ہندوستان، اسرائیل اور فلسطین کے مابین براہ راست بات چیت کے حق میں
ہندوستان خارجہ پالیسی کے معاملے میں ایک واضح موقف کا حامل رہا ہے اور اس کا ہمیشہ ہی سے یہ کہنا رہا ہے کہ منصفانہ عالمی نظام کے قیام کی بنیادی شرط یہ ہونی چاہیے کہ عدم مداخلت، انصاف پسندی اور غیر جانبداری کے اصولوں کو پیش نظر رکھا جائے۔ ہندوستان اس پالیسی پر اس وقت بھی قائم رہا جب دنیا دو بڑے بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی اور سرد جنگ کے سائے بیشتر بین الاقوامی معاملات پر نظر آتے تھے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی جب کہ عالمی سیاست میں نئی صف بندیاں ہونے لگیں اور اقتصادی منظرنامے نے نئی شکل اختیارکرنا شروع کی۔ ہندوستان اپنی ڈگر پر ثابت قدمی سے قائم رہا۔ اس کا بدلتے حالات کے تناظر میں بھی کثیرقومی منصفانہ نظام کا نظریہ بین الاقامی برادری میں احترام کی نظر سے دیکھا گیا۔
فلسطین اور اسرائیل کا معاملہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان دونوں فریقوں کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آرہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یہ تنازع ابھی تک حل طلب ہے۔اس کے تعلق سے اب تک کوئی ایسا حل سامنے آتا دکھائی نہیں دے رہا ہے جس پر دونوں فریق متفق ہوں۔ لہذا ایسا کوئی قابل قبول حل کا خاکہ پیش کیا جانا چاہیے جو اگر پورے طور پر دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول نہ بھی ہو تو بھی صورت حال کچھ ایسی ہو جو بات چیت کے ذریعے دونوں خود ہی سلجھا سکیں۔ لیکن اگر ایسا کوئی نقشہ پیش کیا جائے جس میں ایک فریق کے مؤقف کو بالکل ہی نظر انداز کردیا جائے اور دوسرے کی بیشتر باتیں مان لی جائیں تو وہ تنازع کا باعث بن جاتا ہے۔ سمجھوتہ کی میز پر کسی مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لیے تھوڑی سی لچک بھی ضروری ہوتی ہے اور کچھ لو اور کچھ دو کا اصول بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جو امن کا منصوبہ پیش کیا ہے وہ بادی النظر میں بھی دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول نہیں لگتا۔ 2017 میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرلیا تھا اور اسی وقت فلسطینیوں کو اس بات پر شدیداعتراض تھا۔ ٹرمپ کے منصوبہ میں دو ریاستوں کے قیام کی بات تو شامل ہے لیکن دیگر متعدد باتیں ایسی ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل کا پلہ ہراعتبار سے بھاری ہے۔ نہ صرف یہ کہ یروشلم بلاشرکت غیرے اسرائیل کی راجدھانی ہوگا اور دوسری طرف اس کے باہر بیرونی مشرقی علاقے میں فلسطین اپنی راجدھانی قائم کرسکتا ہے۔ اس طرح غزہ پٹی اور ویسٹ بینک کے علاقوں میں بھی فلسطینیوں کے مؤقف کو نظر انداز کرکے اسرائیل کا مؤقف حاوی ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل، وادیٔ اردن اور ویسٹ بینک کے اس حصہ پر جس پر اس نے یہودی آبادی کو بسایا ہے اپنی ریاست میں شامل کرے گا۔ غرضیکہ مجموعی طور پر یہ منصوبہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ فلسطینیوں کو صرف ریاعیتیں دینے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔ خود اسے رعایت دینے میں پس وپیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات تو فلسطین کا کوئی بھی لیڈرقبول نہیں کرسکتا، یہ توبین الاقوامی قوانین کے تحت بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ فلسطینی رفیوجیوں کی واپسی کا بھی سوال نہیں اٹھاسکتے۔ مختصرا یہ کہ دہائیوں سے فلسطینی باشندے جن باتوں کو مطالبہ کرتے آئے ہیں ان میں سے بیشتر اس منصوبے میں نظر انداز ہوتی نظر آرہی ہیں۔
ہندوستان کے اسرائیل اور فلسطین دونوں سے بہتر تعلقات ہیں، جیسا کہ پہلے کہاگیا کہ ہندوستان منصفانہ حل کا قائل ہے۔ لہذا اس کا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اس تنازع کا منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے دونوں فریق براہ راست آپس میں بات چیت کریں اور یہ امکان تلاش کریں کہ ان کے اس علاقائی تنازع کا قابل قبول حل کیا ہوسکتا ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ مشورہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ منگل کو صدر ٹرمپ نے اس علاقائی تنازع کے حل کا نیا منصوبہ پیش کیا تھا۔ فلسطین کی طرف سے فی الفوریہ منصوبہ مسترد کردیا گیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کے مطابق دونوں فریقوں کے سامنے ہماری یہ تجویز ہے کہ وہ خود آپس میں مل بیٹھیں اور منصوبہ کا جو خاکہ صدر ٹرمپ نے تجویز کیا ہے اسے بھی سامنے رکھیں اور خود ہی یہ تلاش کریں کہ دونوں کے لیے قابل قبول بات کیا ہوسکتی ہے۔
ویسے ہندوستان ہمیشہ ہی فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اس کا یہ بھی خیال ہے کہ دونوں ریاستوں کے قیام کو اگر فریقین آپسی بات چیت کے ذریعہ طے کرلیں تو یہ علاقے میں پائیدارامن کے قیام کی ضمانت بن سکتا ہے۔
ہندوستان اپنے اسی مؤقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ طرفین اس مخلصانہ مشورہ پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ امید یہ بھی ہے کہ عالمی برادری بھی اس معاملے میں دلچسپی لے گی تاکہ جلد ازجلد کوئی منصفانہ حل سامنے آئے اور دونوں ریاستوں کے قیام کے بعد مغربی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو۔
فلسطین اور اسرائیل کا معاملہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان دونوں فریقوں کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آرہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یہ تنازع ابھی تک حل طلب ہے۔اس کے تعلق سے اب تک کوئی ایسا حل سامنے آتا دکھائی نہیں دے رہا ہے جس پر دونوں فریق متفق ہوں۔ لہذا ایسا کوئی قابل قبول حل کا خاکہ پیش کیا جانا چاہیے جو اگر پورے طور پر دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول نہ بھی ہو تو بھی صورت حال کچھ ایسی ہو جو بات چیت کے ذریعے دونوں خود ہی سلجھا سکیں۔ لیکن اگر ایسا کوئی نقشہ پیش کیا جائے جس میں ایک فریق کے مؤقف کو بالکل ہی نظر انداز کردیا جائے اور دوسرے کی بیشتر باتیں مان لی جائیں تو وہ تنازع کا باعث بن جاتا ہے۔ سمجھوتہ کی میز پر کسی مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لیے تھوڑی سی لچک بھی ضروری ہوتی ہے اور کچھ لو اور کچھ دو کا اصول بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جو امن کا منصوبہ پیش کیا ہے وہ بادی النظر میں بھی دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول نہیں لگتا۔ 2017 میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرلیا تھا اور اسی وقت فلسطینیوں کو اس بات پر شدیداعتراض تھا۔ ٹرمپ کے منصوبہ میں دو ریاستوں کے قیام کی بات تو شامل ہے لیکن دیگر متعدد باتیں ایسی ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل کا پلہ ہراعتبار سے بھاری ہے۔ نہ صرف یہ کہ یروشلم بلاشرکت غیرے اسرائیل کی راجدھانی ہوگا اور دوسری طرف اس کے باہر بیرونی مشرقی علاقے میں فلسطین اپنی راجدھانی قائم کرسکتا ہے۔ اس طرح غزہ پٹی اور ویسٹ بینک کے علاقوں میں بھی فلسطینیوں کے مؤقف کو نظر انداز کرکے اسرائیل کا مؤقف حاوی ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل، وادیٔ اردن اور ویسٹ بینک کے اس حصہ پر جس پر اس نے یہودی آبادی کو بسایا ہے اپنی ریاست میں شامل کرے گا۔ غرضیکہ مجموعی طور پر یہ منصوبہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ فلسطینیوں کو صرف ریاعیتیں دینے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔ خود اسے رعایت دینے میں پس وپیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات تو فلسطین کا کوئی بھی لیڈرقبول نہیں کرسکتا، یہ توبین الاقوامی قوانین کے تحت بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ فلسطینی رفیوجیوں کی واپسی کا بھی سوال نہیں اٹھاسکتے۔ مختصرا یہ کہ دہائیوں سے فلسطینی باشندے جن باتوں کو مطالبہ کرتے آئے ہیں ان میں سے بیشتر اس منصوبے میں نظر انداز ہوتی نظر آرہی ہیں۔
ہندوستان کے اسرائیل اور فلسطین دونوں سے بہتر تعلقات ہیں، جیسا کہ پہلے کہاگیا کہ ہندوستان منصفانہ حل کا قائل ہے۔ لہذا اس کا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اس تنازع کا منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے دونوں فریق براہ راست آپس میں بات چیت کریں اور یہ امکان تلاش کریں کہ ان کے اس علاقائی تنازع کا قابل قبول حل کیا ہوسکتا ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ مشورہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ منگل کو صدر ٹرمپ نے اس علاقائی تنازع کے حل کا نیا منصوبہ پیش کیا تھا۔ فلسطین کی طرف سے فی الفوریہ منصوبہ مسترد کردیا گیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کے مطابق دونوں فریقوں کے سامنے ہماری یہ تجویز ہے کہ وہ خود آپس میں مل بیٹھیں اور منصوبہ کا جو خاکہ صدر ٹرمپ نے تجویز کیا ہے اسے بھی سامنے رکھیں اور خود ہی یہ تلاش کریں کہ دونوں کے لیے قابل قبول بات کیا ہوسکتی ہے۔
ویسے ہندوستان ہمیشہ ہی فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اس کا یہ بھی خیال ہے کہ دونوں ریاستوں کے قیام کو اگر فریقین آپسی بات چیت کے ذریعہ طے کرلیں تو یہ علاقے میں پائیدارامن کے قیام کی ضمانت بن سکتا ہے۔
ہندوستان اپنے اسی مؤقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ طرفین اس مخلصانہ مشورہ پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ امید یہ بھی ہے کہ عالمی برادری بھی اس معاملے میں دلچسپی لے گی تاکہ جلد ازجلد کوئی منصفانہ حل سامنے آئے اور دونوں ریاستوں کے قیام کے بعد مغربی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو۔
Comments
Post a Comment