کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود پاکستان میں پابندیاں ختم
کیا امریکہ اور کیا ایشیا۔ بیشتر براعظم کے ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں اور ہر جگہ اس عالمی وبا کے خلاف زبردست جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ شاید یہ اس صدی کا سب سے بھیانک بحران ثابت ہونے والا ہے۔ ابھی تک عالمی پیمانے پر لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور کہیں لاکھوں تو کہیں ہزاروں افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں اور ہر روز ہلاک بھی ہورہے ہیں۔ گزشتہ صدی کے اسپینش (Spanish) فلو نے پوری دنیا میں کروڑوں افراد کو نگل لیا تھا اور خود برصغیر ہندوپاک میں بھی بہت بڑی تعداد میں لوگ اس وبا کا شکار ہوئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ تھی۔ خدا نہ کرے کہ کورونا وائرس اُتنا مہلک اور تباہ کن ثابت ہو۔ لیکن پوری دنیا تشویش اور گھبراہٹ کا بہرحال شکار ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اور ڈاکٹر اس پر قابو پانے اور دوسرے متعلقہ عوامل کی تحقیق میں مصروف ہیں اور دوائیں اور ٹیکے ایجاد کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ امید ہے عنقریب اس وبا کا کوئی نہ کوئی علاج تلاش کرلیا جائے گا اور دنیا راحت کا سانس لے گی لیکن تب تک اس عذاب کو نہ صرف جھیلنا ہے بلکہ اس سے جنگ بھی کرنا ہے اور جنگ جاری رکھنے کا واحد طریقہ فی الحال تو یہی نظر آتا ہے کہ پوری احتیاط برتی جائے، رہنے سہنے کے انداز بدلے جائیں، ایک دوسرے سے دوری قائم کی جائے اور صفائی کابھرپور خیال رکھا جائے یہی سب کچھ بیشتر ملکوں میں ہوبھی رہا ہے کیونکہ جب تک کوئی دوا دریافت نہیں کرلی جاتی اور معقول تعداد میں اس کی دستیابی ممکن نہیں ہوجاتی، اس وقت تک احتیاط اور بچاؤ کی تدبیروں کو ہی بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ اس احتیاط کی قیمت بھی تمام متاثرہ ملکوں کو چکانی پڑے گی اور پڑرہی ہے لیکن کیا کیا جائے کہ حالات اسی کے متقاضی ہیں۔ پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ زندگی کی بیشتر سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں۔ پیداوار اور اقتصادی سرگرمیوں پر گویا ایکدم روک لگ گئی۔ یوروپ اور امریکہ اس وبا سے اتنے متاثر ہوئے کہ مجموعی طور پر کم وبیش ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ فی الحال تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ہر طرف کنفیوژن اور گھبراہٹ ہے۔ اور اب یہ سوچا جارہا ہے کہ کورونا وائرس سے فی الحال نجات پانا مشکل ہے لہٰذا اسی ماحول میں زندہ رہنے کے لئے اور بچاؤ کے لئے کوئی راستہ بھی تلاش کیا جانا چاہئے۔ اگرایسا نہ کیا گیا تو اس وبا سے جو تباہی پھیلے گی، اس سے بھی زیادہ تباہی تعطل،گھٹن اور اقتصادی بدحالی سے پھیل سکتی ہے۔ لہٰذا بیشتر ممالک اپنے اپنے طور پر نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دیکھئے آنے والے دنوں میں کس طرح کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔
اگر یوروپ اور امریکہ کے مقابلے میں جنوب ایشیائی ممالک کی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ یہاں کے حالات اتنے خراب نہیں ہوئے لیکن بہرحال اس بیماری نے اِن ممالک میں بھی اپنے قدم جمالئے ہیں اور تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔ کہا نہیں جاسکتا کہ کب اور کس طور پر اس کا مزاج بدلے یا بگڑ جائے۔ اگر سارک (SAARC)ممالک کا جائزہ لیں تو ہندوستان میں متاثرہ افراد کی تعداد 60ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ 2000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن 18 ہزار سے زیادہ افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ پاکستان میں 28ہزار کے قریب افراد متاثر ہیں 600 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور 8ہزار کے قریب صحتیاب ہوئے ہیں۔ افغانستان میں چار ہزار سے کچھ زیادہ متاثر ہیں، 115 کے قریب ہلاک اور 500 سے زیادہ صحتیاب ہوئے۔ بنگلہ دیش میں چودہ ہزار کے قریب متاثر، 215 ہلاک اور دوہزار سے زیادہ شفایاب ہوئے۔ سری لنکا میں 9افراد ہلاک ہوئے جبکہ نیپال اور بھوٹان میں کسی کی موت واقع نہیں ہوئی۔ البتہ مالدیپ میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ لیکن ہر زمرے کے اعداد وشمار میں تبدیلی بھی ہوئی ہوگی۔
اس درمیان پاکستان سے یہ خبر موصول ہوئی کہ گزشتہ سنیچر کو حکومت پاکستان نے پابندیاں اٹھا لیں۔ اس سے پاکستان میں حفظان صحت سے وابستہ حلقوں میں نہ صرف حیرت بلکہ تشویش بھی پیدا ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ وسط مارچ سے وہاں پابندیاں دیکھی گئی تھیں اور لاک ڈاؤن بھی ہوا تھا۔ بندشیں ہٹانے کا فیصلہ اس دن کیا گیا جس دن گزشتہ 24گھنٹوں کے درمیان متاثر ہونے والوں کی تعداد 16 سو سے زیادہ اور مرنے والوں کی تعداد 24 درج کی گئی تھی۔ اچانک یہ دیکھا گیا کہ سپاہی جو سڑکوں پر گشت لگایا کرتے تھے، وہ بیرک میں واپس چلے گئے اور سڑکوں اور گلیوں میں بھیڑ امنڈ آئی۔ اس پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے سخت اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ فوراً سخت قسم کا لاک ڈاؤن نافذ کرے کیونکہ اس کی اطلاع کے مطابق مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے جبکہ طبی سہولیات کا زبردست فقدان ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق کراچی میں صرف 5 ایسے ہسپتال ہیں جہاں صرف 63 کورونا مریضوں کے لئے بیڈ کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ جب کراچی جیسے بڑے اور بین الاقوامی شہر میں یہ عالم ہے تو دوسرے شہروں میں طبی سہولیات کے بارے میں آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت پاکستان کا، لاک ڈاؤن اٹھائے جانے کا فیصلہ دانشمندی پر مبنی نظر نہیں آتا۔
Comments
Post a Comment