پاکستان میں قانون سازی میں عجلت، بلیک میل ،دباؤ یا سمجھوتے بازی کا نتیجہ؟

آج کل پاکستان میں قانون سازی کے ایک معاملے میں جو غیر معمولی عجلت کی مثال سامنے آئی اس کے باعث ایک عجیب ساماحول پیدا ہو گیا ہے اور ہر طرف اسی کا چرچہ ہے۔ در اصل دو تین بل پارلیمنٹ سے اتنی عجلت میں منظور کرائے گئے کہ لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی بلکہ غیر معمولی عجلت کا جو مظاہرہ ہوا اس سے زیادہ حیرت اس بات پر ظاہر کی گئی کہ مین اسٹریم اپوزیشن پارٹیوں نے تقریباً غیر مشروط طور پر حکومت کا ساتھ دیا۔ سب سے زیادہ حیرت خود اپوزیشن پارٹیوں کے حامیوں کو ہوئی جنہوں نے یہ امید ہی نہیں کی تھی کہ ان کی پارٹیاں اپنے ووٹروں اور حامیوں کی مرضی کی پرواہ کئے بغیر حکومت کا اس طور پر ساتھ دیں گی۔ ہوا یہ کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کے ایکسٹینشن کے معاملہ میں حکومت کے لئے ایک مسئلہ یوں کھڑا کر دیا تھا کہ اگست کے مہینہ میں وزیر اعظم کی طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تھا۔ جنرل باجوا نومبر کے اواخر میں ریٹائر ہونے والے تھے لیکن سپریم کورٹ نے ایک ٹکنیکل بنیاد پر اس پر روک لگا دی تھی۔ البتہ چھ ماہ کے لئے جنرل باجوا کا ایکسٹینشن منظور کر لیا تھا اور حکومت کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ اس مدت کے دوران آرمی چیف کو دیئے جانے والے ایکسٹینشن یا دوبارہ بحالی کے معاملے میں پارلیمنٹ سے کوئی قانون پاس کرائے تاکہ اسی کے مطابق مستقبل میں فیصلے کئے جا سکیں۔ عدالت کی اس ہدایت کے مطابق حکومت نے تین بل پارلیمنٹ میں پیش کئے جو فوج کے تینوں بازوؤں کے سر براہوں اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی بحالی اور ان کے ایکسٹینشن سے متعلق تھے۔ بل کے تحت مدت ملازمت میں توسیع کرنے کا اختیار وزیر اعظم کو تفویض کرنے کی بات کہی گئی تھی ۔ بہر حال پارلیمنٹ کے دونوں ایوان سے انتہائی عجلت میں یہ بل پاس ہو گئے ۔ پاکستان کے بیشتر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی اتنی جلدی میں کسی بل کو پاس ہوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ صرف چند چھوٹی چھوٹی اپوزیشن پارٹیوں نےا س کی مخالفت کی تھی جبکہ دونوں خاص اپوزیشن پارٹیوں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ان بلوں کی حمایت میں ووٹ دیا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز نے تو بالکل ہی غیر مشروط طور پر ووٹ دیا۔ حتی کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس کے یہ تیور دیکھ کر ترمیم کی تجاویز بھی واپس لے لیں۔ حالانکہ یہ بل اس مہینہ کے اوائل ہی میں پاس ہو گئے لیکن قیاس آرائیوں اور حیرت ظاہر کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔

مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی ،دونوں کے حامی اپنی اپنی پارٹیوں کو ابھی تک اس بات کے لئے کوس رہے ہیں کہ انہوں نے اتنی آسانی سے بل کی حمایت کیوں کی ۔ اس سلسلے میں بیشتر مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران حکومت یعنی فوجی ٹولے کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا یا ان پارٹیوں کو بلیک میل کر کے ان کی حمایت حاصل کی گئی ۔ یہ بات قرین قیاس بھی لگتی ہے کیوں کہ پاکستان میں عام طور سے کسی بڑے فیصلے کے پیچھے فوج ہی در پردہ اپنا کام کرتی ہے اور عمران حکومت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ حکومت اور فوج بالکل ہم خیال ہیں ۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ‘‘من تو شدم، تو من شدی’’ کا معاملہ ہے ۔بعض تجزیہ کار یہ خیال بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ شاید ان دونوں اپوزیشن پارٹیوں سے کوئی وعدہ کیا گیا ہو کہ کسی اور طور پر ان کو اس حمایت کا صلہ دیا جائے گا۔ مسلم لیگ نواز کے حامی اس بات کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیں کہ انکی پارٹی نے ایسا کیوں کیا کیونکہ اس رویہ سے پارٹی کی ساکھ کو زبر دست دھکا لگا ہے ۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی اس بل کے حق میں نہیں تھی اور کم از کم یہ چاہتی تھی کہ اس پر کھل کر بحث ہو لیکن مسلم لیگ نواز کے فیصلے کے باعث اس نے مخالفت کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ مسلم لیگ نواز کے ایک ممتاز لیڈر رانا ثناء اللہ کو بہر حال اس بات کا احساس ہے کہ پارٹی سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ اس نے پارٹی کے اندر بات چیت یا تبادلہ خیال نہیں کیا۔ در اصل حکومت ایسی جلدی میں تھی کہ اس نے ایوان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جس کے باعث اپوزیشن پارٹیوں کو بہت محتاط رویہ اختیار کرنا پڑا۔ رانا ثناء اللہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ مسلم لیگ نواز کو اتنی جلدی غیرمشروط حمایت دینے سے قبل کم از کم دوسری اپوزیشن پارٹیوں کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔ اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیۃ العلماء اسلام فضل کو بڑی مایوسی ہوئی ہے ۔ لیکن خود مسلم لیگ نواز کے حامیوں کی اکثریت کافی مایوس نظر آتی ہے ۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق ایک طرح سے یہ بھی اچھا ہوا کہ پارٹیوں کے حامیوں کی موجودہ ناراضگی اس کے قائدین کو یہ سوچنے پر مجبور کرے گی کہ انہیں اپنے حامیوں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا اور اس سے جمہوری قدروں کو استحکام حاصل ہوگا۔ اس طور پر ووٹ اور ووٹروں کی عزت کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑے گا ۔ گویا مسلم لیگ نواز کو اس مرحلے میں ایک اچھا سبق ملا ہے ۔

اس پورے واقعہ سے ایک بات اور ابھر کر سامنے آئی کہ عمران خان جس حلقے کو اپنا ‘‘محسن’’ تصور کر رہے تھے اس کے نزدیک اب یہ ایک بوجھ بن کر رہ گئے ہیں اور اب اسے ان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ