طالبان کی طرف سے مختصر جنگ بندی کی پیشکش

امریکہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کی مکمل واپسی سے پہلے وہاں کی حکومت اور طالبان باغیوں کے درمیان مفاہمت کے لیے جو مذاکراتی عمل پچھلے سال سے جاری رکھے ہوئے ہے اسے ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ لیکن حال ہی میں طالبان گروپوں نے عارضی جنگ بندی کی جو پیشکش امریکہ کے سامنے رکھی ہے اس سے تھوڑی سی یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید امن کے ماحول میں آپس کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں اور سبھی فریقوں میں مذاکرات کے نکات پر اتفاق رائے کی کوئی صورت نکل آئے۔

افغانستان میں اس وقت امریکہ کے تقریباً 13 ہزار فوجی موجود ہیں۔جنگ اور غارت گری کے مارے ہوئے اِس ملک میں امریکہ کی فوجی موجودگی اور طالبان باغیوں کے خلاف اس کی فوجی کارروائیوں کو 18سال ہو چکے ہیں۔ اتنی لمبی جنگ امریکہ نے آج تک کہیں نہیں لڑی ہے۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ ملک میں یوں تو ایک منتخبہ حکومت موجود ہے لیکن تقریباً آدھے افغانستان پر عملاً طالبان کا ہی قبضہ ہے۔طالبانی جنگجو تقریباً روزانہ ہی امریکہ کے فوجی ٹھکانوں اور کابل حکومت کی تنصیبات وغیرہ پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں امریکہ اور طالبان ایک سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے اور اس پر دستخط ہونے کے آثاربھی دکھائی دینے لگے تھے مگر اسی وقت طالبان کی جنگی کارروائیوں میں تیزی آگئی اور اُن میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت نے حالات کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس واقعے کے بعد امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا سلسلہ روک دیا۔ سال کے آخری دنوں میں صدر ٹرمپ نے امریکی فوجیوں سے ملاقات کے لیے پہلا افغانستانی دورہ کیاتو ان کے رویّے میں کسی قدر نرمی آئی اور انھوں نے کہا کہ طالبان معاہدے کے لیے تیار ہیں لیکن کابل اور واشنگٹن دونوں نے اس پر زور دیا کہ طالبان خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حملوں میں قابلِ قدر کمی لائیں۔ اس کے بعد طالبان لیڈرشپ پاکستان میں اپنے ہیڈ کوارٹرز پر چند ہفتوں کی بات چیت کے بعد ایک عارضی جنگ بندی کے لیے تیّار ہوگئی۔ حال ہی میں طالبان اہلکاروں نے قطر جاکرسات سے دس دن تک کے لیے عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکہ کے مذاکرات کار زَلمے خلیل زادکے حوالے کردی۔

امریکہ نے ابھی اس پیشکش پر کوئی ردعمل ظاہرنہیں کیا ہے لیکن محسوس کیا جا رہا ہے کہ ان حالات میں جب کہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آرہی ہے عارضی جنگ بندی کی یہ پیش کش نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے۔ امریکہ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ امن معاہدے کے بعد مستقبل کے افغانستان میں مذہب کے نام پر طالبان کی اُس قسم کی وحشی حکومت نہیں دیکھنا چاہتا جس میں تمام انسانی حقوق کی دھجّیا ں اڑا دی جاتی تھیں اور جو18سال قبل امریکی مداخلت سے پہلے افغانستان میں قائم تھی۔ زلمے خلیل زاد پہلے بھی جنگ بندی پر زور دیتے رہے ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔ انھوں نے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ جو بھی معاہدہ ہوگا اس میں یہ شرط شامل ہوگی کہ مستقبل کا لائحۂ عمل طے کرنے کے لیے افغان فریقوں کو مستقل جنگ بندی، خواتین اور اقلّیتوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے آپس میں ہی مسئلوں کو حل کرنا ہوگا۔


افغانستان میں خوں ریزی اتنے عرصے سے جاری ہے کہ عالمی برادری بھی عاجز آچکی ہے۔ ملک کی اقتصادیات تقریباً تباہ ہوچکی ہے۔ عوامی فلاح اور ترقی کا کوئی کام ملک میں نہیں ہورہاہے۔ لوگوں کی ہلاکتوں کہ سلسلہ ایک معمول بن گیاہے۔پائیدار امن کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ ملک کا مشرقی ہمسایہ تمام تر دعووں کے باوجودپائیدار امن کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں ڈالنے کی عادت سے اب تک باز نہیں آیا ہے۔ ایسے حالات میں عارضی جنگ بندی کی طالبانی پیشکش افغانستان میں اگرمستقل امن کے راستے کا تھوڑا سا اندھیرا بھی دور کرسکے تو یہ ایک بڑی بات ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ