نیپال کا آئینی ترمیم پر بحث ملتوی کرنے کا فیصلہ
ہندوستان اور نیپال کے درمیان 1750 کلومیٹر لمبی زمینی سرحد ہے۔ ہندوستان کی پانچ ریاستوں سکم، مغربی بنگال، بہار، اترپردیش اور اتراکھنڈ کی سرحدیں نیپال سے ملتی ہیں۔ ان سرحدوں میں سے زیادہ تر کا تعین 1816 میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور نیپال کی شاہی عدالت کے درمیان ہوئے سنگولی معاہدے کے مطابق کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق نیپال کا علاقہ مہاکالی یا کالی ندی کے مشرق تک محدود تھا۔ تاہم نیپال نے حال ہی میں جو نقشہ جاری کیا اس میں مہاکالی ندی کے مغرب میں کالاپانی لمپیا دھرا اور لیپو لیکھ کے 400 مربع کلو میٹر کے علاقہ کو اپنا علاقہ قرار دیا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ متذکرہ معاہدے کے تحت یہ علاقے ہندوستان کے ہیں۔
کٹھمنڈو کا دعوی ہے کہ چونکہ یہ علاقے کالی ندی کی ایک بڑی شاخ کے مشرق میں واقع ہیں اس لیے وہ نیپال کے ہیں۔ یہ دعوی اس حقیقت کے باوجود کیا جارہا ہے کہ پچھلے 150 سال سے جو نقشے دیکھنے کو ملے اور جو جائزے پیش کیے گئے ان میں یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ کالاپانی سے آنے والی دھارائیں ہی کالی ندی کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ علاقے کالی ندی کے مغرب میں ہیں جو ہندوستان کا حصہ ہے۔
یہ علاقے ہندوستان سے نیپال اور چین سے لگی سرحد کے نزدیک ریاست اتراکھنڈ میں ہیں اور کیلاش مانسروور یاترا پر جانے والے ہندوستانی یاتری ہمیشہ ان علاقوں سے ہوکر جاتے رہے ہیں۔ کیلاش کی چوٹی اور مانسروور پر جانے والے یاتریوں کو کافی دقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس لیے اس یاترا کو آسان بنانے کے لیے ہندوستان نے توا گھاٹ اور لیپو لیکھ کے درمیان ایک پکی سڑک کی تعمیر کی جس کا افتتاح ہندوستانی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس سال اپریل میں کیا۔ سڑک کے افتتاح کے فورا بعد نیپال کا رد عمل سامنے آیا جس میں دعوی کیا گیا کہ یہ سڑک نیپالی علاقہ سے ہوکر گزرتی ہے اور نئی دہلی سے اپیل کی گئی کہ وہ علاقہ میں تعمیرات روک دے۔ اس کے چند روز بعد یعنی 18 مئی کو نیپالی کابینہ نے ملک کے ایک نئے نقشے کو منظوری دی جس میں نیپال کے علاقہ کو لمپیا دھرا تک بڑھاکردکھایا گیا۔ نیا نقشہ وزیراعظم کے پی شرما اولی کی جانب سے نیپالی پارلیمنٹ میں جاری کیاگیا۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ نیپالی علاقوں کو واپس لینے کی یہ ایک جائز اور اہم کوشش ہے۔
نیپال کی اس حرکت پر ہندوستان نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کٹھمنڈو سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کی یکطرفہ کارروائی سے باز رہے اور ہندوستان کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کا احترام کرے۔ اسی کے ساتھ یہ امید بھی ظاہر کی گئی کہ نیپالی قیادت باقی ماندہ سرحدی تنازعہ کے حل کی غرض سے سفارتی بات چیت کے لیے مثبت ماحول پیدا کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی ہیں، دونوں کی ثقافت اور اقدار ایک جیسی ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام اپنی طرز زندگی اور مذاہب کے باعث ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کے درمیان معاشی تعلقات بھی کافی مضبوط ہیں۔ ہندوستان نیپال میں سب سے بڑا سرمایہ کار ہے اسی سے ثابت ہوجاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کافی قریبی رشتے ہیں۔ اس لیے ایسے وقت میں جب ساری دنیا کورونا وائرس کی وبا سے جوجھ رہی ہے اور خود نیپال اور ہندوستان کو اس وبا سے کافی پریشانی کا سامنا ہے، عوام کے دکھ درد کا مداوا کرنے کے لیے دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
نیپال کے نئے نقشے سے متعلق ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ اس پرانے نقشے سے بالکل مختلف ہے جو ملک کے آئین میں موجود ہے۔ لہذا نئے نقشے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ لہذا اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے نیپالی پارلیمنٹ میں ایک آئینی ترمیمی بل پیش کیاگیا جس پر 26 مئی کو بحث ہونی تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا کیوں کہ 26 مئی کو جن بلوں پر بحث ہونی تھی اس فہرست میں یہ بل شامل نہیں تھا۔ نیپال میں آئین کی ترمیم کے لیے دوتہائی اکثریت ضروری ہے۔
نئے نقشہ پر نیپالی پارلیمنٹ میں بحث اب ملتوی کردی گئی ہے۔ اس اقدام سے لگتا ہے کہ نیپال نے بڑی سوجھ بوجھ سے کام لیا ہے۔دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرکے ذہنی پختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ نیپالی پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم پر بحث نہ ہونے سے دونوں ملکوں کے عوام کی جیت ہوئی ہے جو اپنے ثقافتی اور تاریخی رشتوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں۔
کٹھمنڈو کا دعوی ہے کہ چونکہ یہ علاقے کالی ندی کی ایک بڑی شاخ کے مشرق میں واقع ہیں اس لیے وہ نیپال کے ہیں۔ یہ دعوی اس حقیقت کے باوجود کیا جارہا ہے کہ پچھلے 150 سال سے جو نقشے دیکھنے کو ملے اور جو جائزے پیش کیے گئے ان میں یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ کالاپانی سے آنے والی دھارائیں ہی کالی ندی کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ علاقے کالی ندی کے مغرب میں ہیں جو ہندوستان کا حصہ ہے۔
یہ علاقے ہندوستان سے نیپال اور چین سے لگی سرحد کے نزدیک ریاست اتراکھنڈ میں ہیں اور کیلاش مانسروور یاترا پر جانے والے ہندوستانی یاتری ہمیشہ ان علاقوں سے ہوکر جاتے رہے ہیں۔ کیلاش کی چوٹی اور مانسروور پر جانے والے یاتریوں کو کافی دقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس لیے اس یاترا کو آسان بنانے کے لیے ہندوستان نے توا گھاٹ اور لیپو لیکھ کے درمیان ایک پکی سڑک کی تعمیر کی جس کا افتتاح ہندوستانی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس سال اپریل میں کیا۔ سڑک کے افتتاح کے فورا بعد نیپال کا رد عمل سامنے آیا جس میں دعوی کیا گیا کہ یہ سڑک نیپالی علاقہ سے ہوکر گزرتی ہے اور نئی دہلی سے اپیل کی گئی کہ وہ علاقہ میں تعمیرات روک دے۔ اس کے چند روز بعد یعنی 18 مئی کو نیپالی کابینہ نے ملک کے ایک نئے نقشے کو منظوری دی جس میں نیپال کے علاقہ کو لمپیا دھرا تک بڑھاکردکھایا گیا۔ نیا نقشہ وزیراعظم کے پی شرما اولی کی جانب سے نیپالی پارلیمنٹ میں جاری کیاگیا۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ نیپالی علاقوں کو واپس لینے کی یہ ایک جائز اور اہم کوشش ہے۔
نیپال کی اس حرکت پر ہندوستان نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کٹھمنڈو سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کی یکطرفہ کارروائی سے باز رہے اور ہندوستان کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کا احترام کرے۔ اسی کے ساتھ یہ امید بھی ظاہر کی گئی کہ نیپالی قیادت باقی ماندہ سرحدی تنازعہ کے حل کی غرض سے سفارتی بات چیت کے لیے مثبت ماحول پیدا کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی ہیں، دونوں کی ثقافت اور اقدار ایک جیسی ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام اپنی طرز زندگی اور مذاہب کے باعث ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کے درمیان معاشی تعلقات بھی کافی مضبوط ہیں۔ ہندوستان نیپال میں سب سے بڑا سرمایہ کار ہے اسی سے ثابت ہوجاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کافی قریبی رشتے ہیں۔ اس لیے ایسے وقت میں جب ساری دنیا کورونا وائرس کی وبا سے جوجھ رہی ہے اور خود نیپال اور ہندوستان کو اس وبا سے کافی پریشانی کا سامنا ہے، عوام کے دکھ درد کا مداوا کرنے کے لیے دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
نیپال کے نئے نقشے سے متعلق ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ اس پرانے نقشے سے بالکل مختلف ہے جو ملک کے آئین میں موجود ہے۔ لہذا نئے نقشے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ لہذا اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے نیپالی پارلیمنٹ میں ایک آئینی ترمیمی بل پیش کیاگیا جس پر 26 مئی کو بحث ہونی تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا کیوں کہ 26 مئی کو جن بلوں پر بحث ہونی تھی اس فہرست میں یہ بل شامل نہیں تھا۔ نیپال میں آئین کی ترمیم کے لیے دوتہائی اکثریت ضروری ہے۔
نئے نقشہ پر نیپالی پارلیمنٹ میں بحث اب ملتوی کردی گئی ہے۔ اس اقدام سے لگتا ہے کہ نیپال نے بڑی سوجھ بوجھ سے کام لیا ہے۔دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرکے ذہنی پختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ نیپالی پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم پر بحث نہ ہونے سے دونوں ملکوں کے عوام کی جیت ہوئی ہے جو اپنے ثقافتی اور تاریخی رشتوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں۔
Comments
Post a Comment