ہندوستان نے جی سیٹ۔30کو خلا میں کامیابی کے ساتھ کیا روانہ

ہندوستان نے 17جنوری کو اپنا 41؍واں مواصلاتی سیارچہ جی سیٹ۔30 کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا۔ 14سال پرانے انسیٹ۔4؍اےکی مدت کار جلد ہی ختم ہو رہی ہے۔ جی سیٹ۔30کو اس لئے خلا میں بھیجا گیا ہے تاکہ انسیٹ۔4اےکی مدت کار ختم ہونے کے بعد مواصلاتی خدمات میں کوئی رخنہ نہ پڑے۔ ہندوستانی کیبل آپریٹرز اپنے پروگرام بیرون ملک نشر کرنے کے لئے اس وقت انسیٹ ۔4؍اے کا استعمال کر رہے ہیں۔ جی سیٹ۔30سے یہ خدمات مزید 15سال تک حاصل کی جاسکیں گی۔

جی سیٹ۔30مواصلاتی سیارچہ کو فرنچ گویانامیں گویانا خلائی مرکز سے ایریانے اسپیس کے ایریانے۔5 راکٹ کے ذریعہ خلا میں چھوڑا گیا۔ جی سیٹ۔30ہندوستان کا 24؍ واں سیارچہ ہے جسے اس خلائی مرکز سے چھوڑا گیا، جس نے 1981میں ہندوستان کا پہلا مواصلاتی سیارچہ ایپل خلا میں چھوڑا تھا۔ تازہ ترین پرواز میں ایریانے۔5 اپنے ہمراہ نئی نسل کا سیارچہ ایوٹل سیٹ کنکٹ لے گیا ہے جو تمام یوروپ اور افریقہ میں ٹیلی مواصلات خدمات فراہم کرے گا۔

جی سیٹ۔30ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم کا ایک طاقتور مواصلاتی سیارچہ ہے جس کی مدت کار 15سال کی ہوگی۔ یہ سیارچہ انسیٹ۔4؍ اے کی جگہ لے گا جس کی مدت کار جلد ہی ختم ہونے والی ہے۔ اس سیارچہ میں 12سی اور 12کے یوبینڈ ٹرانسپانڈر لگے ہوئے ہیں، جن سے ٹیلی ویژن نشریات اور ڈی۔ٹی۔ایچ خدمات کافی بہتر ہوجائیں گی۔ کے یو بینڈ ٹرانسپانڈرس اندرون ملک کوریج فراہم کرے گا جبکہ 12۔سی بینڈ نہ صرف دو طرفہ مواصلات کی سہولت فراہم کرے گا بلکہ اس سے ٹیلی ویژن براڈ کاسٹرس اپنے پروگرام نہ صرف ہندوستان بلکہ خلیج کے ممالک، دوسرے ایشیائی ملکوں اور آسٹریلیا میں نشر کرسکیں گے۔ اسرو کے مطابق سیارچہ کی پے لوڈ ڈیزائن کو بہتر بنایا گیا ہے تاکہ اس پر زیادہ سے زیادہ ٹرانسپانڈر لگائے جاسکیں۔ زیادہ سے زیادہ ٹرانسپانڈر لگانے سے ہندوستانی براڈ کاسٹرز کو مشرق وسطیٰ، آسٹریلیا اور ایشیا کے دوسرے حصوں میں اپنے پروگرام بہتر طور پر نشر کرنے میں مدد ملے گی۔

ہندوستانی خلائی ایجنسی، اسرو کے مطابق یہ سیارچہ موجودہ وی سیٹ نیٹ ورک، ٹیلی ویژن اَپ لنکنگ اور ٹیلی پورٹ خدمات، ڈی ٹی ایچ ٹیلی ویژن سروسز اور سیارچہ پر مبنی بہت سی اپلیکیشنز کی خدمات میں تسلسل بنائے رکھے گا۔ اس کے علاوہ اس سے خبریں حاصل کرنے کے لئے ڈیجیٹل نظام کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس نظام کے ذریعہ ہی رپورٹرس اپنے ادارے کے لئے نہ صرف ہندوستان کے دور دراز علاقوں بلکہ تمام دنیا سے خبریں بھیجتے ہیں۔ اسرو کے مطابق جی سیٹ۔30سیارچہ کو بنانے میں جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ یہ 2030کی دہائی میں بھی کام کرسکے۔ خلائی گاڑی کی تیاری میں تیزی لانے کے لئے اسرو حالیہ برسوں میں درمیانہ درجہ کی صنعتوں کو مدد لیتا رہا ہے تاکہ بھاری بھرکم لانچ وہیکل کی دیکھ بھال بخوبی کی جاسکے۔ جی سیٹ۔30کو الفا ڈیزائن ٹکنالوجیز لمیٹڈ کی قیادت میں صنعتوں کے ایک گروپ نے بنگلور میں اسرو کے سیٹلائٹ انٹیگریشن اینڈ ٹسٹ اسٹیبلشمنٹ میں تیار کیا۔

اسرو کا جی سیٹ۔30کو غیر ملکی راکٹوں کے ذریعہ لانچ کرنے کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خلائی ایجنسی سیارچہ پر مبنی مواصلات کو بغیر کسی رکاوٹ کے لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہے جو اس کی معتربیت کو برقرا رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔

اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر کے سیوان کے مطابق ان کی تنظیم مستقبل میں بھی سیارچوں کے لانچ کے لئے راکٹوں کی تیاری میں دوسری کمپنیوں کی خدمات حاصل کرتی رہے گی۔ ہندوستان ایرونا ٹکس لمیٹڈاورلارنسن اینڈ ٹوبرو کمپنیوں کے ایک ایسے گروپ کی قیادت کریں گی جو پولر سٹیلائٹ لانچ وہیکل تیار کرے گا جس پر اسرو بہت دنوں سے کام کر رہا ہے۔ کمپنیوں کا یہ گروپ جیواسٹیشنری لانچ وہیکل کے طرز کے بھاری راکٹ بھی تیار کرے گا۔ اسرو کا کہنا ہے کہ حکومت نے گگن یان سمیت مختلف پروگراموں کے لئے 300ارب روپے منظور کئے ہیں۔ ان میں سے 80فیصد نجی شعبہ کوجائے گا۔

اسرو اب ہندوستان کی سرزمین سے پہلے ہندوستانیوں کو خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرو کا 2022میں ملک کے 75ویں یوم آزادی سے قبل ہندوستانی شہریوں کو زمین کے قریبی مدار میں بھیجنے کا پروگرام ہے۔ اسرو کی حصولیابیوں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس مشن میں بھی ضرور کامیاب ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ