دہشت گردی کے تئیں عمران حکومت کا ریاکارانہ رویہ
عمران خان جو اقتدار میں آنے سے پہلے نئے پاکستان کے قیام کی باتیں کیا کرتے تھے اور بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا نعرہ لگایا کرتے تھے۔وہ اپنے، اب تک کے تقریباً ڈیڑھ سال کے دورِ اقتدار میں سب سے ناکام وزیراعظم ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خواہ وہ بدعنوانی سے لڑنے کی بات ہو، پاکستان کی بین الاقوامی برادری میں امیج بحال کرنے کی بات ہو یا اقتصادی بحران سے نکالنے کا نعرہ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ صرف نعرے گڑھنے کے فن کے ماہر ہیں۔ پاکستان کے اخبارات، جو تقریباً سنسرشپ کے دور سے گزر رہے ہیں۔ وہ بھی ان کے دور اقتدار کی ناکامیوں کا ذکر کرنے سے گریز نہیں کرپاتے۔ ابھی حال میں انہوں نے داووس میں عالمی برادری کے سامنے اقتصادی بحران کی اصل وجہ یہ بتائی کہ ان سے قبل حکومت بنانے والی دوسری سیاسی پارٹیاں کرپشن میں ڈوبی رہتی تھیں اور فوج سے ان کے اکثر اختلافات رہتے تھے اس لئے پاکستان اقتصادی بدحالی کا شکار رہتا تھا۔ اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب چونکہ ان کی حکومت اور فوج بالکل ہم خیال ہیں اس لئے پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کی کوششیں کامیاب ثابت ہوں گی۔ پاکستان کے اخبارات نے اس بیان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ شاید عالمی برادری نے بھی ان کے دعووں کا مذاق اڑایا ہوگا کیونکہ اپنے ملک کی اپوزیشن پارٹیوں کو موقع بہ موقع کوسنا ان کا جنون بن گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اقتصادی محاذ پر خود ان کی ناکامی پاکستان کو سب سے بڑے بحران کی طرف لے جارہی ہے۔
دوسرے محاذوں پر بھی ان کی ناکامی اور ریاکاری کی ایسی ہی مثالیں سامنے آرہی ہیں۔ مثلاً دہشت گردوں سے نمٹنے کے معاملے میں ان کی حکومت ریاکاری کی ایک ایسی مثال بنتی جارہی ہے جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ فوج کے دباؤ یا اشارے پر کر رہے ہیں۔ یہاں ایک مثال سے یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی۔ تحریک لبیک پاکستان ایک قانون شکن اور دہشت گرد گروپ ہے جو آئے دن حکومت کو بلیک میل کرتا رہتا ہے۔ عمران خان کے دور اقتدار میں ہی گزشتہ سال جب عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے بے قصور پاتے ہوئے موت کی سزا سے بری کردیا تھا تو تحریک لبیک نے پرتشدد احتجاج کیا تھا۔ حتیٰ کہ عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی مارنے کی دھمکی دی تھی اور فوجی افسران اور جوانوں کو آرمی چیف کے خلاف بغاوت کرنے کے لئے اکسایا تھا تو اس کی تمام دہشت پسندی اور دھمکیوں کو حکومت اور فوج نے مل کر کچل دیا تھا۔ مظاہرین میں سے کچھ کو حال ہی میں 55 سال کی قید بامشقت کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔
اب اس رویہ اور موجودہ رویہ کو دیکھتے ہوئے تو ریاکاری پورے طور پر بے نقاب ہوجاتی ہے۔ ایک فلم ساز سرمدکھوسٹ نے گزشتہ سال سماجی رویوں پر ایک فلم بنائی تھی جسے بین الاقوامی فلم فیئر منعقدہ بوسن میں ایوارڈ ملا تھا۔ وہ پاکستان کی پہلی فلم تھی جسے بین الاقوامی ایوارڈ ملا تھا۔ اس فلم میں پاکستانی سماج کی حقیقتوں کو اجاگر کیا گیا تھا اور فلم کو پاکستان کے فلم سنسر شپ کے تمام اداروں نے ہری جھنڈی دکھائی تھی۔ لیکن اس فلم کی ریلیز پر پابندی لگ گئی۔ وجہ صرف یہ ہے کہ تحریک لبیک نے زبردستی اس فلم کو ‘‘غیر اسلامی’’ قرار دے دیا تھا، جبکہ اس میں دور تک ایسی کوئی بات نہیں جس سے کسی کے جذبات مجروح ہوسکیں لیکن حکومت نے فلم ساز کو یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ ابھی اس فلم کو ریلیز نہ کریں۔ اس پر پاکستان کے لوگ کافی خفا ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت نے فوج کے دباؤ میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ یاد رہے کہ اس فلم کو صرف تحریک لبیک نے قابل اعتراض بتایا ہے۔ عام لوگوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا ہے بلکہ وہ اس فلم ‘‘ زندگی تماشہ’’ کو دیکھنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ اب یہ کھلی ہوئی ریاکاری اور دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی بدترین مثال نہیں تو اور کیا ہے۔ جب ضرورت پڑی تو آپ نے اس گروپ کو دبا دیا کیونکہ خود آپ اس کا نشانہ بن رہے تھے اور اب اسی گروپ کے منہ بھرائی صرف اس لئے ہو رہی ہے کہ بوقت ضرورت اسے اپنے حق میں استعمال کیا جائے۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ 2017 میں جب ایک معاملے میں اسی تحریک لبیک نے قانون شکنی اور دہشت گردی پھیلائی تھی اور اسلام آباد میں دھرنا کرکے ٹریفک جام کیا تھا تو اس وقت کی مسلم لیگ (نواز) حکومت کے وزیراعظم خاقان عباسی کو آرمی چیف جنرل باجوا نے مجبور کیا تھا کہ وہ تحریک لبیک کے سارے مطالبات کو تسلیم کریں جن میں اس وقت کے وزیر قانون کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ بالآخر اس گروپ کے سارے مطالبات مان لئے گئے تھے۔ صرف یہی نہیں کہ فوج اور ایجنسیوں نے مظاہرین اور قانون شکنی کرنے والوں کی زبردست حوصلہ افزائی کی تھی بلکہ ان میں پیسے بھی تقسیم کئے تھے تاکہ وہ اس وقت کی حکومت کے لئے پریشانیاں کھڑی کریں۔ بیشتر پاکستانی اخباروں نے لکھا ہے کہ فوج اس گروپ کی اس لئے منہ بھرائی کرنا چاہتی ہے کہ وہ اسے بوقت ضرورت استعمال کرسکے جیسا کہ وہ کرتی رہی ہے۔
دوسرے محاذوں پر بھی ان کی ناکامی اور ریاکاری کی ایسی ہی مثالیں سامنے آرہی ہیں۔ مثلاً دہشت گردوں سے نمٹنے کے معاملے میں ان کی حکومت ریاکاری کی ایک ایسی مثال بنتی جارہی ہے جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ فوج کے دباؤ یا اشارے پر کر رہے ہیں۔ یہاں ایک مثال سے یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی۔ تحریک لبیک پاکستان ایک قانون شکن اور دہشت گرد گروپ ہے جو آئے دن حکومت کو بلیک میل کرتا رہتا ہے۔ عمران خان کے دور اقتدار میں ہی گزشتہ سال جب عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے بے قصور پاتے ہوئے موت کی سزا سے بری کردیا تھا تو تحریک لبیک نے پرتشدد احتجاج کیا تھا۔ حتیٰ کہ عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی مارنے کی دھمکی دی تھی اور فوجی افسران اور جوانوں کو آرمی چیف کے خلاف بغاوت کرنے کے لئے اکسایا تھا تو اس کی تمام دہشت پسندی اور دھمکیوں کو حکومت اور فوج نے مل کر کچل دیا تھا۔ مظاہرین میں سے کچھ کو حال ہی میں 55 سال کی قید بامشقت کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔
اب اس رویہ اور موجودہ رویہ کو دیکھتے ہوئے تو ریاکاری پورے طور پر بے نقاب ہوجاتی ہے۔ ایک فلم ساز سرمدکھوسٹ نے گزشتہ سال سماجی رویوں پر ایک فلم بنائی تھی جسے بین الاقوامی فلم فیئر منعقدہ بوسن میں ایوارڈ ملا تھا۔ وہ پاکستان کی پہلی فلم تھی جسے بین الاقوامی ایوارڈ ملا تھا۔ اس فلم میں پاکستانی سماج کی حقیقتوں کو اجاگر کیا گیا تھا اور فلم کو پاکستان کے فلم سنسر شپ کے تمام اداروں نے ہری جھنڈی دکھائی تھی۔ لیکن اس فلم کی ریلیز پر پابندی لگ گئی۔ وجہ صرف یہ ہے کہ تحریک لبیک نے زبردستی اس فلم کو ‘‘غیر اسلامی’’ قرار دے دیا تھا، جبکہ اس میں دور تک ایسی کوئی بات نہیں جس سے کسی کے جذبات مجروح ہوسکیں لیکن حکومت نے فلم ساز کو یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ ابھی اس فلم کو ریلیز نہ کریں۔ اس پر پاکستان کے لوگ کافی خفا ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت نے فوج کے دباؤ میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ یاد رہے کہ اس فلم کو صرف تحریک لبیک نے قابل اعتراض بتایا ہے۔ عام لوگوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا ہے بلکہ وہ اس فلم ‘‘ زندگی تماشہ’’ کو دیکھنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ اب یہ کھلی ہوئی ریاکاری اور دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی بدترین مثال نہیں تو اور کیا ہے۔ جب ضرورت پڑی تو آپ نے اس گروپ کو دبا دیا کیونکہ خود آپ اس کا نشانہ بن رہے تھے اور اب اسی گروپ کے منہ بھرائی صرف اس لئے ہو رہی ہے کہ بوقت ضرورت اسے اپنے حق میں استعمال کیا جائے۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ 2017 میں جب ایک معاملے میں اسی تحریک لبیک نے قانون شکنی اور دہشت گردی پھیلائی تھی اور اسلام آباد میں دھرنا کرکے ٹریفک جام کیا تھا تو اس وقت کی مسلم لیگ (نواز) حکومت کے وزیراعظم خاقان عباسی کو آرمی چیف جنرل باجوا نے مجبور کیا تھا کہ وہ تحریک لبیک کے سارے مطالبات کو تسلیم کریں جن میں اس وقت کے وزیر قانون کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ بالآخر اس گروپ کے سارے مطالبات مان لئے گئے تھے۔ صرف یہی نہیں کہ فوج اور ایجنسیوں نے مظاہرین اور قانون شکنی کرنے والوں کی زبردست حوصلہ افزائی کی تھی بلکہ ان میں پیسے بھی تقسیم کئے تھے تاکہ وہ اس وقت کی حکومت کے لئے پریشانیاں کھڑی کریں۔ بیشتر پاکستانی اخباروں نے لکھا ہے کہ فوج اس گروپ کی اس لئے منہ بھرائی کرنا چاہتی ہے کہ وہ اسے بوقت ضرورت استعمال کرسکے جیسا کہ وہ کرتی رہی ہے۔
Comments
Post a Comment