پاکستانی فوج کی تنقید کرنے کی قیمت؟

دہشت گردی کو فروغ دینے والی اور خوف ودہشت کی تجارت کرنے والی پاکستانی فوج اپنے آپ کو مطلق العنان ادارہ ہی نہیں بلکہ نعوذ باللہ قادرِ مطلق بھی سمجھتی ہے۔ وہ دنیا کا ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے ہم وطنوں کو قوم پرستی کا سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کرتا ہے اور اس کا یہ رویہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی وہاں کی سماجی زندگی کا حصہ رہا ہے۔ اس کے نزدیک وہاں کے وزرائے اعظم سے لے کر اہم سے اہم سیاسی، سماجی اور علمی شخصیتیں بھی پاکستان کے لئے سیکورٹی رسک رہی ہیں۔ اسی لئے وہ جسے چاہتی ہے اسے قوم پرستی کے سرٹیفکیٹ سے نواز دیتی ہے اور جسے چاہتی ہے اسے قوم دشمن، غداروطن اور دشمن کا ایجنٹ قرار دے کر گرفتار کرلیتی ہے۔ ماورائے عدالت سزا بھی دیتی ہے اور جبری طور پر اغوا بھی کرسکتی ہے۔ مخالفین کو اغوا کرکے انہیں غائب کرنا تو پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کا محبوب مشغلہ رہ گیا ہے۔ اس کی اس روش کا سب سے بڑا نشانہ آج کل پشتون نوجوان اور کارکن ہیں۔ کبھی اس کے نشانے پر بلوچ ہوتے ہیں اور کبھی کوئی اور!

گزشتہ کوئی دو سال سے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پشتون کارکن اور نوجوان زبردستی اغوا کئے جاتے ہیں، انہیں دہشت گردقرار دے کر ان کا انکاؤنٹر کیا جاتا ہے اور جھوٹے مقدمے قائم کرکے انہیں جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ ان قبائلی علاقوں میں ہی تحریک طالبان پاکستان جیسے خطرناک دہشت گردوں کا اڈہ تھا۔ جب پاکستانی فوج نے ان علاقوں میں تحریک طالبان کے خلاف نام نہاد آپریشن شروع کیا تواصل دہشت گرد تو زیادہ نشانہ نہ بنے البتہ عام نوجوانوں کو پریشان کیا گیا۔ چونکہ آپریشن کے درمیان ایک بڑی تعداد میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر ملک کے دوسرے شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے تھے اس لئے جن قبائلی لوگوں کو فوج اور ان کی ایجنسیاں اپنا مخالف سمجھتی تھیں، ان کو بھی چن چن کر نشانہ بنانے لگیں۔ ایسے کچھ پشتون باشندے کراچی میں بھی تھے۔ ان ہی میں ایک نوجوان وہ بھی تھا جو کراچی میں اپنا کرئیر بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسے پولیس نے گولی مار ر ہلاک کردیا ۔ اور بھی کئی واقعات اس نوعیت کے ہوئے لہٰذا اس پس منظر میں پشتون نوجوانوں نے اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ایک تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم کے نام سے قائم کی۔ تب سے اب تک یہ تنظیم فوج کی آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھ رہی ہے۔ نوجوانوں کو مختلف عنوانات سے اذیتیں دی جاتی ہیں۔ ان کے خلاف جھوٹے الزام میں مقدمہ قائم کرکے ان کے کرئیر کو برباد کیا جاتا ہے اور کسی کو جبراً اغوا کیا جاتا ہے۔ حالانکہ پشتون تحفظ موومنٹ پرامن اور جمہوری طرز پر اپنی تحریک چلا رہی ہے۔ اس کے ممبران کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس تنظیم کا سربراہ ایک 28سالہ نوجوان منظور پشتین ہےجس کا الزام ہے کہ بڑے پیمانے پر پشتون نسل کے لوگوں کے انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ میڈیا پر فوج کا اتنا دباؤ ہے کہ وہ پی ٹی ایم سے متعلق کسی طرح کی رپورٹنگ نہیں کرتا۔ انسانی حقوق کی پامالی اتنی بے دردی سے ہو رہی ہے کہ پشتونوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ یاد ر ہے کہ منظور جنوبی وزیرستان کا باشندہ ہے اور اب یہ قبائلی علاقے صوبۂ خیبر پختونخوا میں ضم کر دئیے گئے ہیں۔

چندروز قبل ہی پشتین کو 9دیگر کارکنوں کے ساتھ پشاور میں پی ٹی ایم کے دفتر سے گرفتار کیا گیا۔ اس وقت وہ زیر حراست ہے۔اس کے خلاف ڈیرا اسمٰعیل خان میں غداری، نفرت آمیز تقریر کرنے اور قیام پاکستان کی مذمت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ عام طور سے فوج کی طرف سے مخالفین کے خلاف اسی طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ پشتون عوام میں اس کا شدید رد عمل ہوا ہے۔ اسلام آباد پریس کلب کے باہر زبردست مظاہرہ ہوا اور منظورپشتین اور اس کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ عام تاثر یہ ہے کہ فوج اس بات کی تیاری ایک عرصہ سے کر رہی تھی کہ پی ٹی ایم کے کلیدی رہنماؤں کو سنگین الزامات عائد کرکے انہیں پھنسایا جائے حالانکہ یہ گروپ صرف انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کرتا ہے اور پرامن تحریک چلاتا ہے۔ کبھی پی ٹی ایم کے کارکنوں نے اپنے احتجاجی مظاہروں میں کسی طرح کے تشدد کا سہارا نہیں لیا ۔ گرفتاری کے خلاف اسلام آباد میں جو مظاہرہ ہوا اس میں پی ٹی ایم کے ممتاز لیڈرمحسن داوراور علی وزیر بھی شامل تھے جو پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں۔ ان دونوں لیڈروں کو بھی پریس کلب کے باہر گرفتار کرلیا گیا۔ محسن داورکا کہنا ہے کہ منظور پشتین کو صرف اس لئے سزا دی جارہی ہے کہ وہ پشتوتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے اور پاکستانی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ افغانستان میں بھی پی ٹی ایم کے رہنماؤں کی گرفتاری کی مذمت کی گئی ہے۔ وہاں کی پشتون آبادی نے سخت احتجاج کیا ہے ۔ صدر اشرف غنی نے اس واقعہ پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا کہ منظور پشتین کی تنظیم صرف پرامن طور پر احتجاج کرتی ہے۔ اس کے خلاف لگائے الزامات غلط ہیں ۔ ان کے اس بیان کا پاکستان کی وزارت خارجہ نے سخت نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملے میں مداخلت کر رہے ہیں۔ پاکستان کے ریاکارانہ سفارت کی یہ بھونڈی مثال دیکھئے کہ ہندوستان کے اندرونی معاملات کے بارے میں جس ملک کے حکمران اور سفارت کار پوری دنیا میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے ہیں اس کے بارے میں کبھی یہ بات محسوس نہیں کرتے کہ یہ ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے لیکن افغان صدر پر مداخلت کا الزام لگانے میں انہوں نے قطعی تاخیر نہیں کی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ