ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نجات پانے کی پاکستان کی تگ و دو


تاکید کے باوجود دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ پر قدغن لگانے میں پاکستان ناکام رہا اور دہشت گردی کو فنڈ فراہم کرنے والوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے والے کثیر قومی ادارے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر لگاتار دباؤ ڈالا کہ وہ اس سنگین مسئلہ سے نمٹنے کے لئے موثر قدم اٹھائے اس کی بار بار کی وارننگ کے باوجود پاکستان نے مطلوبہ قدم نہیں اٹھائے اس لئے ایف اے ٹی ایف سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہوا۔ اس نے گذشتہ سال پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور ساتھ میں یہ بھی وارننگ دی تھی کہ اگر گذشتہ سال کے اکتوبر تک اس نے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تو اس کے خلاف مزید سخت کارروائی ہو سکتی ہے اور وہ بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 27نکاتی ایکشن پلان پر عمل کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن پاکستان میں جتنی پیش رفت ہوئی وہ انتہائی نا قابل اطمینان تصور کی گئی۔ اس لئے گذشتہ اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان کو وارننگ دی اور اس کو فروری 2020 تک کا وقت دیا تاکہ اس درمیان پاکستان اپنا رکارڈ درست کرنےکے ساتھ ساتھ اور مضبوط اور ٹھوس قدم اٹھائے۔ اسی وقت ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکالنے کی تجویز کو بھی رد کر دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ برقرار رہے گا۔ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ نے اپنی جو رپورٹ سونپی تھی اس کے مطابق پاکستان نے 27 میں سے صرف 5 نکات کے سلسلے میں کچھ پیش رفت کی تھی یعنی ابھی اسے اس جانب ایک لمبا فاصلہ طے کرنا باقی تھا۔

بہر حال اب فروری کا مہینہ بھی آنے والا ہے اور ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کارکردگی پر غور کرنے والا ہے۔ پاکستان نے اسی ماہ کی 8 تاریخ کو 650 صفحات پر مشتمل اپنی کارکردگی کی رپورٹ ایف اے ٹی ایف کو سونپی تھی۔ دراصل یہ رپورٹ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے اس سوال نامے کے جواب میں بھیجی تھی جس کے تحت اس نے یہ جاننا چاہا تھا کہ منی لانڈرنگ کے سوال پر پاکستان نے اپنی نئی پالیسی کے تحت کیا کچھ کیا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے اکتوبر 2019 سے جنوری 2020 تک کے اپنے ان اقدامات کی تفصیل پیش کی جو اس کے خیال میں ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے عین مطابق ہیں۔ اب یہ فیصلہ تو ایف اے ٹی ایف کو کرنا ہے کہ وہ پاکستان کی کارکردگی سے کتنا مطمئن ہے اور یہ کہ کیا واقعی پاکستان پورے خلوص کے ساتھ کام کر رہا ہے اور دہشت گردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ پر روک لگانے میں کامیاب ہوتا نظر آتا ہے۔

اگر لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے خلاف قدم اٹھائے جانے کی بات کی جائے تو حالیہ دنوں میں حافظ سعید کے خلاف کچھ کارروائیاں ہوتی نظر آ رہی ہیں۔مثلاً اگر حافظ سعید اور ان کے کچھ معاونین کےخلاف ایک انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت چل رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا یہ خیال ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس ڈھنگ سے اس مقدمہ کی پیروی کرے گی۔ حافظ سعید کے وکیلوں کی ٹیم عدالت میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن جیسے ادارے لشکر طیبہ یا کسی بھی دہشت گرد گروپ کو فنڈ نہیں مہیا کرا رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومت پاکستان نے حالیہ دنوں میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچانے کیلئے سفارتی اور سیاسی سرگرمیاں بہت تیز کر دی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو کارروائیاں حافظ سعید یا دوسروں کے خلاف ہو رہی ہیں ان کا اصل مقصد عالمی برادری میں یہ تاثر دینا ہے کہ پاکستان واقعی دہشت گردوں کی منی لانڈرنگ پر روک لگانے کیلئے مخلص نظر آتی ہے ۔ بعض مبصرین نے یہ رائے بھی ظاہر کی ہے کہ اگر واقعی حکومت سنجیدہ ہوتی تو ممبئی حملے کے ملزموں پر چلائے جانے والے مقدمے کا فیصلہ کب کا ہو چکا ہوتا ۔

پاکستان کو دہشت گردی ختم کرانے اور وہاں سرگرم دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں دلچسپی ہو یا نہ ہو لیکن یہ فکر ضرور ہے کہ عالمی برادری اس کا نام دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ملکوں کی صف میں شامل نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی مزید سختی سے بچنے اور گرے لسٹ سے باہر ہونے کی کوششیں تیز تر ہو گئی ہیں۔ چنانچہ ایک پاکستانی وفد ایف اے ٹی ایف سے رو برو ہونے اور اپنی بات اس کے سامنے رکھنے کیلئے چند روز قبل بیجنگ پہنچ گیا۔ پاکستانی وفد ایف اے ٹی ایف کے ورکنگ گروپ سے ملا بھی جس کی میٹنگ 21 جنوری سے شروع ہوئی ۔ اس وفد کی قیادت وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کر رہے ہیں۔ دوسرے ممبران میں قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی ،وزارت خارجہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے شامل ہیں۔ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ وہ چین اور امریکہ کی مدد سے کسی صورت ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آ جائے ۔ چین سے تو اسے پوری مدد کی امید ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی سربراہی کے فرائض اس وقت چین ہی انجام دے رہا ہے۔ گویا چین کی تو پوری حمایت اسے ملے گی ہی لیکن وہ چاہتا ہے کہ کچھ اضافی حمایت حاصل کرے تاکہ اسے اطمینان ہو جائے کہ حالات اس کے لئے سازگار ہو جائیں۔ اسی لئے بطورِ خاص وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واشنگٹن کا دورہ کیا۔ گذشتہ جمعہ کو ہی انہوں نے امریکہ میں کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ بیجنگ میں ایف اے ٹی ایف کی جو میٹنگ ہو رہی ہے اس میں امریکہ پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر لانے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ میٹنگ پاکستان کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے بعد اپریل میں ایف اے ٹی ایف کی پلینری میٹنگ پیرس میں ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان سے متعلق ایف اے ٹی ایف کا اگلا فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ اس کا انحصار بہر حال اس کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا۔ 



۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ