فوجی سربراہ کی مدت کار میں توسیع کا معاملہ بنا پاکستان حکومت کیلئے دردسر

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پچھلے سال اگست میں ایک نوٹی فکیشن کے ذریعہ فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت کار میں تین سال کی توسیع کردی تھی جنہیں نومبر 2019 میں ملازمت سے سبکدوش ہونا تھا۔ عمران خان حکومت نے جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہاتھا کہ ملک کو درپیش غیر معمولی صورت حال کے پیش نظر اسے یہ فیصلہ لینا پڑا۔ اس کا کہنا تھا کہ بالاکوٹ پر حملے، پلوامہ میں بم دھماکے کے بعد کی صورت حال، ہندوستان کی جانب سے جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے اور کنٹرول لائن پر بڑھتی کشیدگی کے باعث غیر معمولی صورت حال پیدا ہوگئی تھی جس کی وجہ سے جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع کرنا ضروری ہوگیاتھا۔لیکن سپریم کورٹ نے پچھلے سال 26 نومبر کو مدت کار میں توسیع سے متعلق نوٹی فکیشن کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قوانین میں کافی خامیاں ہیں نیز مدت کار میں توسیع سے متعلق جو فیصلہ لیا گیا ہے اس میں کافی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ عدالت عظمی نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی دفعہ 243 کی شق 3 میں فوجی سربراہ کی مدت کار میں توسیع یا دوبارہ تقرری کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے، اس لیے عدالت نے جنرل باجوہ کو صرف 6 ماہ کی توسیع دیتے ہوئے عمران خان حکومت کو حکم دیا کہ وہ اس مدت کے دوران سینئر فوجی افسروں کی مدت کار میں توسیع یا ان کی دوبارہ تقرری سے متعلق کوئی قانون وضع کرےورنہ جنرل باجوہ 6 ماہ بعد ملازمت سے سبکدوش قرار دیے جائیں گے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے حکومت پاکستان میں کافی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ کیوں کہ وہ جانتی ہے کہ 6 ماہ کے اندر کوئی قانون وضع کرنا آسان کام نہیں ہے وہ بھی ایسی صورت میں جب اسے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی حمایت حاصل نہیں ہے جو کوئی بھی قانون وضع کرنے کیلئے ضروری ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں فوجی سربراہوں کو ان کی ملازمت میں جو توسیع ملی وہ روایتی تھی اوروہ کسی قانون کے تحت نہیں ملی تھی۔

عدالت عظمی کے فیصلہ کےبعد اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مشورے پر عمران خان حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کے تئیں اپنے رویے میں نرمی برتنا شروع کردیا۔ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی بات کرنی شروع کردی تاکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سروسز سے متعلق بل کو ان کی حمایت سے منظور کرایا جاسکے۔اسی کوشش کی ایک کڑی کے طور پر پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے ایک سینئر لیڈر رانا ثناءاللہ کو منشیات کی اسمگلنگ کے ایک کیس میں ضمانت دے دی گئی، سابق صدر آصف علی زرداری کو طبی بنیاد پر ضمانت مل گئی اور نواز شریف کی لندن سے ملک واپسی پرحکومت نے ذراسی بھی تنقید نہیں کی۔ ان سب کے باعث 7 جنوری کو سروسز بل کی منظوری کا راستہ صاف ہوگیا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کسی بھی بڑی اپوزیشن پارٹی نے اس بل کی مخالفت نہیں کی ہاں جماعت اسلامی اور کچھ دوسری چھوٹی پارٹیوں نے واک آؤٹ ضرور کیا۔

لیکن بل کی ڈرافٹنگ پر تنازعہ ضرور پیدا ہوگیا ہے اور سوال پوچھے جارہے ہیں کہ کیا اس بل سے تینوں سروسز کے سربراہان کی مدت کار میں توسیع یا ان کی دوبارہ تقرری کے معاملہ میں صدر کو اپنی رضامندی دینے یانہ دینےکے بارے میں مزید اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ بہت سے لوگوں نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ جب حکومت نے جنرل باجوہ کی مدت کار سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عدالت عظمی میں نظرثانی کی درخواست دے رکھی ہے تو اس نے پارلیمنٹ کا راستہ کیوں اپنایا۔ یہ تمام سوالات اس بات کی طرف صاف اشارہ کرتے ہیں کہ عمران حکومت کا شعبہ ٔقانون سراسیمہ سا ہے۔ اگر پٹیشن منظور یا خارج ہوگئی تو پھر کیا ہوگا۔

سروسز چیفس بل کافی مبہم سا ہے اور خبروں کے مطابق تینوں سروسز کے سربراہان کی ریٹائرمنٹ عمر بڑھاکر 64 سال کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بل کےمطابق ملک کے وزیراعظم کو فوج کے سربراہ کی مدت کار میں مزید توسیع کرنے کا اختیار ہوگا جسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کو کسی بھی وقت جب وہ چاہیں سروس سربراہ کو برطرف کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہوگا؟ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب نواز شریف کی منتخبہ حکومت نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی تو فوج اقتدار پرقابض ہوگئی تھی۔

اب جب کہ اپوزیشن پارٹیوں نے اس بل کے لیے اپنی حمایت دی دی ہے انہیں امید ہے کہ حکومت انہیں مزید مراعات دے گی خاص طور پر بدعنوانی کے معاملات میں اپوزیشن حکومت سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس لیے فی الحال عمران خان کا بدعنوانی سے پاک پاکستان کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ