پاکستان میں حقانی کی موجودگی سے انکار پرڈاکٹر اشرف غنی کا عمران خان پر طنز
کچھ لوگوں کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ وہ ہرحقیقت سے انکار کرنے کو اپنی کامیابی اور کامرانی کی کلید سمجھتے ہیں۔ حتی کہ وہ دن کے اجالے میں سورج کے وجود سے بھی انکار کرنے میں پس وپیش نہیں کرتے۔ پاکستان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان میں ایک ایسی ہی سوچ کو فروغ دیا ہے کہ جب کسی حقیقت کو پاکستان کے علم میں لایا جائے تو فورا اس کی تردید کردی جائے۔ سارے ثبوت، ساری شہادتیں اور عینی گواہ ایک طرف اور انکار یا تردید کی رٹ دوسری طرف !
اسٹیبلشمنٹ نے ایسا ماحول بنادیا ہے کہ فوجی قیادت کے ساتھ ساتھ سویلین حکمراں بھی وہی زبان بولتے ہیں اور اگر ایسے میں کوئی پھاوڑے کو پھاوڑا کہنے کے جرأت کرتا ہے تو اس کو منظر سے ہی غائب کرنے کے جتن کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ 2008 میں ممبئی پر لشکرطیبہ کے حملے میں ملوث ایک دہشت گرد اجمل قصاب جب زندہ پکڑا گیا اور یہ بات پوری دنیا میں پھیلی اور خود پاکستان کے لوگوں کو بھی اس بات کا یقین تھا کہ اجمل قصاب پاکستانی شہری تھا تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے تردید کی گئی یہاں تک کہ پاکستانی میڈیا نے چھان بین کرکے اجمل قصاب کے بارے میں تمام باتیں، خاندانی پس منظر اور اس کے گاؤں وغیرہ کے بارے میں پوری تفصیل تک پیش کردی تب بھی پاکستان کا انکار اقرار میں نہ بدلا۔ لیکن اتفاق سے اس وقت کے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے جب کھلم کھلا اس بات کا اعتراف کیا اور جرأت رندانہ کا ثبوت دیتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ ہاں وہ پاکستانی شہری ہے اور یہ کہ ممبئی پر پاکستان کے دہشت گردوں نے ہی حملہ کیا تھا تو فورا ان سے ان کا عہدہ چھین لیا گیا۔
افغانستان کی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں لمبے عرصے سے شکایت کررہی ہیں کہ پاکستان نے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پناہ گاہیں مہیا کی ہیں اور یہ لوگ پاکستان ہی سے افغانستان میں حملے کرنے کے منصوبہ بندی کرتے ہیں لیکن پاکستان مسلسل انکار کرتا رہا ہے۔ طالبان اور حقانی کے حملے اب بھی جاری ہیں۔ پاکستان کی پچھلی سویلین حکومت نے کم از کم گھریلو طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ پاکستانی فوج کی مدد اور سرپرستی سے پڑوسی ملکوں میں پاکستان سے دہشت گرد حملے کا پروگرام بناتے ہیں اور انہیں انجام بھی دیتے ہیں۔ لیکن پھر اس حکومت اور اس کے وزیراعظم کا کیا حشر ہوا۔ یہ سب کے علم میں ہے۔ اس وقت سویلین حکومت کی باگ ڈور عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ کھلم کھلا عوامی سطح پر بھی یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ اور فوج پورے طور پر ہم خیال ہیں اور پاکستان میں عام تاثر بھی یہی ہے۔ حتی کہ عالمی برادری بھی جانتی ہے کہ عمران خان کے دوراقتدار میں فوج بے روک ٹوک اپنے ایجنڈے پر عمل کررہی ہے۔ عمران خان کے حالیہ ایک بیان سے ان کی اور فوج کی ہم خیالی اور ہم مشربی پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک ایسی بات کہہ دی جسے سن کر سربراہ فوج جنرل باجوا اور آئی ایس آئی کے سربراہ اتنے خوش ہوئے ہوں گے کہ انہوں نے جو انداز بیان اختیار کیا تھا وہی پاکستان کے وزیراعظم کا بھی طرز بیان ہے۔ لیکن ان کا وہ بیان تھا کیا؟ دراصل انہوں نے یہ کہا کہ حقانی نیٹ ورک جس کا سارا کاروبار پاکستان ہی کی سرزمین سے چلتاہے، وہ پاکستان میں نہیں ہے اور نہ یہاں سے کسی طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ سبحان اللہ ایسا دعوی تو خود پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ فوج یہ ضرور کہتی ہے کہ وہ ایسے گروپوں کی مدد یا سرپرستی نہیں کرتی۔ لیکن عمران خان نے تو سیدھے اس بات ہی سے انکار کردیا کہ طالبان نیٹ ورک سے وابستہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پاکستان میں قائم ہیں۔ اس پرافغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ کوئی کہے کہ زمین سورج کے گرد نہیں گھومتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک عرصہ ہوا جب میری ان معاملات پر پاکستان سے بات چیت ہوئی تھی۔ ادھر سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ افغان حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔لیکن ابھی تک عملا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، البتہ بیانات بہت اچھے آتے ہیں۔ عمران خان اور ڈاکٹر اشرف غنی کے یہ بیانات ڈاؤس میں سننے میں آئے۔
نہ صرف ہندوستان اور افغانستان میں حملے کی پلاننگ پاکستان کی سرزمین سے دہشت گرد کرتے ہیں اور پھر جھٹلاتے ہیں۔ بلکہ عالمی برادری کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کا ایک وفد پچھلے دنوں چین بھی گیا تھا جہاں ایف اے ٹی ایف کے ورکنگ گروپ کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ایف اے ٹی ایف کی Plenary’s میٹنگ اپریل میں پیرس میں ہونے والی ہے۔ پاکستان بڑے پیمانے پر اس بات کی لابنگ کررہا ہے کہ چین اور امریکہ اس کی مدد کریں تاکہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو باہر نکالا جاسکے۔ چین سے تو پوری امید ہے کہ پاکستان کی مدد کرے گا، لیکن امریکہ کا کیا رویہ ہوگا، یہ ابھی تک معلوم نہ ہوسکا۔ ایک طرف پاکستان اس فکر میں ہے کہ اسے عالمی برادری پریشانی سے بچائے تاکہ اس کے اقتصادی حالات مزید خراب نہ ہونے پائیں لیکن دوسری طرف دہشت گردوں کی مدد اور ان کا بچاؤ کرنے سے بھی وہ باز نہیں آتا۔ عمران خان کا حقانی نیٹ ورک کے بارے میں تازہ بیان ریاکارانہ پالیسی کی بدترین مثال ہے۔ عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
اسٹیبلشمنٹ نے ایسا ماحول بنادیا ہے کہ فوجی قیادت کے ساتھ ساتھ سویلین حکمراں بھی وہی زبان بولتے ہیں اور اگر ایسے میں کوئی پھاوڑے کو پھاوڑا کہنے کے جرأت کرتا ہے تو اس کو منظر سے ہی غائب کرنے کے جتن کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ 2008 میں ممبئی پر لشکرطیبہ کے حملے میں ملوث ایک دہشت گرد اجمل قصاب جب زندہ پکڑا گیا اور یہ بات پوری دنیا میں پھیلی اور خود پاکستان کے لوگوں کو بھی اس بات کا یقین تھا کہ اجمل قصاب پاکستانی شہری تھا تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے تردید کی گئی یہاں تک کہ پاکستانی میڈیا نے چھان بین کرکے اجمل قصاب کے بارے میں تمام باتیں، خاندانی پس منظر اور اس کے گاؤں وغیرہ کے بارے میں پوری تفصیل تک پیش کردی تب بھی پاکستان کا انکار اقرار میں نہ بدلا۔ لیکن اتفاق سے اس وقت کے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے جب کھلم کھلا اس بات کا اعتراف کیا اور جرأت رندانہ کا ثبوت دیتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ ہاں وہ پاکستانی شہری ہے اور یہ کہ ممبئی پر پاکستان کے دہشت گردوں نے ہی حملہ کیا تھا تو فورا ان سے ان کا عہدہ چھین لیا گیا۔
افغانستان کی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں لمبے عرصے سے شکایت کررہی ہیں کہ پاکستان نے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پناہ گاہیں مہیا کی ہیں اور یہ لوگ پاکستان ہی سے افغانستان میں حملے کرنے کے منصوبہ بندی کرتے ہیں لیکن پاکستان مسلسل انکار کرتا رہا ہے۔ طالبان اور حقانی کے حملے اب بھی جاری ہیں۔ پاکستان کی پچھلی سویلین حکومت نے کم از کم گھریلو طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ پاکستانی فوج کی مدد اور سرپرستی سے پڑوسی ملکوں میں پاکستان سے دہشت گرد حملے کا پروگرام بناتے ہیں اور انہیں انجام بھی دیتے ہیں۔ لیکن پھر اس حکومت اور اس کے وزیراعظم کا کیا حشر ہوا۔ یہ سب کے علم میں ہے۔ اس وقت سویلین حکومت کی باگ ڈور عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ کھلم کھلا عوامی سطح پر بھی یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ اور فوج پورے طور پر ہم خیال ہیں اور پاکستان میں عام تاثر بھی یہی ہے۔ حتی کہ عالمی برادری بھی جانتی ہے کہ عمران خان کے دوراقتدار میں فوج بے روک ٹوک اپنے ایجنڈے پر عمل کررہی ہے۔ عمران خان کے حالیہ ایک بیان سے ان کی اور فوج کی ہم خیالی اور ہم مشربی پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک ایسی بات کہہ دی جسے سن کر سربراہ فوج جنرل باجوا اور آئی ایس آئی کے سربراہ اتنے خوش ہوئے ہوں گے کہ انہوں نے جو انداز بیان اختیار کیا تھا وہی پاکستان کے وزیراعظم کا بھی طرز بیان ہے۔ لیکن ان کا وہ بیان تھا کیا؟ دراصل انہوں نے یہ کہا کہ حقانی نیٹ ورک جس کا سارا کاروبار پاکستان ہی کی سرزمین سے چلتاہے، وہ پاکستان میں نہیں ہے اور نہ یہاں سے کسی طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ سبحان اللہ ایسا دعوی تو خود پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ فوج یہ ضرور کہتی ہے کہ وہ ایسے گروپوں کی مدد یا سرپرستی نہیں کرتی۔ لیکن عمران خان نے تو سیدھے اس بات ہی سے انکار کردیا کہ طالبان نیٹ ورک سے وابستہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پاکستان میں قائم ہیں۔ اس پرافغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ کوئی کہے کہ زمین سورج کے گرد نہیں گھومتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک عرصہ ہوا جب میری ان معاملات پر پاکستان سے بات چیت ہوئی تھی۔ ادھر سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ افغان حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔لیکن ابھی تک عملا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، البتہ بیانات بہت اچھے آتے ہیں۔ عمران خان اور ڈاکٹر اشرف غنی کے یہ بیانات ڈاؤس میں سننے میں آئے۔
نہ صرف ہندوستان اور افغانستان میں حملے کی پلاننگ پاکستان کی سرزمین سے دہشت گرد کرتے ہیں اور پھر جھٹلاتے ہیں۔ بلکہ عالمی برادری کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کا ایک وفد پچھلے دنوں چین بھی گیا تھا جہاں ایف اے ٹی ایف کے ورکنگ گروپ کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ایف اے ٹی ایف کی Plenary’s میٹنگ اپریل میں پیرس میں ہونے والی ہے۔ پاکستان بڑے پیمانے پر اس بات کی لابنگ کررہا ہے کہ چین اور امریکہ اس کی مدد کریں تاکہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو باہر نکالا جاسکے۔ چین سے تو پوری امید ہے کہ پاکستان کی مدد کرے گا، لیکن امریکہ کا کیا رویہ ہوگا، یہ ابھی تک معلوم نہ ہوسکا۔ ایک طرف پاکستان اس فکر میں ہے کہ اسے عالمی برادری پریشانی سے بچائے تاکہ اس کے اقتصادی حالات مزید خراب نہ ہونے پائیں لیکن دوسری طرف دہشت گردوں کی مدد اور ان کا بچاؤ کرنے سے بھی وہ باز نہیں آتا۔ عمران خان کا حقانی نیٹ ورک کے بارے میں تازہ بیان ریاکارانہ پالیسی کی بدترین مثال ہے۔ عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
Comments
Post a Comment