پاکستانی معیشت میں تنگی کے آثار اور عوام کی حالت زار
پاکستان کے عوام کے مسائل گونا گوں ہیں۔ مذہبی بنیاد پرستی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی اور تشدد ہے، غربت ہے اور استطاعت سے زیادہ دفاعی اخراجات۔ اس پر ستم کرونا کا قہرجو دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ ویسے تو اس وقت ساری دنیا کرونا وائرس کے پیدا کردہ بحران سے دو چار ہے لیکن بیشتر ممالک نے نہ صرف یہ کہ کرونا سے عوام کو بچانے کے اقدامات کئے ہیں بلکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو جو اقتصادی تنگی کی صورت حال پیدا ہوئی ہے اس سے نپٹنے کے بھی اقدامات کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ہندوستان کی حکمت عملی کی مثال سامنے رکھی جا سکتی ہے جس نے ایک طرف لاک ڈاؤن کو سختی سے نافذ کر رکھا ہے تو دوسری طرف اپنی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے بیس لاکھ کروڑ یعنی کل ملکی پیداوار کے تقریبا دس فیصد کے برابر کے پیکیج کا اعلان کیا جس کے فوری فائدے بھی ہوں گے اور دور رس اثرات بھی ہوں گے۔
اس کے برعکس پاکستان کے عوام دوہرے مسائل سے دو چار ہیں۔ کیونکہ پاکستان کی حکومت دونوں محاذوں پر بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ عمران خان کی زیر قیادت حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے پہلے تو لاک ڈاون کے معاملے میں قیل و قال سے کام لیا پھر لاک ڈاؤن کیا بھی تو بنیاد پرست مذہبی جماعتوں کے دباؤمیں اسے سختی سے نافذ نہیں کیا او پر سےغضب یہ کیا کہ اس سے پہلے کہ کرونا کا زور کم ہوتا 16 مئی سے لاک ڈاون ہٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ لاک ڈاون کے نفاذ میں تاخیر کے فیصلے کے پیچھے جو وجہ وزیر اعظم عمران خان نے بتائی تھی وہ یہ کہ لوگ یا تو بھوک اور بے روزگاری سے مریں گے یا لاک ڈاون سے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک شرمناک بات تھی کہ جس کے ہاتھ میں ملک کےسارے وسائل ہوں وہ اس کڑے وقت میں اپنے ملک کے لوگوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دے۔
در اصل پاکستان کی سر کاروں کی ترجیحات شروع ہی سےغلط رہی ہیں۔ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ پاکستان اپنے سالانہ بجٹ کا اٹھارہ سے انیس فیصد حصہ فوج اور جنگی تیاریوں پر خرچ کرتا ہے۔ بین اقوامی مالی اداروں کا اندازہ ہے کہ کرونا کے باعث پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار ڈیڑھ فی صد تک کم ہو جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ صنعتیں بند ہوں گی ، لوگ زیادہ سے زیادہ بے روزگار ہوں گے، لوگوں کی آمدنی کم ہوگی اور نتیجہ کے طور پر خوردہ فروخت میں کمی آئے گی ۔ معیشت میں ڈیڑھ فی صد کی تنگی اپنے آپ میں کوئی کم پریشان کن خبر نہیں ہے ۔ اس پر ستم یہ کہ لاہور اسکول اف اکونومکس جو ملک کا ایک اہم ادارہ ہے اس کا کہنا ہے کہ تنگی تقریبا تین فیصد یا اس سے زیادہ ہی ہو سکتی ہے اور یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کرونا کی وبا ملک سے کتنی جلدی ختم ہوتی ہے۔ اس ادارے نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ پندرہ سے اٹھائیس لاکھ تک روزگار ختم ہو جائیں گے جس میں تین سے پانچ لاکھ تک منظم سیکٹر کے روزگار کا نقصان ہے اور باقی غیر منظم سیکٹر کا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ تخمینہ صحیح ثابت ہو تا ہے تو یہ حکومت کے لئے خواہ کوئی بڑا مسئلہ نہ ہو کیونکہ حکومت کو تو فوج کی خدمت اور بنیاد پرستی کی حوصلہ افزائی میں زیادہ دلچسپی ہے ، لیکن پاکستان کے عوام کے لئے ایک بہت مشکل گھڑی سامنے آنے والی ہے۔
ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے اور ابھی تک تو حکومت کی طرف سے کوئی ایسا اقدام سامنے نہیں آیا ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکے کہ وہ معیشت جس پر عوام کی خوشحالی منحصر ہے اس کو سنبھالنے کے لئے حکومت کے سامنے کوئی منصوبہ ہے۔ معیشت اور عوام کی اقتصادی فلاح ملائیت کا مسئلہ ہے نہیں اور فوج کا منہ ہندوستان کی طرف ہے جس کی دشمنی میں اس نے پاکستان کی تر قی اور عوام کی خوشحالی کو کبھی کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔ اس کی توجہ صرف فوجی اخراجات میں مسلسل اضافے پر ہے جس کے باعث پاکستان دنیا بھر کا مقروض ہوا پڑا ہے ۔ یاد رہے کہ اس برس جون تک پاکستان پر ساڑھے سینتیس ٹریلین روپے کا قرض ہو جائے گا۔ اور اس سال حکومت پاکستان پر ان قرضوں میں سے دو اعشاریہ اٹھ ٹریلین روپئے واجب الادا ہوں گے۔ ستم یہ کہ حکومت پاکستان عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے چھ مدوں کے اخراجات کے لئے دو ارب ڈالریعنی تقریبا 320ً ارب روپئے کا اور قرضہ لے رہی ہے۔ جن چھ مدوں کے لئے قرضے طلب کئے جارہے ہیں ان میں کچرا صاف کرنے اور پینشن کی ادائیگی بھی شامل ہیں جن کے لئے ملکی وسائل کو ڈھنگ سے استعمال ہونا چاہیئے نہ کہ بیرونی قرضہ پر تکیہ کیا جائے۔ یعنی قرضوں کے بوجھ سے لدا پاکستان مزید مقروض ہو گا جس کا خمیازہ بہر حال پاکستانی عوام ادا کریں گے۔ لیکن جو حکومت فوج اور ملائیت دونوں کے دباؤ میں کام کرتی ہو اس سے ملک کے عوام بھلائی کی کیا امید رکھیں۔ پاکستان میں جب تک ملکی نظام کی بنیاد روشن خیالی، عوام دوستی اور سچی جمہوریت پر نہیں رکھی جائے گی تب تک عوام کسمپرسی کے عالم میں جینے پر مجبور ہوں گے خواہ انہیں ووٹ دینے کی جھوٹی آزادی ہی کیوں نہ حاصل رہے۔
Comments
Post a Comment