ایف ڈی آئی کے تعلق سے ہندوستان کا نام ہنوز دس اعلی ترین ملکوں میں شامل
ہندوستان نے غیر ملکی راست سرمایہ کاری کے تعلق سے 2019 میں 16 فیصد کا اضافہ درج کیا۔ یہ سرمایہ کاری 42 ارب ڈالر سے بڑھ کر پچھلے سال 49 ارب ڈالر کی ہوگئی۔ اس طرح اس کا مقام ان اعلی ترین دس ملکوں میں بنا ہوا ہے جہاں سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ تجارت اور ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی سطح پر سرمایہ کاری میں تھوڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ 2019 میں یہ سرمایہ کاری ایک اعشاریہ چار ایک ٹریلین ڈالر سے کم ہوکر ایک اعشاریہ تین 9 ٹریلین ڈالر ہو گئی۔ اس طرح اس میں تقریباً ایک فیصد کی کمی آئی۔ ایسے وقت میں جب امریکہ اور چین میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کوئی اضافہ دیکھنے کو نہیں ملا، ہندوستان ایف ڈی آئی کے اعلی ترین ملکوں میں سے ایک تھا۔
جنوبی ایشیا نے ایف ڈی آئی میں دس فیصد کا اضافہ درج کیا اور یہ بڑھ کر 60 ارب ڈالر کی ہوگئی۔ اس میں 80 فیصد حصہ ہندوستان کا ہے۔ جن شعبوں میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی ان میں اطلاعاتی ٹکنالوجی سمیت خدمات کی صنعتیں شامل ہیں۔ ہمارے پڑوسی بنگلہ دیش کو اس سلسلہ میں 6 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پاکستان میں 20 فیصد کی گراوٹ آئی۔
تمام دنیا میں سیاسی اتھل پتھل کا راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر کافی اثر پڑا۔ نہ صرف ایشیا بلکہ یوروپ بھی اس کا شکار ہوا۔ برطایہ میں بریگزٹ معاملہ کی وجہ سے 6 فیصد کی گراوٹ دیکھنے کو ملی جبکہ یوروپی یونین کو 15 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوروپی یونین میں سرمایہ کاری گرکر 305 ارب ڈالر کی رہ گئی۔ لیکن نجکاری کے باعث برازیل کو تھوڑا فائدہ ضرور ہوا۔ اسے 26 فیصد کا فائدہ حاصل ہوا۔ کسی بھی ملک کی سیاسی صورتحال کا اثر وہاں کی راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔ اگر صورتحال اچھی ہے تو دوسرے ممالک سرمایہ کاری کریں گے اور اگر ایسا نہ ہوا اور سیاسی اتھل پتھل رہی تو سرمایہ کاری پر بھی اس کا منفی اثر پڑے گا۔
راست غیر ملکی سرمایہ کاری پورٹ فولیو سرمایہ کاری سے ہر حال میں بہتر ہے کیونکہ یہ زیادہ مستحکم ہے۔ یہ بات کافی حوصلہ افزا ہے کہ ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 4 جنوری 2019 سے لیکر اب تک اس میں 65 اعشاریہ ایک دو نو چار ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اگر آسٹریلیا، فنلینڈاور آئس لینڈ کے ذخائر کو باہم ملادیا جائے تو یہ اس کے برابر ہے۔ زر مبادلہ کے چار اجزا ہیں۔ یہ ہیں فارین کرنسی ایسٹس ، سونا، ایس ڈی آر اور آر ٹی پی۔ عالمی سطح پر کل راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا آدھے سے کچھ زیادہ حصہ ترقی پذیر ملکوں کے نام رہا جبکہ باقی ماندہ حصہ چین، سنگاپور، برازیل اور ہانگ کانگ کے نام رہا۔ ایف ڈی آئی کے معاملے میں امریکہ سرفہرست ہے حالانکہ اس میں ایک فیصد کی کمی دیکھنے کو ملی۔ امریکہ نے 2019 میں 251 ارب ڈالر کی راست غیر ملکی سرمایہ کاری درج کی۔
افریقہ، لاطینی امریکہ اور کریبیائی ملکوں کو اس معاملہ میں کچھ زیادہ فائدہ ہوا جبکہ شمالی امریکہ میں اس سلسلہ میں کوئی بھی اضافہ درج نہیں کیا گیا۔ ایشیا اور یوروپ کو تھوڑا نقصان ہوا۔ ایشیائی ملکوں میں 6 فیصد کی گراوٹ دیکھنے کو ملی جبکہ یوروپ میں 4 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔ ترقی کے امکانات کے باعث غیر ترقی یافتہ ملکوں کو 65 فیصد کا فائدہ ہوا جبکہ ترقی پذیر ملکوں میں یہ اضافہ نہ کے برابر رہا۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ملکوں کو 6 فیصد کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ایک مثبت بات یہ نظر آتی ہےکہ اس نے 2020 میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی امید ظاہر کی ہے۔ اس کے خیال میں اس سال عالمی معیشت میں بہتری کے امکانات ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی چیف اکونامسٹ گیتا گوپی ناتھ نے ہندوستان کی معاشی سست روی پر تشویش کا اظہار کیا تھا لیکن ایف ڈی آئی کے بارے میں اقوام متحدہ کی تازہ ترین خبر ہندوستان کےلئے کافی حوصلہ افزا ہے۔ حکومت ہند اس وقت معاشی شعبہ میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کےلئے تمام اقدامات کررہی ہے جو معاشی ترقی اور استحکام کے لئے کافی اہم ہیں۔
*******
Comments
Post a Comment