ابھی کچھ سال پہلے ہندوستان یوروپی یونین ، یوریشیئن اکونامک یونین آسٹریلیا، ماریشس، اسرائیل اور ایران جیسے ملکوں اور علاقائی گروپوں کے ساتھ آزاد تجارت سے متعلق معاہدوں پر بات چیت کر رہا تھا۔ نئی دہلی نے اب یوروپی یونین کے ساتھ دوبارہ بات چیت شروع کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے جو 2007 میں شروع ہوئی تھی ۔ یہ بات چیت شراب اور آٹو موبائل کی بازار تک رسائی کو لے کر تقریباًسات سال تک معطل رہی۔ یوروپی یونین ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے بارے میں معاہدے سے نگینہ، زیورات اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں کو کافی مدد مل سکتی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ یوروپی یونین ان مصنوعات پر ٹیکس میں کٹوتی چاہے گا ، جن کی برآمدات میں وہ کافی دلچسپی رکھتا ہے۔ ہندوستان برطانیہ کے یوروپی یونین سے نکلنے کے بعد اس سے بھی آزاد تجارت کے معاہدے کے بارے میں بات چیت کرنا چاہے گا۔

برطانیہ میں ہندوستانی شہریوں کی کافی تعداد ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے تاریخی تعلقات بھی ہیں۔ یہ دونوں باتیں اس سلسلہ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ برطانیہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کی گارنٹی بھی چاہے گا جس پر بات چیت ممکن ہے۔

اگرچہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے جیسے معاہدوں کے بارے میں بات چیت کبھی نہیں ہوئی تاہم اس کے ساتھ ایک تجارتی سودا جلد ہونے والا ہے۔ امید ہے کہ صدر ٹرمپ اس سال فروری کے اواخر میں ہندوستان کا دورہ کریں گے اور امید قوی ہے کہ اسی معاہدہ پر ان کے دورے کے دوران ہی دستخط کر دیئے جائیں گے۔

ہندوستان نے علاقائی جامع معاشی پارٹنر شپ سے خود کو اس لئے الگ کر لیا کیونکہ یہ محض دو طرفہ آزاد تجارتی معاہدہ بن کر رہ گیا تھا اور یہ ہندوستان کی داخلی صنعتوں کے مفاد میں بھی نہیں تھا۔ خدمات کے شعبہ میں ہندوستان کی رسائی کو محدود کیا جا رہا تھا جو یقیناً نئی دہلی کے مفاد میں نہیں تھا۔ ان تمام باتوں کے مد نظر ہندوستان نے اس پارٹنر شپ سے خود کو الگ کر لیا۔ لیکن اس فیصلہ کے فوراً بعد ہندوستان نےآسیان، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے مشرقی ایشیا کے اپنے پڑوسیوں سے بات چیت شروع کر دی ۔ اس کے علاوہ اس نے آسٹریلیا جیسے ملکوں کے ساتھ بھی دوبارہ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ جنوبی کوریا، جاپان اور آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کرنے کی ہماری شرح بہت اچھی نہیں ہے۔ تاہم ہمیں امید ہے کہ ان ملکوں کے ساتھ ہمارے بہتر تجارتی رشتے ہونگے۔ مطالعات اشارہ کرتے ہیں کہ آسٹریلیا ،انڈونیشیا اور اسرائیل جیسے ملکوں کے ساتھ معاشی معاملات پر بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔

امید ہے کہ ان ملکوں کے ساتھ بات چیت جلد شروع ہوگی۔ لیکن یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ ان ملکوں کے ساتھ مصنوعات ،خدمات اور سرمایہ کاری کے شعبوں پر تفصیلی بات چیت ضروری ہے۔ ہندوستان کی حکمت عملی ہے کہ کسی بھی معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے اس کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال اور مباحثہ ہوگا اور وہ اپنے حساس شعبوں کو نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔ اس طرح ہندوستان مستقبل قریب میں مختلف ملکوں اور گروپوں کےساتھ معاشی معاملات پر بات چیت کر کے معیشت کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کرے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ